امریکہ کامالیاتی بحران کس کو ڈبوئے گا؟

Shutdown_Capitol_2689280b1930ء کی کسادبازاری نے پوری دنیا کواپنی لپیٹ میں لیاتھا تو اس کے اثرات کئی برسوں تک عالمی اقوام کو بھگتنے پڑے ۔ اب امریکہ میں جاری مالیاتی بحران کی وجہ سے عالمی معیشت کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ مالی بحران کے خاتمے کے لیے ری پبلیکنز کی طرف سے دی جانے والی تجاویز کو وائٹ ہاؤس نے رد کر دیا ہے ۔اُدھر سینٹ میں ڈیموکریٹس کی طرف سے پیش کیے جانے والے ایک منصوبے کو ری پبلیکنز مسترد کر چکے ہیں۔ رائے شماری میں اپوزیشن کے تمام ارکان نے صدر اوباما کی انتظامیہ کی طرف سے پیش کیے جانے والے منصوبے کے خلاف ووٹ دے ڈالے۔امریکی سینیٹ میں صدر اوباما کو یہ ناکامی ایسے وقت میں ہوئی ، جب سپیکر جان بوہنر نے ارکان پارلیمان کو بتایا کہ شٹ ڈاؤن کے خاتمے اور قرضوں کی حد میں اضافے سے متعلق وائٹ ہاؤس سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا ۔ ری پبلیکن پارٹی نے تجویز کیا تھا کہ وہ عارضی طور پر قرضوں کی موجودہ مقررہ حد کو بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ ری پبلیکنزکے مطابق صرف چھ ہفتوں کے لیے یہ اجازت مخصوص شرائط کی بنیاد پر دی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب صدراوباما کا کہنا ہے کہ وہ اس سیاسی بحران کا طویل المدتی حل چاہتے ہیں۔امریکہ میںشٹ ڈاؤن کی مشکلات کے باعث امریکی صدر کے کئی ایشیائی ممالک کے دورے منسوخ ہوئے۔ شٹ ڈاؤن پر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف تشویش میں مبتلاہے۔ شدید مالیاتی بحران کا شکار ہونے کے باعث قومی اداروں میں ویرانی چھائی ہوئی ہے جہاں لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیںجبکہ سیاحتی مقامات سمیت کئی سرکاری دفاتر بھی اجڑے پڑے ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام کی آما جگاہ وال سٹریٹ سمیت دیگر کاروباری علاقوں میں سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حکومت کو شٹ ڈائون کے باعث روزانہ کئی ملین ڈالرز نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب ری پبلیکنز اور ڈیمو کریٹس کے درمیان فنڈز کے معاملے پر ڈیڈ لاک کے باعث امریکی عوام بھی تقسیم کا شکار ہے اور کئی شہروں میں بے روزگار ہونیوالے ملازمین احتجاج کر رہے ہیں۔ سیکرٹری خزانہ جیک لیو نے خبردار کر دیا ہے کہ ’’یہ معاملہ جلد حل نہیں ہوتا تو حکومت کے پاس مالی ادائیگیوں کے لیے موجود رقم ختم ہو جائے گی اور وزارت خزانہ حکومتی بلز ادا نہیں کر سکے گی۔ کانگریس میں بجٹ اور قرض کی حد پر جاری تعطل امریکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا‘‘۔موجودہ صورتحال میں یورپی مرکزی بینک کے سربراہ ماریو دراگی کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ میں جاری یہ مالیاتی بحران جتنا زیادہ طویل ہو گا، اس کے عالمی معیشت پر اتنے ہی زیادہ منفی اثرات مرتب ہوں گے‘‘۔ جرمن وزیر خزانہ وولف گانگ شوئبلے نے بھی زور دیا ہے کہ واشنگٹن حکومت کو اس مسئلے کو جلد ہی حل کر لینا چاہیے۔ ان کے بقول جیک لیو پْرامید ہیں کہ جلد اس مسئلے پر قابو پا لیا جائے گا۔ عالمی بینک کے سربراہ جم ینگ کم نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ میں شٹ ڈاؤن اور قرضوں کی حد بڑھانے سے متعلق جاری سیاسی تعطل خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ انہوں نے بھی امریکی پالیسی سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے اس ممکنہ بحران کو جلد از جلد حل کر لیا جانا چاہیے۔دوسری جانب آئی ایم ایف کی سربراہ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں شٹ ڈائون عالمی معیشت کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بحران کوعالمی اقتصادیات کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔ بظاہر امریکہ میں یہ مسئلہ حل کرلیا گیا ہے اور بیل آئوٹ سے جاری اس بحران پر قابو پانے کی مثبت کوشش کی گئی ہے لیکن ’’ضارب‘‘ کے اثرات سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے اس بحران کے اثرات نہ صرف امریکی معیشت پر مرتب ہونگے بلکہ باقی دنیا بھی اس کے نتائج بھگتے گی۔

 

بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *