دنیا ہماری بات کیوں نہیں سمجھتی؟

Yasir Pirzadaشیخ صاحب میرے محلے دار ہیں اور جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے پکے کاروبار ی ہیں ،ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ چلتا ہوا کاروبار زیادہ سے زیادہ تین ماہ میں ڈبو دیتے ہیں ۔انارکلی میں ان کی آبائی دکان تھی جو ان کے والد مرحوم نے مرنے سے پہلے انہیں گفٹ کی تھی، دکان کی آمدن اتنی تھی کہ شیخ صاحب کی آئندہ نسلیں بھی آرام سے گھر بیٹھ کر کھا سکتی تھیں مگر شیخ صاحب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کے قائل نہیں تھے، والد صاحب کے چہلم کے فوراً بعد انہوں نے دکان فروخت کردی، اچھی خاصی رقم ہاتھ آئی تھی، کسی نے مشورہ دیا کہ پولٹر ی فارم کھول لو ،مہینوں میں رقم دگنی ہو جائے گی ،یہی کیا ،مگر رقم دگنی ہونے کی بجائے چوتھائی رہ گئی۔اس سے پہلے کہ وہ کوئی کسی اور کام میں ہاتھ ڈالتے اور سونے کو مٹی بناتے ،ان کے بیٹوں نے انہیں گھر میں بٹھا کر خود کام سنبھال لیا ،آج کل وہ سارا سارا دن انٹرنیٹ پر سرفنگ کرتے ہیں ،اور ہر ہفتے بل گیٹس کو ای میل بھیج کر یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیںکہ اگر وہ ان کے کاروباری مشوروں پر عمل کرے تو مائیکرو سافٹ آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے ۔ بل گیٹس نے کبھی اس مرد عاقل کی میل کا جواب نہیں دیا، اب ہر ہفتے وہ اسے گالیوں بھری ای میل بھیجتے ہیں!
ہماری قوم کا حال بھی شیخ صاحب جیسا ہے۔ہمیں یہ زعم ہے کہ ہم سے زیادہ ٹیلینٹڈ ، دانش مند اور صراط مستقیم پر چلنے والی قوم روئے زمین پر اور کوئی نہیں ،لیکن نہ جانے کیوں دنیا ہمارے اشاروں پر نہیں چلتی ،ان کا میڈیا ہماری خواہشات کے مطابق واقعات کو اہمیت کیوں نہیں دیتا، عراق اور افغانستان میں مرنے والے بچے انہیں نظر کیوں نہیں آتے،ان کی عالمی ایوارڈز کی کمیٹیاں ہمارے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق لوگوں کو تمغے کیوں نہیں دیتیں، ’’جٹ تے گجر‘‘ کو آسکر ایوارڈ کیوں نہیں دیا جاتا،عافیہ صدیقی کو نوبل امن انعام کیوں نہیں ملتا،عالمی رائے عامہ ہماری تھیوریوں کی روشنی میں تشکیل کیوں نہیں پاتی، ساری دنیا مل کر امریکہ پر حملہ کیوں نہیں کرتی،اقوام متحدہ،یورپی یونین اور اس نوع کے دیگر عالمی ادارے ہمارے نظریات سے ہم آہنگ فیصلے کیوں نہیں کرتے ہیں جبکہ ہمارے نظریات ہمیشہ صحیح بھی ہوتے ہیں......وہی شیخ صاحب والی بات ،بل گیٹس ان سے کاروبار کرنا کیوں نہیں سیکھتا !
اگر اپنے آپ کو عظیم کہنے سے کوئی عظمت کی بلندیوں پر فائز ہو سکتا تو بلاشبہ آج ہماری قوم کا شمار دنیا کی عظیم ترین قوموں میں ہوتا ،لیکن مصیبت یہ ہے کہ فقط کہنے سے بات نہیں بنتی ،کچھ کر کے دکھانا پڑتا ہے ،کچھ کرنے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے اور محنت کرنے کو ہمارا دل نہیں چاہتا۔ ہمیں اعتراض یہ ہے کہ مغرب والے محدب عدسے کی مدد سے ہماری برائیاں تلاش کرتے ہیں، ان برائیوںکو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں ،اوراگر ہم میں سے ہی کوئی ان برائیوں پر فلم بنا ڈالے تو ان کا کام مزید آسان ہو جاتا ہے، اسے آسکر جیسا تمغہ دے کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیتے ہیں تاکہ ہمارے منہ پر زیادہ سے زیادہ سے کالک ملی جا سکے ۔
یہ تمام باتیں مضحکہ خیز حد تک آپس میں متضاد ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی کو میگنیفائنگ گلاس لے کر ہماری برائیاں ڈھونڈنے کی ضرورت ہے ؟ آپ کسی بھی وقت کوئی بھی پاکستانی نیوز چینل لگا کر دیکھ لیں یا اخبار پڑھ لیں ،نہ نہ کرتے ہوئے بھی سفاکی اور ظلم کی لا تعداد خبریں منٹوں میں آپ کی نظروں سے گزر جائیں گی ......پانچ سالہ لڑکی کا ریپ،تاوان کے لئے اغوا کئے جانے والے بچے کا قتل،برف کا ٹکڑا ٹھانے پر دکاندار نے بچے کے پیٹ میں ’’سوا‘‘ گھونپ کر ہلاک کر دیا،شادی سے انکار پر لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا ،جہیز نہ لانے پر بہو کو زندہ جلا دیا،اور تازہ ترین خبر برطانیہ سے آئی جہاں ایک عمر رسیدہ پاکستانی جوڑے کواس بات پر سزا سنائی گئی ہے کہ وہ ایک گونگی بہری پاکستانی لڑکی کو اسمگل کرکے برطانیہ لائے،دس سال تک قید رکھا اور اسے جنسی غلام بنایا۔ اب کیا یہ تمام خبریں جھوٹی ہیں یا کسی سازش کا حصہ ہیں؟ کیا یہ ہمارے معاشرے میں رہنے والوں کے کارنامے نہیں ؟ اگر ہیں تو کیا بطور پاکستانی ہمیں ان کے خلاف لکھنا نہیں چاہئے ،آواز بلند نہیں کرنی چاہئے ؟ کس قدر بھونڈی دلیل ہے کہ جناب امریکہ اور مغر ب میں تو اس سے بھی زیادہ گھنائونے جرائم ہوتے ہیں ،تو ہوتے ہوں گے،کیا وہاں ہونے والے جرائم کی وجہ سے ہم اپنے ہاں ہونے والے جرائم کی پردہ پوشی کریں ؟ اور کیا پردہ پوشی سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے ؟ امریکہ اور مغرب میں جو جرائم ہوتے ہیں وہاں ان کا معاشرہ ان کے خلاف نہ صرف بلند آواز اٹھاتا ہے بلکہ کڑے اقدامات بھی کرتا ہے۔
ایک دلیل جس پر فقط ماتم ہی کیا جا سکتا ہے کہ فلاں اسلامی ملک میں جو لڑکی ریپ ہوئی تھی اس پر تو کسی نے آواز بلند نہیں کی کیونکہ اس ریپ میں مغربی فوجی ملوث تھے ۔یہ دلیل ملالہ کے مسئلے پر بہت ’’رش‘‘ لے رہی ہے۔ ملالہ یوسفزئی نے اس وقت تعلیم کا حق مانگا جب سوات میں طالبان کی عملداری تھی، جواب میںاس چودہ سالہ بچی کے چہرے پر گولی ماری گئی جب وہ اسکول جا رہی تھی،طالبان نے فخریہ انداز میں ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ اگر موقع ملا تو وہ دوبارہ یہی کریں گے کہ ان کے نزدیک گولی مارنا سو فیصد درست تھا۔طالبان کے علاوہ معاشر ے کے بعض طبقات نے بھی اس قبیح ترین فعل کا جواز تلاش کرکے تاویلیں تراشیں۔دوسری طر ف، کیا اسلامی ملک میں کسی مغربی فوجی کی ہوس کا شکار ہونے والے بچی کے اس مکروہ جرم کو مغربی معاشرے کے کسی ایک فرد نے بھی جواز فراہم کیا ؟ کیا کسی نے یہ کہا کہ ہاں فلاں فوجی نے کیا ہے اور ہم آئندہ بھی جہاں جائیں گے یہی کریں گے ؟ کیا ان کے میڈیا نے یہ خبر چھپائی؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ خبر بھی ہمیں مغربی میڈیا اور گوگل پر سرچ کرنے سے ہی ملی،اسے یوٹیوب سے ہٹایا گیا نہ گوگل سے ،اس واقعے سے متعلق مغربی اخبارات کی سینکڑوں رپورٹیں چشم زدن میں انٹرنیٹ پر کھل جاتی ہیں، فرق یہ ہے کہ کوئی اس لڑکی کے ریپ کو یہ کہہ کر جواز فراہم نہیں کر رہا کہ چونکہ ایک مسلمان لڑکی کا ریپ ہوا ہے اس لئے ٹھیک ہوا ہے جبکہ ہم ملالہ کو گولی مارنے والوں کو جواز فراہم کررہے ہیں اور پھر یہ اصرار بھی کہ دنیا ہماری بات کیوں نہیں مانتی ؟
ملالہ کے کیس میں ہمیں تکلیف یہ ہے کہ امریکہ اور مغرب اس بچی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم چونکہ ان سے نفرت کرتے ہیں اس لئے ملالہ بھی (ہماری سوسائٹی کے ایک مخصوص طبقے کی نظر میں)اس نفرت کی حقدار ہے ۔یہ بھی ایک مضحکہ خیز بات ہے کیونکہ جب ملالہ کو گولی لگی تو وہ ایک عام بچی کی طرح وین میں اسکول جا رہی تھی ،اس وقت تو کوئی امریکہ اور مغرب اس کے ساتھ نہیں تھے ،اس وقت تو اسے کسی نے تمغہ نہیں دیا تھا،مگر ہم نے اسی وقت سازشی تھیوریاں تراش لیں تھی کہ اسے گولی ہی نہیں لگی اور لگی بھی ہے تو یہ سی آئی اے کا کام ہے ۔کیا کہنے ہماری logicکے!
بد قسمتی سے ہم اس وقت تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے ہیں ،اسی لئے ہمیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہو پا رہا ہے کہ ہر وہ بات جسے ہم غلط سمجھتے ہیں اسے دنیا صحیح سمجھتی ہے اور جسے ہم صحیح سمجھتے ہیں اسے دنیا لفٹ ہی نہیں کراتی۔شیخ صاحب کی طرح ہم کاروبار ڈبونے کے چیمپئن ہیں لیکن اصرار وہیں کہ بل گیٹس ہم سے کاروبار سیکھے ،ماں صدقے جائے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *