نجات دہندہ کی تلاش

raazia syedکیسا وقت آگیا کہ حکومت سیلاب متاثرین کے ساتھ بے وفا محبوب کا سا سلوک کر رہی ہے۔ یہ میں اسی وجہ سے کہہ رہی ہوں کہ جہاں جہاں پر سیلاب کے ریلے دیکھے گئے، وہاں وہاں صرف اپنی مد د آپ کے تحت ہی لوگ اپنی جانیں اور مال و اسباب بچاتے ہوئے دکھائی دئیے یا پھر پاک فوج کے جوان پانی میں ڈوبتے ہوئے لوگوں کی زندگی کی حفاطت کرتے دکھائی دئیے ۔ مجھ سے ان سیلاب متاثرہ بچوں کی صورتیں نہیں دیکھی جاتیں جن کے کھلونوں کے ساتھ ہی ان کی ہنسی بھی سیلاب اپنے ساتھ لے گیا ۔
مجھے ان بوڑھی خواتین کا دکھ بھی ستا رہا ہے ، ان نوجوانوں کی بے بسی بھی رلا رہی ہے جن کے مویشی پانی کی نذر ہو گئے کہ اب ان کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہیں۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ موسم کی سنگینی ہر مرتبہ ہی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے لیکن یہ سوال بھی میرے ذہن میں کلبلانے لگتا ہے کہ کیا حکومت کوئی بھی اقدامات اس سے بچاﺅ کے نہیں کر سکتی اور ہر دفعہ عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایک طرف بڑی آسانی سے سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لئے دس دس لاکھ روپے کا اعلان کر دیا جاتا ہے اور محض افسوس کر لیا جاتا ہے اور دوسری جانب ہنگامی حالات کے لئے بنائے گئے قومی اداروں کا بھی دو دو تین سال تک اجلاس نہیں ہوتا ۔
غیر ملکی ادارے اور میڈیا بھی پاکستان کے سیلاب کے بارے میں کالم ، ادارئیے اور مضامین شائع کرتا ہے لیکن پھر بھی ہم اس سوالیہ نشان کو سوالیہ ہی رہنے دیتے ہیں۔ گذشتہ برس کے آنے والے سیلاب سے اب تک اٹھارہ لاکھ شہری متاثر ہوئے جب کہ جبکہ دس لاکھ پانچ ہزار آٹھ سو بہتر ایکڑ زمین بھی بنجر ہو گئی ہے ۔ گذشتہ سال پاکستان میں آنے والے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چا ر سو چالیس سے بھی تجاوز کر گئی ہے ۔
چترال میں حالیہ سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے یہاں تین سو گھر تو مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 33لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ کم و بیش پچیس مساجد کا حلیہ ہی بگڑ چکا ہے ۔شدید بارشوں ، آندھی اور طوفان سے مختلف علاقوں کا انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے۔ پی ٹی ڈی سی کے ہوٹل سمیت ایک بڑا پن بجلی گھر بھی تباہ ہو چکا ہے ، سوال یہ نہیں کہ تباہی کیوں ہوئی اور کیوں نہیں ؟ اور کون اسکا ذمہ دار ہے ؟ لیکن کیا پاکستان کے عوام ساری زندگی کسی نجات دہندہ کی تلاش میں ہی رہیں گے ؟ کیونکہ وہ مسلسل امتحانوں سے تنگ آچکے ہیں ، ماناکہ قدرتی آفات میں کسی کا کوئی قصور نہہیں کیونکہ دنیا بھر میں ایسی آفات آتی ہیں لیکن اہم چیز یہ ہے کہ زندہ قومیں ان حادثات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہیں ، وہاں کی حکومتیں عوام کو تنہا چھوڑ کر نہیں بیٹھ جاتیں بلکہ ان کے ہمراہ ان کے شانہ بشانہ ان آفات اور مصائب کا سامناکرتی ہیں ۔ ہمارے ہاں بارش کا پانی ضائع کر دیا جاتا ہے تو کبھی بھارت کے ساتھ دوٹوک مذاکرات نہیں کئے جاتے کہ پانی کا مسئلہ حل ہو ، کبھی ڈیمز پر اتفاق رائے نہٰیں ہوتا ،اگر یہ ڈیمز بن جاتے تو نہ لوڈ شیڈنگ ہوتی اور نہ ہی پانی اور سیلاب کا مسئلہ ۔اب کالا باغ ڈیم بنانے ہی سے پانی کا نصف ذخیرہ محفوظ کیا جا سکتا تھا ، اور اس سے چونتیس سو میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی تھی ، کالا باغ ڈیم نہ بنا کر عوام کے ساتھ بہت زیادتی کی گئی ہے جس کا نتیجہ ہمیں لوڈ شیڈنگ اور بری معیشت کی صورت میں ملا ہے۔ افسو س کہ ہمارے ہاں نہ ایسی بہترین پلاننگز ہیں اور نہ ہی ایسے نجات دہندہ کہ ہم پاکستان کو مفاد پرستوں سے بچانے کی کوشش کر سکیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *