بلوچستان کے حقائق

Najam Sethiبلوچستان کی صورتحال کے بارے میںHRCP (ہیومن کمیشن آف پاکستان) کی تازہ ترین سفارشات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ کمیشن نے وفاقی اور صوبائی حکام کے ساتھ ساتھ سیکورٹی ایجنسیوں اور شورش پسندوں کو صوبے میں امن و امان کی ابتر ہوتی ہوئی صورتحال پر موردالزام ٹھہراتے ہوئے انتظامیہ اور علیحدگی پسندوں کے درمیان بات چیت کا دروازہ کھولنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی ہے تاکہ مشرف حکومت کے دوران نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت سے خراب ہونے والے حالات اور پھوٹنے والی شورش پسندی کا خاتمہ بھی ممکن ہو اور ہتھیار اٹھانے والے ناراض بلوچوں کو صوبائی سیاست اور قومی دھارے میں شامل ہونے پر راضی بھی کیا جاسکے۔
بلوچستان کے مسئلے کی جڑ کو تلاش کرنے اور مفاہمت کی پالیسی بنانے کے عمل پر کچھ نئے ابھرنے والے عوامل بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ سب سے پہلا عامل یہ ہے کہ بلوچستان میں صوبائی اور قومی سطح پر منصفانہ انتخابات کا قیام عمل میں آیا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود ایک قابل احترام قوم پرست رہنما ڈاکٹر عبدالمالک کے پاس صوبے کی وزارت اعلیٰ ہے۔ تیسری حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ نواز شریف حکومت ڈاکٹر مالک کی بھرپور حمایت کررہی ہے۔ دراصل ڈاکٹر صاحب اسلام آباد کی معاونت کے بغیر وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتے تھے۔ چوتھا عامل یہ ہے کہ اگلے ماہ فوج کی قیادت ایک نئے چیف کے ہاتھ میں جائے گی اور وہ سابقہ قیادت کی تمام تر مثبت و منفی معروضات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صوبے میں مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ پانچواں عامل یہ ہے کہ صوبے میں آنے والے حالیہ زلزلے کے بعد امدادی کاموں میں مصروف سول ملٹری ٹیموں کو شورش پسند قوتوں کی طرف سے رکاوٹ کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ سے بلوچستان کا عام شخص متاثر ہو رہا ہے چنانچہ وہ انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے سیکورٹی حکام کا ساتھ دے گا۔ چھٹی بات یہ ہے کہ وزیراعظم نوازشریف صاحب نے افغان اور بھارتی حکومتوں کو صلح کا پیغام بھیجا ہے۔یہ ایک کھلا راز ہے کہ بھارتی اور افغان حکومتیں بلوچ علیحدگی پسندوں کی معاونت کرتی ہیں اور کئی بھارتی اور افغانی یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ پاکستان کی کشمیری مجاہدین، جو بھارتی سرزمین پر کارروائی کرتے ہیں اور طالبان، جو افغان علاقوں میں کارروائی کرتے ہیں، کی حمایت کا ردعمل ہے۔
اس ضمن میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی تجاویز حقیقت پسندانہ اور منصفانہ ہیں۔ ایک طرف اس نے بلوچ شورش پسندوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہتھیار پھینکتے ہوئے تشدد کا راستہ ترک کر دیں تاکہ ’’غیر جمہوری قوتیں‘‘ تقویت نہ پا سکیں اور صوبائی اور وفاقی حکومتیں خلوص ِ نیت سے صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی قوتوں کا ہاتھ روک سکیں۔ دوسری طرف، اس نے مربوط انداز میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مبینہ طور پر افراد کے ’’غائب‘‘ ہوجانے کے معاملے کی جانچ کی جا سکے تاکہ ایسا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس کے علاوہ کچھ اور تجاویز بھی قابل ِ غور ہیں، جیسا کہ صوبے میں ڈیوٹی سرانجام دینے والی سیکورٹی فورسز کے لئے موثر SOP (اسٹینڈرڈ اپریٹنگ پروسیجر) کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہر کام طے شدہ معیاری ضابطے کے مطابق کیا جائے، صوبے کے وزیراعلیٰ کے پاس اختیار ہوکہ وہ سیکورٹی فورسز کی ACR لکھیں، پولیس کی اصلاح کرتے ہوئے اُسے اس قابل بنایا جائے کہ وہ جرائم پیشہ افراد اور انتہا پسندوں کا تعاقب کرسکے اور ایسا کرتے ہوئے ایف سی، جو مسائل حل کرنے کے بجائے خود مسائل کا حصہ بن چکی ہے، کی واپسی کا ٹائم فریم دیا جائے۔ کچھ لوگ HRCP کو ہدف ِ تنقید بناتے ہیں کہ وہ بلوچ علیحدگی پسندوں، جو سیکورٹی فورسز اور پنجابی آباد کاروں کو ہلاک کررہے ہیں، کے ساتھ تو پرامن مذاکرات کی وکالت کرتا ہے لیکن پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت نہیں کرتا۔ تاہم ایسا کرتے ہوئے ہمیں ان دونوں تحریکوں یا دہشت گردی کی جہتوں میں امتیاز کرنے کی ضرورت ہے۔
اس ضمن میں کچھ معروضات پیش نظر رہنی چاہئیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ قیام ِ پاکستان سے لے کر اب تک بلوچستان میں چھوٹی بڑی پانچ شورشیں برپا ہو چکی ہیں۔ ان کی بنیادی وجہ صوبے کو اُن حقوق سے محروم کردینا تھا جس کی آئین یقین دہانی کراتا ہے۔ چونکہ گزشتہ چار شورشوں کو آئین کے اندر رہتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے ہی ختم کیا گیا ہے، اس لئے یہ یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ پانچویں، موجودہ شورش کو ختم کرنے کا بھی کوئی پُرامن راستہ نکل سکتا ہے۔ دوسری طرف تحریک ِ طالبان پاکستان کا موقف یکسر مختلف ہے۔ اُن کی تحریک کسی صوبے یا علاقے کے حقوق کے لئے نہیں ہے کہ اُسے مذاکرات، کچھ دو اور کچھ لو، کی بنیاد پر ختم کیا جاسکے بلکہ ان کا القاعدہ کے نظریات سے مہمیز پانے والا عالمی جہادی ایجنڈا ہے۔ ان کا مقصد یمن کی طرح افغانستان اور وزیرستان میں اپنے ٹھکانے قائم کرنا ہے تاکہ وہ قوت ِ بازو سے علاقے میں اپنا ایجنڈا نافذ کر سکیں۔ چنانچہ پاکستانی طالبان کے ساتھ گزشتہ چودہ امن معاہدے کئے گئے ہیں اور وہ تمام کے تمام ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔
بلوچ شورش پسند آئین ِ پاکستان کے تحت اپنے حقوق چاہتے ہیں جبکہ طالبان آئین کو سرے سے ہی تسلیم نہیں کرتے۔ وہ پاکستان پر قبضہ کرکے اسے عالمی جہاد کا مرکز اور اپنی اسلامی امارت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ بلوچ علیحدگی پسندی کے محرکات دنیاوی ہیں...حقوق سے محرومی اور بھارت کی پشت پناہی۔ مناسب پالیسی اور دفاعی حکمت ِ عملی میں حالات کے مطابق تبدیلی کرکے ان سے نمٹا جا سکتا ہے لیکن طالبان کی تحریک آفاقی نظریاتی (ان کے نزدیک) کی حامل ہے چنانچہ وہ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ گزشتہ حکومت بلوچستان اور طالبان کے مسئلے کو حل کرنے میں خلوص ِ نیت رکھتی تھی لیکن ان کے پاس سیکورٹی اور دفاعی حکمت ِ عملی نہیں تھی۔ امید ہے کہ وزیراعظم نوازشریف سابقہ حکومت کی ناکامی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *