داعش جہادی کی لاش شام کی گلیوں میں

isis2سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے جس میں داعش کے ایک جہادی کی لاش کو گاڑی کے پیچھے باندھ کر شام کے شہر الیپو کی گلیوں میں گھسیٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو ایک برطانوی صحافی نے اپ لوڈ کی ہے جو شام میں ہونے والی خانہ جنگی کی رپورٹنگ پر مامور ہے۔مذکورہ صحافی نے ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہوئے ساتھ لکھا’’اس ویڈیو میں شامی باغیوں کی جانب سے داعش کے ایک جہادی کی لاش کو ’مارا‘ کی گلیوں میں گھسیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے‘‘۔

خیال رہے کہ اسی طرح کی ایک اور ویڈیو شاکر خادیر کے ٹیوٹر اکاؤنٹ پر بھی دیکھی گئی جس میں باغی داعش کے ایک جہادی کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر ایک شخص اپنے خنجر سے اس کا سر تن سے جدا کر دیتا ہے۔

اس ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعدیہ بات سامنے آئی کہ یہ شخص برطانوی ہیکر تھا جو داعش کے جہاد میں شریک ہونے کے لئے شام میں آیا تھا۔حسنین کا تعلق برمنگھم سے تھا اور اس کی شادی سیلی جونز سے 2013ء میں ہوئی تھی،جو بعد میں جہادی بن کر شام روانہ ہو گئی تھی۔ اس ماہ کے شروع میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ’مسز ٹیرر‘ جونز برطانیہ کو نشانہ بنا چاہتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق جونز نے اپنے شوہر کی ہلاکت کی تردید کی ہے اور ایک اور ’جہادی دلہن‘ سے بات کرتے ہوئے جونز نے کا کہا تھا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہے کہ وہ ایک جہادی کی بیوی ہے اور اس کا شوہر زندہ ہے۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حسین نامی یہ جہادی شدت پسند گروہ میں کلیدی حیثیت کا حامل تھا اور وہ آن لائن ہیکنگ اور نئے لوگوں کی بھرتیوں کی ذمہ داریاں انجام دیتا تھا۔

Junaid-Hussain

یہ شخص برطانوی ہیکر تھا جو داعش کے جہاد میں شریک ہونے کے لئے شاممیں آیا تھا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *