کیاروزانہ8گلاس پانی پینا ضروری ہے؟

water2صحت کے بارے میں کئی مفروضے زبان زدِ عام ہیں۔ لوگ ان مفروضوں کی بنیاد پر اپنے کھانے پینے کے بارے میں غیر معمولی طور پر حساس ہو جاتے ہیں ۔پانی جسم کی بنیادی ضرورت ہے لیکن اس کے بارے میں مشہور مفروضے کیا حقائق کے ساتھ لگاکھاتے ہیں؟ اس سوال کا جواب’ انڈیانا اسکول آف میڈیسنز‘ کے پروفیسرارون سی کیرول نے بہت وضاحت سے دیا ہے۔ ارون سی کیرول کہتے ہیں کہ یہ مفروضہ کہ’’ایک دِن میں کم از کم ب8گلاس پانی پینا ضروری ہے‘‘۔ یہ مکمل طور پر بے بنیاد بات ہے ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر دن میں پانی کے 8گلاس ناپیے تو ڈی ہائیڈیشن کا خطرہ ہو سکتا ہے اور اسی طرح لوگ کافی کو بھی ڈی ہائیڈریشن کا سبب سمجھتے ہیں ۔ارون سی کیرول کا کہنا ہے کہ اس مفروٖضے کی بنیاد تلاش کرنے کے لئے ہمیں ذرا پیچھے جانا ہو گا۔ 1945میں’’فوڈ اینڈ نیوٹریشن بورڈ‘‘ نے اپنی تجاویز میں کہا تھا کہ ہر نارمل شخص کو دن میں کم از کم اڑھائی لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لوگوں نے یہاں سے 8گلاس پینے کا مفروضہ گھڑ لیا حالاں کہ وہ تجاویز غور سے پڑھی جائیں تووہاں یہ جملہ بھی لکھا ہوا ملتا ہے کہ’’پانی کی کافی مقدار تیار کھانوں میں موجود ہوتی ہے‘‘۔ اس جملے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔
پروفیسر ارون کا کہنا ہے کہ پانی کی اچھی خاصی مقدار سبزیوں،پھلوں،جوسز اور دیگر مشروبات میں پائی جاتی ہے حتیٰ کہ کافی بھی اپنے اندر کافی مقدار میں پانی رکھتی ہے۔ ارون کا کہنا ہے کہ پانی جسم کے لئے بہت اہم ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ تمام پانی جو آپ پیتے ہیں وہ پورے کا پورا جسم میں جذب ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ بہت زیادہ مقدارمیں خالص پانی پی لینا آپ کو ڈی ہائیڈریشن سے بچا لیتا ہے۔
پروفیسر ارون کا موقف ہے کہ آپ کو پیاس لگنے کے بارے میں زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کاکوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے کہ صحت مند لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں بہت زیادہ مقدار میں پانی پیتے ہیں۔ ارون کا کہنا ہے کہ ابلاغی اداروں نےwater اس مفروٖضے کو بڑے پیمانے پر پھیلایا ہے جس کے نتیجے میں پانی کی مہر بلب (sealed)بوتلوں کی فروخت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ارون نے اپنی تحقیق کی روشنی میں کہا ہے کہ8گلاس روزانہ پینے کے مفروضے کے بارے میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔آپ معمول کے مطابق کھائیں پئیں اور یقین رکھیں کہ اشیائے خورونوش میں پانی کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے ۔اچھی صحت کے لئے صرف خالص پانی کی زیادہ مقدار جسم میں انڈیلتے رہنا ضروری نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *