شہداد پور کی معمار بچی اور ماچس کی تیلیوں سے گھر

anwersonمعروف قانون داں اور ہمارے دوست شبیر شر نے 21 اگست کو فیس بْک پر ہمیں ایک گھر کی تصویر میں شریک کیا۔ یہ گھر شہداد پور کی ایک بچی نے ماچس کی تیلیوں سے بنایا ہے۔ اس تصویر کو دیکھ کر میرے منفی اور زود رنج ذہن میں دو باتں آئیں۔
پہلی تو یہ کہ اس بچی میں فنِ تعمیر میں کچھ کر دکھانے کی فطری صلاحیت اور رحجان ہے لیکن کیا اس بچی کو مناسب تعلیم اور وہ مواقع مل سکیں گے جن میں اس کی صلاحیتیں اپنے رحجان کے مطابق پرورش پا کر اپنے تمام امکانات کا اظہار کر سکیں؟ پاکستان اور خاص طور پر سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں میں تعلیم کا جو حال ہے وہ کسی سے چھپا نہیں ہے۔ تعلیم کا نظام جو برصغیر میں ابتدا سے ہی سے طبقاتی تھا پاکستان کے قیام اور 70 کی دہائی میں قومیائے جانے اور بعد کی جزوی نجکاری اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے بعد مکمل طور پر اس حد تک طبقاتی ہو چکا ہے کہ غریب اور کم آمدنی والے لوگوں کے لیے اپنے بچوں کو ان کے رحجان کے مطابق تعلیم تو کیا، تعلیم دلانا ہی ممکن نہیں رہا۔ اس صورت حال میں شہداد پور کی اس بچی کا مستقبل کیا ہو گا اور یہ صرف ایک اس بچی ہی کا معاملہ نہیں ہے، ایسے لاکھوں نہیں تو ہزارہا بچوں کا مستقبل ہر سال اس طبقاتی بندر بانٹ کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ اسی بندر بانٹ کے نتیجے میں پاکستان کی تمام دولت پر اجارہ داری رکھنے والوں کی تعداد 20 خاندانوں سے 25 ہزار سے کچھ زیادہ خاندانوں تک پہنچ چکی ہے۔ دس لاکھ سے زائد خاندانوں کی ایک ایسی مڈل کلاس کی پیدائش اس کے علاوہ ہے، جس کی ماہانہ آمدنی دو ڈھائی لاکھ روپے سے زائد ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ پسماندہ اور محنت مزدوری کی کم آمدنی سے بچوں کی پرورش کرنے والوں کے لیے تعلیمی نظام کے پاس کچھ نہیں ہے۔
دوسری دوسری بات گھر کا ماچس کی تیلیوں سے بنایا جانا ہے۔ کیا ماچس کی تیلیوں سے گھر بنانے کے تصور کا جنرل ضیا الحق کے دور سے کوئی تعلق نہیں؟
پاکستانی معاشرے میں اسلحے اور بارود کی آمد جنرل ضیاالحق کے دور ہی سے شروع ہوئی۔ اسی دور میں امریکی مفادات سے ہمارے ملک نے ایک نئی ہم آہنگی پیدا کی اور مبینہ تزویراتی گہرائی (اسٹریٹیجک ڈیپتھ) کا تصور ایجاد کیا گیا اور اس مقصد کے لیے کرائے کی سستی لڑاکا افرادی قوت پیدا کی گئی اور سستی جنگجو افرادی قوت کے لیے مذہب کو استعمال کیا گیا۔
اگر سب کو نہیں تو کچھ لوگوں کو ضرور یاد ہو گا کہ اس دور میں جنگجوؤں اور شدت پسندوں کو دنیا بھر میں کیسے ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا تھا اور ان کی شان میں کیا کیا قصیدے نہیں پڑھے جاتے تھے۔ آج اگر وہ تمام باتیں نئی نسل کے لاشعور میں موجود ہیں تو اس پر حیران ہونے Match Stick houseکی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اس بات پر حیرت ضرور ہونی چاہیے کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے ہماری تمام نام نہاد مخلصانہ کوششیں کامیاب کیوں نہیں ہوتی ہیں۔
ہمارے دوست احمد فواد انگریزی کے استاد اور اردو اور پشتو کے شاندار شاعر ہیں۔ ان کی ایک نظم میں ایک ٹکڑا ہے:
جہاں بارود رکھا ہو
وہاں ماچس کی ڈبیا بھی
کہیں سے مل ہی جاتی ہے
ہمارے ملک کو بنانے والوں میں تو نہیں لیکن چلانے والوں میں سویلین اور غیر سویلین دونوں ہی شامل رہے ہیں۔ غیر سویلینز زیادہ عرصے اور زیادہ زیادہ عرصے تک حکمراں رہے ہیں۔ انھیں یہ بھی امتیاز حاصل رہا ہے کہ ان کے طرز حکمرانی، پالیسیوں اور اقدامات پر سوال بھی نہیں اٹھایا جاتا۔ لیکن اس کے باوجود کسی نے نہیں سوچا اب تک یہ نہیں سوچا کہ معاشرے میں اسلحے کی موجودگی ہمیں کہاں لے جائے گی۔
دو صوبوں میں مسلح مزاحمت کی صورت حال کئی سال سے باقاعدہ موجود ہے۔ پنجاب اور سندھ میں اسلحے کو موجودگی اور استعمال قدرے مختلف نوع کا ہے لیکن مسلح گروہ موجود ہیں اور اسلحے کا استعمال اب حیران کن نہیں رہا۔ اس دوران ملک کو اسلحے سے پاک کرنے کی کئی مہمیں چلائی گئیں اور کئی آپریشنز بھی کیے گئے ہیں جن کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد بھی کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن کیا یہ حیران کن نہیں کہ ہمارے ذرائع ابلاغ کو کبھی یہ معاملہ ایسا نہیں لگا کہ کبھی اس پر بات ہی کی جائے؟ یہ پوچھا جائے کہ یہ جدید ترین ہتھیار اس ملک میں کہاں اْگتے ہیں یا کس کان سے نکلتے ہیں اور اگر یہاں اگتے یا نکلتے نہیں تو کہاں سے آتے ہیں؟ اور کون لوگ ہیں جو ملک میں اسلحہ اور بارود لاتے ہیں؟ اور اسے روکنے کی ذمہ داری کن اداروں پر عاید ہوتی ہے؟
اس میں تو شک نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی کارروائیوں کے دوران اسلحہ استعمال کرنے والے ہزاروں لوگوں کو پکڑا ہے۔ لیکن اب تک اسلحہ لانے والے کتنے لوگ پکڑے گئے ہیں؟ اور ان میں سے کتنے لوگوں کو سزائیں ہوئی ہیں؟ کیا ایسا نہیں ہو گا کہ اگر مختلف ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے بارود کی آمد پر ہی قابو پالیا جائے تو دہشت گردی کچھ عرصے بعد ممکن نہیں رہے گی؟ یا یہ سمجھ لیا جائے کہ اسلحے کا کاروبار کرنے والے قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں سے زیادہ طاقتور ہیں اور انھیں پکڑنا کسی ریاستی ادارے کے بس کی بات نہیں؟
شہداد پور کی بیٹی نے ماچس کی تیلیوں سے گھربنایا ہے، اس کے ذوق تعمیر کی تحسین ضروری ہے لیکن کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ اس بیٹی اور اس جیسے دوسرے کروڑوں بیٹے بیٹیوں کو ایسے گھروں میں رہنا نصیب ہو جہاں دیوار و در میں گندھک اور بارود نہ رکھا ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *