قربانی کی بے روح رسومات

Masoodجب’’محنتی اورمخلص‘‘ افراد پر مشتمل اس قوم کا یہ سال، جس کے اب تقریباً ستر دن باقی رہ گئے ہیں، بھی اختتام پذیر ہوا چاہتا ہے تو ہم جیسے بہت سے افراد حیران ہیں کہ آخر وہ کون سی افتاد ہو گی جو ان افراد کو سنجیدگی سے کسی کام کا آغاز کرنے پر مجبور کرے گی؟تاہم اس قوم کے افراد سے سنجیدگی کی توقع کرنا ایسا ہی ہے جیسے توقع کرنا کہ وزیرِ اعظم نواز شریف سے کسی کتاب کے پر مغز مطالعے میں مصروف پائے جائیں گے۔ یہ معجزہ نما تبدیلی ایسے ہی ہوگی جیسے آصف علی زردای کوئی نئی ڈیل کرنے یا کسی دن آرمی چیف دھشت گردوں کو وارننگ دینے سے خود کو باز رکھ سکیں۔ آپ کے دل سے جواب آئے گا کہ ایسا ہونا ناممکن ہے ، کیونکہ کچھ باتیں قسمت کی طرح اٹل ہوتی ہیں۔ چناچہ ہم دنیا سے سو جوتے اور اسی تعداد کے مساوی پیاز کھائے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں۔ چناچہ طے یہ پایا کہ ایسا کوئی قیامت خیز طوفان نہیں ہوسکتا جو ان افراد کو کسی مثبت کام پر لگادے۔ یک سوئی سے کام کرنا ہماری گھٹی میں ہے ہی نہیں۔ سستی اور کاہلی کے سواہم ہر کام نیم دلی سے کرتے ہیں۔
گزشتہ ایک ہفتہ یہ ملک ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک بند رہا۔ اس دوران لاکھوں جانوروں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے سوا کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہ آئی اور نہ ہی کوئی منزل سر کی گئی۔ اندھا دھند قربانی کرنے اور گوشت کھانے کی رسومات کے اختتام پر قوم کے مجموعی عقیدے ، پرہیزگاری اور انسانیت میں کوئی رتی بھر بھی اضافہ ہوا ہے تو بتائیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ خون میں چکنائی کی مقدار میں اضافہ ہو چکا ہوگا اور یہ اضافہ جاری رہے گا کیونکہ فریج گوشت سے بھرے ہوئے ہیں ، اس لیے گوشت کی فراہمی دیر تک چلے گی۔
جتنے مرضی جانوروں کی گردن زنی کرلیں، ہمارے ہاں گناہ اور بدعنوانی اور ہر دوسے جمع کی گئی دولت کو معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے، اس لیے قربانی اور اس طرح کی خیرات وہ لوگ کرتے ہیں جن کے پاس منفی طریقوں سے حاصل کی گئی دولت کے انبار ہیں۔ جس طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کسی بلے باز کو’’ کور ڈرائیو ‘‘مارنے کی مہارت حاصل ہوجاتی ہے، اسی طرح ہمارے ہاں بھی نو آموز اور مبتدی نوسر باز بہترسے بہتر مرتبہ حاصل کرتے ہوئے اشراف میں شامل ہوچکے ہیں۔ ان کے ہاں بقر عید پر درجنوں بکرے، بیل اور اونٹ کھیت رہتے ہیں۔چناچہ کور ڈرائیو پر ناقدین تعریف کرتے ہیں ، سخاوت اور انسان دوستی کے چرچے ہوتے ہیں اور پھر بس فتوے جاری کرنے کی کسررہ جاتی ہے، جو محض کسرِ نفسی کی وجہ سے نہیں کرتے ہیں۔
وہ تمام عوامل ، جو ہماری سوچ کو متاثر کرتے ہیں، اُن میں پیسہ کی ہی کارفرمائی ہے ... اور تو اور، مذہب پر بھی اسی کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ چند صدیاں قبل، چرچ میں کرسچن اپنے گناہوں کے کفارے کے لیے اس طرح رقم جمع کراتے تھے جیسے بجلی کے بل جمع کرا رہے ہوں۔ وہ تو شاید اپنی اصلاح کرچکے ہیں، لیکن ہمارے ہاں ابھی تک یہ فارمولہ ہی مستعمل ہے کہ خدا کی راہ میں دل کھول کے خرچ کریں تو آپ کو جنت میں لازمی جگہ مل جائے گی۔ اگر خدا کے معاملات اتنے ہی ارزاں ہوتے تو دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کوئی بھی گناہ گار نہ رہتا۔ افسوس، مذہب کے یہ نام نہاد ٹھیکے دارخداکے معاملات کو بھی دولت کے ترازو میں تولتے ہیں۔
اگر آپ کسی خریداری کے مرکز پر جاکر ان اشراف ، جن کی سب سے پہلی شرط سادگی ہونی چاہیے تھی، کو خریداری کرتے دیکھیں تو ایسا لگے گا جیسا کل نہیں ہونی اور یہ تمام اسباب آج ہی خرید لینا چاہتے ہیں۔ پھر عقل چکرا جاتی ہے کہ کیا یہ اس غریب ملک کے باشندے ہیں... وہ ملک جس کے حکمران دنیا کی ہر قوم کے سامنے دستِ سوال دراز رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاپنگ کرنے میں پاکستانی دنیا کے بدترین صارفین قرار دیے جاسکتے ہیں۔ جب تک جیب میں رقم اور سینے میں سانس ہے، وہ شاپنگ سنٹروں کی طرف جھپٹتے رہیں گے۔ تمام کاؤنٹرز نہایت فربہ اندام اور انواع واقسام کی بیماریوں کی شکار پر رعونت خواتین اور ان کے بگڑے ہوئے بچوں کے محاصرے میں ہوتے ہیں۔ وہ وہاں سے جواشیائے خورد و نوش خریدتی دکھائی دیں گی، ان کا مصرف ان کے وزن میں چنددرجن پاؤنڈز اضافے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتاہے۔ عید سے پہلے شاپنگ کا انتہائی رش ہوتا ہے اور اب تو یہ بھی رسم میں شامل ہوچکی ہے۔ اس خریداری کو نیکی سمجھتے ہوئے ہر کوئی دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کرنا چاہتا ہے۔ کیا یہ ہے وہ ملک جو سال کے تین سو پینسٹھ دن کاس�ۂ گدائی سرنگوں نہیں ہونے دیتاہے!اور ایسا کرتے ہوئے شرم، حیا یا عزتِ نفس جیسی قباحتوں کو آڑھے نہیںآنے دیتا ہے۔ ہماری معاشی حالت کو بیان کرنے کے لیے دنیائے معاشیات میں کوئی فارمولہ نہیں ہے۔
یہ تمام اسراف اس لیے دیکھنے میں آتا ہے کہ ہم رسومات کو عقائد کا نام دے کر ان پر کاربند ہو چکے ہیں۔ یہ رسومات چاہے کتنی ہی مضحکہ خیز کیوں نہ ہوں، ہم ان کی پروا نہیں کرتے ہیں۔ حکومت بدعنوان ہے لیکن حکومتیں عوام کے نمائندے ہی تشکیل دیتے ہیں۔ کیا ہمارے عقائد ہمیں ناجائز کمائی سے منع کر پائے ہیں؟ہر گز نہیں، لیکن ہم بے زبان جانوروں کے ریوڑ کے ریوڑ ذبع کرتے چلے جاتے ہیں ۔ ایسا کرتے ہوئے ہم جانوروں کی جسامت اور تعداد کے لحاظ سے دوسروں کو مات دینے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ خدا معاف کرے، عقائد کے معاملے پر میں رائے دینے کا اہل نہیں ہوں لیکن ایک ہی دن، چند گھنٹوں کے اندر لاکھوں کی تعداد میں بکروں، دنبوں، بیلوں اور اونٹوں کو ذبع کرنے کا تصور بے روح رسم دکھائی دیتا ہے کیونکہ ان کا خون ہماری خواہشات کے آگے بندھ باندھنے میں ناکام رہتا ہے۔
دولت ہمیشہ سے ہی بڑے ہاتھوں میں رہی ہے ۔ پہلے بڑے آڑھتی چاول اور گندم کو سونے میں ڈھالتے تھے، اب جانوروں سے چاندی کی جاتی ہے۔کوئی دن جاتا ہے جب جانوروں کی تجارت ایک سپریم کاروبار بن جائے گی۔ ان کا خون ہمارے گناہ ختم کردیتا ہے، ان کا گوشت ہمار پیٹ بھرتا ہے، ان کی فروخت ہماری جیبیں بھر دیتی ہے، ان کی کھال ہماری صنعت کا پہیہ چلا دیتی ہے... پھر ہم بدعنوان اور غریب کیوں ہیں؟میرے پاس اعداد وشمار نہیں ہیں کہ ملک میں ذبع ہونے والے جانوروں کی تعداد کتنی ہے ، یا کتنی اقسام کے جانوروں کو ذبع کیا جاسکتا ہے، لیکن ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق کئی سو ارب روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ یہ سب ٹھیک ہے لیکن قربانی کا ہمارے کردار پر کیا اثر ہوتا ہے؟اگر اس قربانی کے نتیجے میں ہمیں پرہیزگاری عطا ہوتی ہے تو پھر ہم اتنے بدعنوان اور گناہ گار کیوں ہیں؟دنیا میں جتنی ذلت ہم برداشت کرتے ہیں، اس سے تو نہیں لگتا کہ یہ ر سومات ہمارا ایک بھی گناہ معاف کرا پاتی ہیں۔ ہم جہاں بھی جائیں، ہماری عادات و اطوار نہایت غیر مہذب ، بلکہ نیم حیوانی ہوتی ہیں۔ ہمارا شمار دنیا کی جاہل ترین اقوام میں ہوتا ہے۔ جب بھی ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ہماری گفتگو کا موضوع ایک دوسرے کی کامیاب لوٹ مارہوتا ہے۔
یہ افسوس ناک معاملات ہماری قومی زندگی کے لازمی خدوخال بن چکے ہیں اور ان کا درست ہونا کسی معجزے سے کم نہیں، لیکن جس طرح ہم اپنی تعطیلات کا پروگرام بناتے ہیں، وہ بھی اسراف کے زمرے میں ہی آتاہے۔ جتنی مرضی چھٹیاں ہوں، ہم نے بھولے سے بھی کوئی ڈھنگ کا کام سرانجام نہیں دینا ہوتا ہے۔ کیا وقت ایک دولت نہیں ہے؟ کیا اسے ضائع کرنا اسراف کے زمرے میں نہیںآتاہے؟ ہم قربانی سے کیا سیکھتے ہیں؟کیا ہمارے معاشرے میں کوئی شخص پڑھی ہوئی کتابوں پر بات کرتا ہے؟ خریدے ہوئے پلاٹوں یا پلے ہوئے جانوروں ، یا نئے ماڈل کی گاڑیوں پر بات کی جاتی ہے، لیکن کتابیں... استغفراﷲ۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *