بے گانی شادی میں عبداللہ دیوانہ

Timojan Mirzaوطن عزیز میں حسب معمول سیاسی ماحول گرم ہے اور گرم کیوں نہ ہو، آخر عوام کی دل بستگی کا سامان بھی تو چاہیے۔ آج یہ گیا، کل وہ آیا، آج ایک پارٹی کے کارکن نعرے لگاتے، ناچتے کودتے دکھائی دیتے ہیں، کل دوسری پارٹی میں یہی سماں ہوتا ہے۔ پھر کارکن اترا اترا کر ایک دوسرے کو دکھاتے ہیں، کہیں فقرے بازی اور کہیں سر پھٹول اور اس کے بعد پھر گھر جا کر بجلی جانے کا شکوہ اور حیرانی کہ کہیں نہ کہیں تو ان کے دیوتاؤں میں سے کوئی سنگھاسن پر بیٹھا ہی ہے پر حالات ہیں کہ بہتر ہونے میں آتے ہی نہیں۔ حالات کے جلد از جلد بہتر ہونے کی یہی چاہ انہیں بار بار شدت سے اپنے پسندیدہ رہنماؤں کی حمایت پر اکساتی ہے اور وہ بتدریج ہونے والی بہتری کو بھی دیکھنے سے قاصر رہتے ہوئے افراد سے کھیلنے والی قوتوں کے ہاتھوں کھلونا بنے رہتے ہیں۔
ایاز صادق صاحب کے خلاف فیصلہ پر داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے لوگوں کو دیکھا، حسب معمول چہرے پر مسکراہٹ آ گئی کہ چلو چار دن اور کھیل دیکھنے کو ملا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ سوچ کر مزید مسکرایا کہ اگر یہ فیصلہ عمران خان کے خلاف آیا ہوتا تو انصاف کی علامتیں بے انصافی کے بت کہلاتے، دشنام طرازی کا کیسا بازار گرم ہوتا اور رات جوان ہونے سے پہلے انٹرنیٹ اور کچھ مخصوص چینلز ان بیچاروں پر بغیر بیہوش کیے عمل جراحی کا مظاہرہ کر رہے ہوتے۔ پھر ’فاتح‘ کی تقریر سنی۔ یا حیرت! کئی لمحات گزر گئے، اب تک موصوف کا زبان پر لامتناہی گرفت کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا اور امید سی بندھی کہ شاید وقار کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ لیکن جلد ہی آس کی ڈور ٹوٹ گئی اور ایک دفعہ پھر انہی الفاظ کی تکرار شروع ہو گئی جن کا موصولی ہدف ہونے پر موصوف کو خود افسوس ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس دفعہ کچھ مختلف رویے کا مظاہرہ کیا جاتا اور اس پے در پے سلسلہ کو ختم کیا جاتا کہ جس میں ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا عام سی بات ہو گئی ہے گو اس ضمن میں موصوف کا پلڑہ بھاری ہی ہے۔ چلئے، انتظار کی گھڑیاں تمام ہوئیں اور فیصلہ آ ہی گیا۔ ہم میں سے کئی کو یقین ہے کہ سپریم کورٹ فیصلہ پر عملدرآمد وقتی طور پر کالعدم قرار دے دے گی اور بالفرض انتخابی عمل کا موقع ایک بار پھر آ ہی جاتا ہے تو نتائج پہلی بار سے کچھ مختلف نہ ہون گے۔ مسلم لیگ (ن ) کی حالیہ فتوحات اور تحریک انصاف کی گرتی ہوئی مقبولیت کے تناظر میں ایاز صادق جیسے مضبوط امیدوار کو ان کے علاقہ سے ہرانا شاید ممکن نہ ہو گا اور بالفرض عمران خان اپنی موجودہ نشست چھوڑ کر (مقننہ کے اجلاس میں تو وہ جاتے ہی نہیں تو نشست کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے) خود مقابلہ پر اتر آتے ہیں تو وہ ایسا خطرہ کبھی مول نہ لینا چاہیں گے کہ وہ چاہے کم فرق ہی سے سہی، انتخاب میں شکست کا سامنا کریں۔ اس عمل میں ہار جیت کا امکان تو رہتا ہی ہے اور دعوے وہ جتنے مرضی کریں، اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتے کہ برتری تو ایاز صادق کو ہی حاصل تھی کیونکہ جن ووٹوں کا قضیہ چھیڑا گیا ان میں سے کئی تو ان ہی کے نام پر ڈالے گئے تھے۔ تو یہ متوقع شکست انہیں کسی بھی ایسے اقدام سے باز رکھے گی (حالانکہ موصوف خطرات کا سامنا کرنے میں اور موقع پر اس کی ویڈیو بنوا لینے پر بھی حیران کن حد تک دسترس رکھتے ہیں) کیونکہ ہارنے کی صورت میں عزت سادات بھی ہاتھ سے جانے کا خطرہ ہے۔ یہاں پر یہ غور طلب بات ہے کہ آخر وہ کون سی قوتیں ہیں جو ڈیوٹی پر موجود حکام اور عملہ کو آسان باش رہتے ہوئے بے قاعدگیوں کے بارے میں لاپروائی برتنے کو کہتی ہیں۔ ہماری سستی اور لاپروائی سے عبارت سرکاری مشینری تو چاہتی ہی ایسا ہے کہ کچھ بھی نہ کرنا پڑے اور سارا عمل خود ہی تکمیل کو پہنچ جائے جبکہ وہ روزینہ جیب میں ڈال کر چلتے بنیں مگر سرکاری ہرکارے بہرحال کارکردگی دکھانے والی جگہوں پر چستی کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہیں بعد ازاں عتاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایاز صادق اور عمران خان کے حلقہ میں بھی کچھ ایسا ہی تھا کہ دونوں ہی مقتدر قوتوں کے نمائندوں کے منظور نظر ہیں اور ایسی کوتاہیوں کی صورت میں کسی ایک کی ناراضی بھی مسئلہ کھڑا کر سکتی تھی مگر ادھر بھی ایسا ہی کیا گیا تو بات صرف موجود عملہ پر ڈال دینے سے کچھ بنتی نہیں۔ اور پھر عمران خان کو بھی چند مخصوص حلقوں کے بارے میں علم ہونا کہ ثبوتوں کی واضح عدم موجودگی کی صورت میں بھی کچھ نہ کچھ ثابت کیا جا سکتا ہے، سوچنے پر ضرور مجبور کرتا ہے۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے کہ بروز انتخاب کہا جائے کہ صاحبان آپ بے قاعدگیوں کی پروا نہ کیجئے گا اور ادھر ہارنے والے کے کان میں یہ بات ڈال دی جائے کہ جناب آگے بڑھیے، آواز بلند کیجئے، بہت کچھ نہ سہی، بہرحال نزاع کو فروغ دینے کو مواد موجود ہے۔ کرسی اقتدار کا سنہرا خواب تو پھر آگ میں کودنے پر مجبور کر دیتا ہے اور ہم عوام میں سے کچھ کی قربانی اور قوم کے مسلسل ہیجان میں مبتلا رہنے کو روتے ہیں؟
تو جب نتیجہ ڈھاک کے تین پات ہی رہنا ہے تو آخر اس سب کھٹ راگ کا مقصد کیا ہے؟ چلئے بے قاعدگیوں پر اکسانے والے بھی موجود تھے اور پھر ان کی نشاندہی کرانے پر مجبور کرنے والے بھی تو بھائی ایسا کیا ہی کیوں جاتا ہے؟وجہ شاید یہی ہے کہ اس سب کے نتیجہ میں عوام کی ایک غالب اکثریت انتخابی عمل پر بحیثیت مجموعی اعتماد کی کمی کا شکار رہتی ہے۔ ان کے تحت الشعور سے یہ بات نکل نہیں پاتی کہ وہ جتنے بھی جوش و خروش سے اس عمل میں حصّہ لیں، نتائج بہرحال ان کی مرضی و منشا کے خلاف ہی ہوں گے۔ اس بے یقینی کے ساتھ ساتھ عوام ہیجان میں مبتلا رہتے ہیں کیونکہ وہ کہیں نہ کہیں اپنے نجات دہندہ کا ہی انتظار کر رہے ہوتے ہیں جو آ کر ان کے نہ صرف روز مرہ بلکہ تمام مسائل ایک اشارے سے حل کر دے۔ اس سب عمل میں عوام کا شعوری ارتقا نہ صرف جمود کا شکار رہتا ہے بلکہ کئی صورتوں میں ارتقائے معکوس کا روپ بھی دھار لیتا ہے کہ جس میں ایک مایوسی آ لیتی ہے اور پھر معاشرہ میں جو کچھ بھی ہوتا رہے، افراد اس سے لاتعلّق رہنا پسند کرتے ہیں۔ یوں آپ اپنی ہی طرح ترقی پذیر اقوام کے مقابلہ میں کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں اور ایک ایسی تجربہ گاہ بنے رہتے ہیں جہاں بین الاقوامی قوتیں مختلف ادوار میں مختلف ہیجان انگیز حالات بپا کر کے اپنی مرضی کے سرفروش یا موزوں الفاظ استعمال کیے جائیں تو خرچ ہوجانے کے قابل تجرباتی چوہوں سے لے کر حالات کو مٹھی میں لینے کے لئے شعور سے عاری مصنوعی انسان پیدا کرتی رہتی ہیں۔ ایسے ممالک میں جتنے بھی نظریات پیش کیے جاتے ہیں، علم، سوچ، شعور اور مکالمہ کی کمی کی وجہ سے وہ سب ناکامی ہی پر منتج ہوتے ہیں اور ایسا ہونے میں ہی بین الاقوامی کھلاڑیوں کا فائدہ ہوتا ہے کیونکہ اس بوائی میں ایک ہی بڑی اور اچھی فصل بونے کی بجاے کئی چھوٹی چھوٹی اور ناقص فصلیں بشمول طفیلی بوٹیاں بوئی جاتی ہیں اور وقت کی ضرورت کے مطابق مرضی کی فصل کاٹ کر استعمال کر لی جاتی ہے۔ رہی دوسری فصلیں تو جب بیج ہی ناقص ہو تو ان کا پھلنا پھولنا نقص ہی کی بڑھوتری ہے۔ اس سب بیانیہ میں جمہوریت کی خوبی قطعیت سے بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ عوام میں اس جذبہ کے مفقود ہونے کا ذکر ہے کہ جس کی وجہ سے وہ اپنی بہتری کی طرف سفر شروع کرنا تو درکنار ایسی خواہش بھی کر سکیں۔ چاہیے تو یہ کہ حکمران جو بھی ہوں، انہیں نہ صرف کام کرنے دیا جائے بلکہ کام کرنے پر مجبور کیا جائے اور کسی بھی ہیجان انگیزی کی کوشش کو باہمی تعاون سے رد کر دیا جائے کہ قوم کسی ایک ما فوق الفطرت کرشماتی شخصیّت سے نہیں بلکہ افراد سے بنتی ہے۔ ایک اور ادراک یہ بھی ضروری ہے کہ ذہنی طور پر ہیجان انگیزی کی رسیا اور شعوری تجزیہ سے محروم قوموں میں ایسی کرشماتی شخصیت کا ظہور ہو ہی نہیں پاتا جس کا انتظار نسلیں کرتی ہیں بلکہ اجتماعی شعور کی بتدریج پرورش کے نتیجے ہی میں ایسے حالات تشکیل پاتے ہیں کہ ایسے بلند شعور رہنما کا ظہور ہو سکے تو صاحبان چمکتے کو سونا جان کر خریدار بننے کی بجاے پیہم تحقیق سے راز کیمیا پانے کی کوشش کیجئے اور حکمرانوں کی لایعنی لڑائیوں میں اپنا آپ لگا دینے کی بجاے اصل تبدیلی کی طرف قدم بڑھائیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *