ماں کی اچھی خوراک صحت مند بچے کی ضامن

Best-food-for-Pregnant-womenسائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر خواتین حمل سے قبل اور دوران حمل صحت بخش غذا کا استعمال کریں تو نوزائیدہ بچوں میں دل کے امراض کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ امریکہ میں 19 ہزار حاملہ خواتین اور اُن کی خوراک پر کی جانے والی ایک تحقیق کے بعد حاملہ خواتین اور صحت بخش خوراک کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔ صحت بخش خوراک میں تازہ مچھلی، پھل، خشک میووں اور سبزیوں کو شامل کیا گیا تھا۔

وہ خواتین جو حاملہ ہوں یا جو حاملہ ہونا چاہتی ہیں اُنھیں پہلے سے ہی یہ مشورہ دیا جاتا رہا ہے کہ وہ مخصوص اضافی چیزوں کا استعمال کریں۔ پیدائشی نقائص جیسے ریڑھ کی ہڈیوں میں خلا سے بچنے کے لیے ماہرین فولک ایسڈ اور مضبوط ہڈیوں اور دانتوں کے لیے وٹامن ڈی استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ انگلینڈ میں حکومت کی طرف سے ’صحت مند آغاز‘ کے نام سے سکیم کے تحت حاملہ خواتین کو پرچیاں فراہم کی جاتی ہیں جن سے وہ دودھ اور سبزیوں کی خریداری کر سکتی ہیں۔

سائنسی جریدے ’آرکائیوز آف ڈیزیزز‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں شامل نصف خواتین کے بچے دل کے امراض کا شکار تھے جبکہ نصف خواتین کے بچوں میں ایسا نہیں تھا۔ جب تحقیق کرنے والوں نے ان دونوں گروپوں کی خواتین کی خوراک کا جائزہ لیا تو انھیں یہ پتہ چلا کہ صحت بخش خوراک کا استعمال کرنے والی خواتین کے بچوں میں پیدائشی طور پر دل کے امراض کا تناسب کم تھا۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہےکہ صحت مند خوراک کا استعمال زیادہ کرنے والی ایک چوتھائی حاملہ خواتین کے بچوں میں پیدائشی طور پر دل کے امراض کا خطرہ اُن ایک چوتھائی خواتین کے بچوں سے کم تھا جو صحت بخش غذا کم استعمال کرتی تھیں۔ دیگر عوامل مثلاً سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین یا جنھوں نے فولک ایسڈ کا کم استعمال کیا ہو، کو مدنظر رکھنے کے باوجود دونوں گروپوں میں یہ فرق واضح تھا۔

بچوں میں پیدائشی طور پر دل کے امراض عام ہیں اور برطانیہ میں ہر ہزار بچوں میں سے نو بچہ اس بیماری کا شکار ہوتا ہے۔ کچھ نقائص جیسے دل میں سوراخ کا فوری علاج نہیں کیا جاتا کیونکہ وقت کے ساتھ اس کے خود بخود بہتر ہونے کا امکان رہتا ہے اور اس سے مزید مسائل پیدا ہونے کا خطرہ کم رہتا ہے لیکن دیگر امراض سنگین اور مہلک ہو سکتے ہیں۔برطانوی دل کے امراض کی فاؤنڈیشن کی سینیئر ماہرغذائیت،وکٹوریہ ٹیلر کہتی ہیں: "یہ ایک دلچسپ تحقیق ہے جو زندگی کے آغاز سے ہی صحت مند غذا کے استعمال کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے"۔ جیسا کہ اس تحقیق سے واضح ہے، صحت مند خوراک حاملہ ہونے سے پہلے، دوران حمل اور زچگی کے بعد ماں اور بچے دونوں کے لیے مفید ہے۔ ایسے میں کسی مخصوص ڈائٹنگ پر توجہ دینے کے بجائے مکمل خوراک کا خیال رکھنا چاہیے۔

اگرچہ صحت مند خوراک کا استعمال پیدائشی دل کے امراض سے حفاظت کی مکمل ضمانت نہیں ہے لیکن یہ خواتین کو حمل سے قبل صحت مند غذا کے رجحان کی طرف راغب کر سکتا ہے۔

پاکستان میں بھی ایسے بچوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو اپنی پیدائش کے بعد صحت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اسکی بڑی وجہ خواتین میں دوران حمل خوراک کے معاملے میں لاپرواہی ہے۔ دوسری بڑی وجہ پاکستان میں بڑا طبقہ غربت کا شکار ہے۔ خواتین دو وقت کی روٹی کہ لئے سخت محنت کرتی ہیں، وہ کھیتوں میں کام کرتی ہیں، سکولوں ،کالجوں، دفتروں ،اسپتالوں ، گھروں اورڈیروں میں دوران حمل بھی کام کرتی ہیں۔ جس کے عوض ملنے والے معاوضے سے ان کا گھر چلتا ہے۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے’ بہتر زندگی سنٹرز ‘کا قیام خوش آئیند ہے ۔ اس کے علاوہ سرکاری اسپتالوں میں بھی اقدامات کئے گئے ہیں مگر یہ ناکافی ہے۔سرکاری اسپتالوں کی حالت ہم سے ڈھکی چھپی نہیں، کئی سرکاری اسپتالوں کا اب تک افتتاح نہیں ہو سکا اور کئی سرکاری اسپتال بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ہر سال قریب 1800افراد ڈاکٹر بنتے ہیں مگر ان میں سے چند ہی پریکٹس کر کے باقاعدہ شعبۂ طب اختیار کرتے ہیں۔ گورنمنٹ کی سطح پر نہ صرف مزید اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ کالج اوریونیورسٹی کی سطح پر طلبہ و طالبات کو مستقبل میں شعبہ طب کو اپنانے کے لئے سراہنے کی ضرورت ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان کو دوران حمل خواتین کی بہتر صحت کہ لئے سرکاری سطح پر اقدامات کی بھی سخت ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *