جنرل حمید گل کی تاریخی وراثت

sibte Hasanپچھلے ہفتے جنرل حمید گل نے اناسی برس کی عمر میں انتقال کیا۔ شاید ہی کسی پاکستانی جرنیل کواس کی زندگی اور بعد از موت اتنا خراج عقیدت پیش کیا گیا ہو گا۔ جتنا جنرل حمید گل کو پیش کیا گیا۔ تقریباً ہر کالم نگار نے ان پر لکھا اور انہیں عصر حاضر کا عظیم ترین انسان قرار دیا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ ہر قابل ذکر اخبارنویس کے ساتھ جنرل صاحب کے خصوصی تعلقات تھے۔ اور وہ باقاعدگی سے انہیں ان کی تحریروں پر اپنا نقطہ نظر ارسال کرتے تھے۔ تقریباً سب نے ہی لکھا ہے کہ وہ اپنے مداحوں سے زیادہ تنقید نگاروں کو عزیز رکھتے تھے۔ ہمیں ان کے ذاتی اوصاف سے نہ ہی انکار ہے اور نہ ہی کوئی پرخاش لیکن کسی انسان کے عظیم ہونے کا تعلق اس کے چھوڑے ہوے اثرات سے ہوتا ہے۔ عظمت بنیادی طور پر ایک انسانی پیمانہ ہے۔ جس سے کسی انسان کی انسانیت کے لیے ادا کی گئی خدمات کو ماپا جاتا ہے۔ اور وہ اتنا ہی عظیم مانا جاتا ہے جتنی وسعت سے انسانیت اس سے فیض یاب ہوتی ہے۔ بعض انسانوں کی عظمت کا فیصلہ ان کی زندگی میں ہی ہوجاتا ہے اور اکثر کے متعلق ان کی زندگی کے بعد یہ کام تاریخ سر انجام دیتی ہے۔اور تاریخ کسی کالم نگار کی گواہی سے زیادہ آوازخلق اور زمینی حقائق پر بھروسہ کرتی ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ جب کوئی انسان اس دنیا سے کوچ کر جاتا ہے تو ہمیں اس کے اوصاف حمیدہ کے علاوہ کوئی بات نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن جب کوئی انسان عام انسان نہ ہو بلکہ اس نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہو۔جس نے پورے خطے پر بے پناہ اثرات مرتب کیے ہوں ۔اور بزعم خود’ وقت کے مورخ ‘ تجزیہ کرنے کی بجائے قصیدہ گوئی میں مصروف ہوں تو پھر کوئی تو ہو جو اپنا اصل فرض ادا کرے۔ شکر ہے کہ معدودے چند سہی لیکن کچھ لوگوں نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔اگر کسی مرحوم کو کسی کی دعا سے یا اس کے کسی عمل صالح سے متاثر ہو کر قدرت جنت میں کوئی اعلیٰ مقام عطا کرتی ہے تو ہمیں اس سے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ ہمیں تو اس مقام سے مطلب ہونا چاہیے جو ان کی جدو جہد سے ہمیں اس دنیا میں عطا ہوا ہے۔جنرل حمید گل جرنیلوں کے اس قبیلے کے سرخیل تھے جو اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ مذہبی انتہا پسندی جس کو وہ فروغ دے رہے ہیں۔وہ ہمیشہ ان کے قابو میں اور سرکاری عسکری مراکز سے دور رہے گی۔ ان کا جنرل مشرف سے سب سے بڑا اختلاف ہی یہ تھا کہ ان کی امریکہ نواز پالیسیوں کی وجہ سے ان کے ان اثاثوں سے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ وہ امریکا اور تمام مغربی دنیا کے سب سے بڑے ناقد تسلیم کیے جاتے تھے۔ حالانکہ جب وہ پوری طرح مقتدر تھے تو انہوں نے وہی کچھ کیا جو امریکہ اورمغرب دل سے چاہتے تھے۔ جب وہ اقتدار سے سبک دوش ہوئے تو امریکہ اور مغرب کو نشانے پر رکھ لیا۔ اس یو ٹرن سے ہم اکثر حیران ہوا کرتے۔ اس مخالفت کا راز اس وقت کھلا جب صدر اسحاق پر کتاب لکھی گئی جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ انہیں چیف بنانا چاہتے تھے لیکن امریکہ خوش نہیں تھا۔ ویسے آپس کی بات ہے امریکہ نے بہت سارے معاملات پر ناراض ہو کر وہ قیمت چکائی ہے جن پر خوش ہوکر اس سے بچا جا سکتا تھا۔ جنرل گل اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ پاکستان افغانستان کو استعمال کر کے وسطی ایشیائی ریاستوں تک اپنا اثر و رسوخ بڑھا اور بھارت کو سبق سکھاسکتا ہے۔افغانستان کا مکمل اور بڑی حد تک اپنا دامن جلا چکنے کے بعد اسی نظریے کی مدد سے اچھے بھلے سر ابھارتے مسئلہ کشمیر کی لٹیا ڈبونے پر بھی ان کے یقین محکم میں مرتے دم تک سرمو فرق نہیں آیا تھا۔
جب ہم افغانستان میں ان کے کردار کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ پہلے پہل ستر کی دہائی میں افغانی مذہبی رہنماوں کو عسکری تربیت دے کر سردار داود کی حکومت کے خلاف استعمال کرنے کا خیال کسی جرنیل کو نہیں سوجھا تھا۔ ایک جمہوری لیڈر بھٹو نے اس کے بیچ بوئے ۔ جرنیلوں نے تو بعد میں ان کی آبیاری کی۔ بہت بعد میں جب برطانیہ اور امریکہ نے ان کی اپنے ہاں آنے پر احمقانہ پابندی عائد کی تو وہ پوری دنیا کو بتایا کرتے تھے کہ دیکھو مغرب مجھ سے کتنا خوف زدہ ہے۔ 65ء کی جنگ میں حمید گل کیپٹن تھے اور شکر گڑھ میں FIU کے مقامی یونٹ کے انچارج تھے۔ جب انہوں نے گرداس پور اور نواح سے آئے مہاجرین کی تقریباً 500 ایکڑزمینوں کو اپنے خاندان کے نام پر الاٹ کروایا۔ میرے دوست مجاہد حسین نے 1995میں ان واقعات پر ایک اہم رپورٹ شائع کی تھی۔ جسے انہوں نے بعد میں اپنی کتاب میں شامل کیا۔جنرل گل کے وکیل نے جو آج کل تحریک انصاف کے اہم لیڈر ہیں، مجاہد حسین کو نوٹس بھیجا۔ جس پر مجاہد نے تمام شواہد عدالت میں پیش کر دیے جس پر پسپائی اختیار کی گئی۔آج جو منجھے ہوئے لکھاری تجزیے کی بجائے قصیدے لکھ رہے ہیں ۔ ان کے پاس اس فساد فی الارض کے حق میں جو سب سے بڑی دلیل ہے جس پر وہ آج بھی مصر ہیں۔ کہ اگر اس وقت روس کو وہیں نہ روک لیا جاتا تو اس کا اگلا پڑاؤ پاکستان تھا۔ خود جنرل گل نے 1994میں ایک معروف خاتون صحافی کو انٹرویو دیتے ہوے تسلیم کیا تھا کہ روس کی افغانستان میں مداخلت کے بعد مزید کسی پیش قدمی کا ہمیں کوئی اشارہ نہیں ملا تھا۔ 1979ء سے 1989ء تک اس نام نہاد جنگ کا بھی سن لیجیے۔ اس دس سالہ جنگ میں روس کے جو فوجی جان سے گئے ان کی تعداد 12000تک بتائی جاتی ہے۔ اور جو افغان شہری جان سے گئے وہ دس لاکھ سے زائد ہیں اور اتنے ہی ساری زندگی کے لیے اپاہج بنا دیے گئے۔ اور اس بدقسمت سرزمین کا کوئی چپہ ایسا نہیں جہاں بارودی سرنگ دبی ہوئی نہ ہو۔ جس سے آج بھی روزانہ انسان اور جانور نشانہ بن رہے ہیں۔ اس سارے کیے کراے کے علاوہ پچاس ہزار سے زائد ان بے گناہ پاکستانیوں کا خون کس کے سر ہے جو کسی بیرونی حملہ آور فوج کے ہاتھوں نہیں مارے گئے بلکہ انہی کے لاڈلوں نے یہ خون بہایا ہے۔ ہماری بہادر افواج آج جس طرح روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ان قصیدہ گو مورخین میں سے کوئی ہے جو قوم کو بتا کر تاریخ اور اپنے ضمیر کا حساب بے باق کر سکے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *