کیا سرمایہ داری نظام غربت پیدا کرتا ہے؟

professor-Ricardo-Hausmannآج کل ہر معاشرتی یا معاشی بیماری، خرابی، یا برائی کو سرمایہ داری نظام کے کھاتے میں ڈالنے کا رحجان بڑھ گیا ہے۔ غربت، عدم مساوات، بیروزگاری، گلوبل وارمنگ غرض دنیا کے کسی بھی مسئلے پر بحث مباحثہ ہو انگلیاں نظام سرمایہ داری کی طرف اٹھنے لگتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں چنداں حیرت نہیں ہوئی جب پوپ فرانسس بولیویا میں اپنے شیدائیوں کے ہجوم عظیم سے خطاب کے دوران سرمایہ داری پر برس پڑے۔ محترم پوپ نے ارشاد فرمایا، "یہ نظام اب ناقابل برداشت ہے. یہ صرف میری رائے نہیں، کھیتوں میں کام کرنے والے کسان اور مزارع، فیکٹریوں میں کام کرنے والے محنت کش، سماج، اور عوام بھی یہی کہتے ہیں حتیٰ کہ ہماری دھرتی ماں کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ یہ (سرمایہ داری) نظام اب ناقابل برداشت ہے."
کیا یہ مسائل جنہوں نے پوپ فرانسس جیسے ٹھنڈے مزاج کے انسان کو بھی مشتعل کر دیا، واقعی بے لگام سرمایہ داری کے پیدا کردہ ہیں؟ یا یہ مسائل نظام سرمایہ داری کے اپنی توقعات پر پورا نہ اترنے کا نتیجہ ہیں؟ کیا ان مسائل کا حل یہ ہے کہ سماجی انصاف پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے سرمایہ داری نظام کو لگام ڈال دی جائے؟ یا ان رکاوٹوں کو جو کہ سرمایہ داری نظام کی توسیع میں رکاوٹ ہیں، ہٹا دیا جائے؟
لاطینی امریکہ، افریقہ، مڈل ایسٹ، اور ایشیا کے ممالک کی حد تک تو ان مسائل کا دوسرا حل ہی قابل عمل نظر آتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے ہمیں ماضی میں جا کر یہ معلوم کرنا ہو گا کہ حضرت کارل مارکس کے ذہن میں مستقبل کا کیا تصور یا نقشہ تھا؟
مارکس کے نزدیک سرمایہ داری کا تاریخی کردار بس اتنا تھا کہ وہ پیداوار کو تسلیم کرے۔ وہ سمجھتا تھا کہ خاندانی فارموں، دستکاری کے نجی مراکز، اور دکانداروں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ خیال رہے کہ نپولین حقارت سے انگریزوں کو دکانداروں کی قوم کہتا تھا. اس حقیر بورژوا یعنی متوسط طبقے کی معاشی سرگرمیاں دیو ہیکل کمپنیاں مثلاً ’ زارہ، ٹویوٹا، ائیربس، اور وال مارٹ ‘کچل دیں گی۔ نتیجہ یہ کہ ذرائع پیداوار کام کرنے والوں یعنی کسانوں، کاریگروں یا دستکاروں کے ہاتھوں سے نکل جائیں گے اور ان پر سرمایہ داروں کا قبضہ ہو جائے گا۔ مزدوروں اور محنت کشوں کے پاس ان کی محنت رہ جائے گی اور وہ مجبور ہوں گے کہ اپنی محنت کو حقیر سے معاوضے کی خاطر بیچ دیں۔ بہرحال کام کرنے والے مزدوروں کی زندگی ’بیروزگاروں کی فوج‘ سے بہتر ہو گی۔ بے روزگاروں کی یہ فوج اتنی بڑی ہو گی کہ برسرروزگار مزدوروں کو ہر وقت اپنی ملازمت کے چھوٹ جانے کا ڈر رہے گا لیکن یہ اتنی بڑی بھی نہیں ہو گی کہ اسے کام پر لگا کر اس کی فاضل قدرو قیمت سے استفادہ نہ کیا جا سکے۔
تمام سابقہ سماجی طبقوں کی ورکنگ کلاس میں تبدیلی اور ذرائع پیداوار کی سرمائے کے مالکان، جن کی تعداد مسلسل گھٹتی رہے گی، کے ہاتھوں میں منتقلی کے نتیجے میں پرولتاری انقلاب کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ تب ہی انسانیت کو مکمل انصاف مل سکے گا۔ کارل مارکس کے الفاظ میں ہر فرد کام اپنی صلاحیت کے مطابق کرے گا لیکن معاوضہ اتنا ہی لے گا جو اس کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہو گا۔
بلاشبہ شاعر اور فلسفی پال ولیری کا یہ فرمان درست ہے، ’’دوسری چیزوں کی طرح مستقبل بھی اب ویسا نہیں رہا جیسا یہ ہوا کرتا تھا‘‘۔ بہرحال ہمیں مستقبل کے بارے میں مارکس کی مشہور پیش گوئیوں کے غلط ثابت ہونے پر اس کا مضحکہ اڑانے کی ضرورت نہیں۔ طبیعیات دان نیلسن بوہر نے کیا خوب کہا ہے، ’’پیش گوئی مشکل کام ہے خصوصاً مستقبل کے بارے میں پیش گوئی‘‘۔
ہم جانتے ہیں کہ ابھی کمیونسٹ مینی فیسٹو (منشور) کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ یورپ اور امریکہ میں مزدوروں اور کاریگروں کی اجرت بڑھنا شروع ہو گئی اور یہ اضافہ آنے والے 160 برسوں میں مسلسل ہوتا رہا۔ نتیجہ یہ کہ مزدور اور کاریگر کاروں اور مکانوں کے مالک بن گے۔ نیز وہ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن وصول کرنے لگے۔ دوسرے لفظوں میں مزدور اور کاریگر خود بورژوا یعنی شہری متوسط طبقے کا حصہ بن گئے۔ آج سیاستدان سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے وعدے تو کرتے ہیں لیکن سرمائے کے زور پر ذرائع پیداوار پر قبضہ کرنے کی بات کوئی نہیں کرتا۔
نظام سرمایہ داری میں ذرائع پیداوار کی تنظیم نو کرکے پیداور بڑھانے کی صلاحیت یا خوبی موجود ہے۔ فرموں نے داخلی اور (دیگر اداروں کے ساتھ) ہر سطح پر محنت کشوں کو ان کی مہارت کی بنیاد پر تقسیم (ڈویژن آف لیبر )، جسے آدم سمتھ نے 1776ء میں نشوونما کا انجن تصور کیا تھا، کرکے علم و ہنر کی تقسیم یا درجہ بندی کو ممکن بنا دیا۔ یوں کارپوریشن بطور جسم اپنے مختلف حصوں کے مقابلے میں مجموعی طور پر کہیں زیادہ علم و ہنر کی مالک بن گئی۔ نیز افراد کے درمیان علم، مہارت، اور تجربے کے تبادلے اور اشتراک باہمی نے کارپوریشن کے نیٹ ورک کو مسلسل پھلنے پھولنے کے قابل بنا دیا۔
دور حاضر کی کارپوریشن کے پاس ہر شعبے مثلاً پیداوار، ڈیزائن، مارکیٹنگ، سیلز، فنانس، اکاؤنٹنگ، انسانی وسائل کا انتظام، لاجسٹک، ٹیکسز اور قانونی معاہدوں کے ماہرین موجود ہوتے ہیں۔ اب پیداوار سے مراد ان عمارتوں اور مشینوں، جنہیں داس کیپٹل اپنی ملکیت قرار دیتی ہے اور وہاں قابل تبادلہ محنت کش اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں، پر قبضہ نہیں۔ آج کی کارپوریشن ایسے ورکروں یا کارندوں کا ایک مربوط نیٹ ورک ہے جو ایک دوسرے سے مختلف انسانی سرمایہ یا علم و ہنر کے مالک ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ سرمایہ داری نے ترقی یافتہ دنیا میں ہر شخص کو اجرت پر کام کرنے والا مزدور بنا دیا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرمایہ داری نے مزدوروں کو غربت کے جبڑوں سے نکال کر آسودگی اور خوشحالی کی اس منزل پر پہنچا دیا ہے جس کا مارکس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
مارکس کے اندازوں یا پیش گوئیوں کے غلط ثابت ہونے کے اور بھی شواہد موجود ہیں۔ سرمایہ دار نے پیداوار کی جو تنظیم نو کی، وہ ترقی پذیر ملکوں میں معدوم ہوتی چلی گئی۔ نتیجہ یہ کہ محنت کشوں کی اکثریت پر سرمایہ دار کا کوئی کنٹرول نہ رہا۔ اس سلسلے میں اعدادوشمار حیران کن ہیں۔ امریکہ جس کا شمار ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے وہاں ہر نو میں سے ایک فرد آزاد پیشہ (یعنی اپنے کاروبار کا خود مالک ) ہے۔ اس کے برعکس بھارت جیسے ترقی پذیر ملک میں ہر بیس میں سے انیس افراد آزاد پیشہ ہیں۔ پیرو میں ہر پانچ میں سے صرف ایک فرد ایسی نجی کمپنی یا بزنس میں کام کرتا ہے جس کا تصور مارکس نے پیش کیا تھا۔ میکسیکو میں یہ تناسب تین میں ایک ہے (اور اس سے ملتی جلتی صورتحال دوسرے ممالک میں بھی ہے ۔)
ملکوں کے اندر بھی سرمایہ دار کی سرمایہ کاری اور محنت کشوں کی خوشحالی کا آپس میں تعلق صاف ظاہر ہے۔ جو محنت کش کسی سرمایہ دار کے ملازم یا کسی کارخانے یا کاروبار میں ملازمت کرتے ہیں وہ نسبتاً زیادہ مطمئن اور خوشحال نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر میکسیکو کی ریاست نیوولیون میں دوتہائی محنت کش نجی کارپوریشنوں میں ملازم ہیں۔ اس کے برعکس ریاست چیپاس میں سات میں سے صرف ایک محنت کش کسی نجی کمپنی یا فرم میں کام کرتا ہے۔ لہٰذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ ریاست نیوولیون میں فی کس آمدنی ریاست چیپاس کی فی کس آمدنی سے نو گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح کولمبیا کے علاقے بوگوٹا میں فی کس آمدنی میکاؤ کے علاقے سے چار گنا زیادہ ہے۔ خیال رہے کہ بوگوٹا میں نجی کمپنیوں میں ملازمت کرنے والے محنت کشوں کی تعداد میکاؤ کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔
غربت و افلاس کے مارے ہوئے بولیویا میں پوپ فرانسس نے سرمایہ داری کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ’آبادیوں اور فطرت کی تباہی کی پرواہ کئے بغیر ہر قیمت پر منافع حاصل کرنے کی ہوس، معاشی طاقت رکھنے والوں کی سخاوت پر بچگانہ بھروسہ، اور رائج معاشی نظام کی اندھی تقدیس‘ جیسے الفاظ استعمال کئے۔
پوپ فرانسس نے سرمایہ داری کی ’ناکامی‘ ظاہر کرنے کے لئے ترکش کا جو تیر پھینکا، وہ اپنے نشانے سے بہت دور جا گرا۔ دنیا کی بہترین منافع بخش کمپنیاں بولیویا کا استحصال کیسے کر سکتی ہیں؟ وہ تو بولیویا میں موجود ہی نہیں۔ ان کے لئے بولیویا میں کوئی کشش نہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ بولیویا میں سرمایہ کاری کرنے کو نفع بخش نہیں سمجھتیں۔ دراصل ترقی پذیر دنیا کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ داروں کو غریب ملکوں اور علاقوں میں سرمایہ کاری کرکے پیداوار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا احساس نہیں ہوا۔ نتیجہ یہ کہ ان ملکوں کی لیبر فورس یا محنت کشوں کا ایک بڑا حصہ سرمایہ داری کے اثرات یعنی فوائد سے محروم ہے۔
رافیل ڈی ٹیلا اور رابرٹ میک کل لوچ وضاحت کر چکے ہیں کہ غریب ملکوں کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ اپنی سادہ لوحی یا بھول پن کی وجہ سے سرمایہ داروں پر اعتبار نہیں کرتے۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ وہ سرمایہ داری کو نفرت اور حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ چنانچہ ان ملکوں کے حکمرانوں نے نجی سرمایہ کاری پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ گورنمنٹ کی یہ غیر ضروری مداخلت سرمایہ کاری کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ ان حالات میں ان ملکوں میں سرمایہ داری کو پھلنے پھولنے کا موقع ہی نہیں ملتا. نتیجہ یہ کہ ان ملکوں کی معیشت غریب ہی رہتی ہے۔
پوپ فرانسس دنیا کے غریبوں کی غربت و افلاس کا نوحہ پڑھنے میں حق بجانب ہیں لیکن ان غریبوں کی بدحالی کی وجہ شتر بے مہار سرمایہ داری نہیں، سرمایہ داری پر لگام ڈال کر اسے غلط راستے پر چلانا ہے۔

(نوٹ: پروفیسر ریکارڈو ہاسمن دنیا کے صف اول کے معیشت دان ہیں ، وینزویلا کے وزیر منصوبہ بندی اور انٹرنیشنل امریکن ڈویلپمنٹ بنک کے چیف معشیت دان رہ چکے ہیں۔ اب وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں پریکٹس آف اکنامک ڈویلپمنٹ کے پروفیسر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ہارورڈ کے سنٹر فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر اور ورلڈ اکنامک فورم گلوبل ایجنڈا میٹا کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔ ادارہ ’دنیا پاکستان‘ اس مضمون کی اشاعت کے لئے خصوصی اجازت دینے پر ’پروجیکٹ سنڈیکیٹ‘ کا شکر گذار ہے۔ مضمون کے مترجم زبیر حسین ہیں ۔ )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *