استاد اور معاشرہ

atif rehmanمعاشرہ انسان مل کر تشکیل دیتے ہیں اور لوگوں کو اچھا انسان بنانا استاد کی ذمہ داری ہوتی ہے تاکہ ایک مکمل اور بہتر معاشرہ تشکیل پا سکے۔ آج کل لوگ تعلیم حاصل کررہے ہیں لیکن پھر بھی کسی جگہ کوئی کمی ہے۔ اتنا کچھ سیکھنے کے بعد بھی ہم تعلیم یافتہ کہلانے سے قاصر ہیں۔ دراصل ہم کو صرف اور صرف تعلیم دی جا رہی ہے کہ کیسے اور کس طرح ہم نے یہ کلاس پاس کرکے آگے جانا ہے۔ اور اس کے لیے استاد بڑے بڑے طریقے بھی طلبا کو سکھاتے ہیں۔ وہ بچہ اگلی کلاس میں پہنچ جاتا ہے مگر اس کا ذہن وہیں کا وہیں رکا رہتا ہے۔ ہمیں مسئلہ کیا ہے؟ ہم کیوں نہیں سیکھتے؟ صرف اور صرف نمبر لینا چاہتے ہیں۔ لیکن اس میں بچوں کی غلطی نہیں بلکہ اس معاشرے کی غلطی ہے جو اس سے صرف اس بات کا تقاضا کرتا ہے ۔ بڑآدمی بنانے کے لیے صرف اور صرف سکول یا یونیورسٹی کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایک اچھے استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ استاد جو بچے کی ضروریات کو سمجھے اور اسے بہتر انسان بنا دے۔ استاد معاشرے کی بقا ہوتا ہے۔ وہ معاشرہ ترقی نہیں کرتا جہاں استاد کہے ’’ڈیڑھ لاکھ بچے پیپر دیتے ہیں اور30ہزار پاس ہوتے ہیں۔‘‘ وہ معاشرہ ہمیشہ ترقی کرتا ہے۔ جہاں استاد کہتے ہیں ’’ہاں تم کر سکتے ہو، ہاں تم کو کرنا ہی ہوگا۔ تم سے بہتر کوئی نہیں۔‘‘استاد ہی معاشرے کو ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں۔ ’’استاد کے بغیر انسان ایسا ہے جیسے بغیر روح کے انسان۔‘‘ ہم ہر سال 14اگست پر کہتے ہیں ۔ آج اتنے سال ہو گئے پاکستان وہیں کا وہیں ہے ۔پاکستان نے ہمیں کیا دیا۔ لیکن ہم یہ کیوں نہیں کہتے مجھے اتنے سال ہو گئے یہاں میں نے پاکستان کو کیا دیا۔ اس وقت تک ہم ترقی نہیں کر سکتے جب تک تعلیم کو روزگاربنایا جاتا رہے گا۔ ہر گلی محلے میں اکیڈمی بن گئی ہے۔ جہاں میٹرک فیل مڈل کو اور مڈل فیل پرائمری کو پڑھاتے ہیں ۔ چند پیسوں کے لیے مستقبل کی نسل کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ اس عمل سے والدین بھی خوش ہیں۔ کیوں کہ وہ صرف بچے کو ٹیوشن یا اکیڈمی لازمی بھیجتے ہیں تاکہ چند گھنٹے آرام کرسکیں اور رشتہ داروں کو بتا سکیں کہ ہاں ہمارا بچہ بھی ٹیوشن جاتا ہے۔ اچھا استاد ہی اچھے معاشرے کی ضمانت ہوتا ہے۔ اساتذہ کو چاہیے وہ ہر نسل کو تعلیم کے ساتھ علم بھی دے تاکہ روشن پاکستان کا خواب جلد ہی پورا ہو۔ اور حکومت کو چاہیے کہ اساتذہ کی تنخواہ وقت پر دے تاکہ وہ معاشی لحاظ سے بہتر ہو اور اپنے کام کو بہتر طریقے سے سرانجام دے۔ ہر وہ اکیڈمی، سکول اور پرائیویٹ یونیورسٹی بند ہونی چاہیے جہاں اساتذہ کی جگہ ایسے لوگ پڑھا رہے ہوں جن تعلیم دینے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ بہتر معاشرہ کیسے تشکیل دے سکتے ہیں۔
پاکستان میں نصاب ایک سا نہ ہونے کی صورت میں ہمیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ تعلیم کی بھی طبقاتی تقسیم ہو گئی ہے ۔ غریب کے بچے کے لیے اب بھی 1870 ء کا نصاب ہے اور امیروں کے بچے جدید تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *