کرپٹ ، ملک دشمن، چور اچکے اور بد اخلاق۔۔۔

khadim hussainپاکستانی ریاست کی معاشرتی، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی ساخت ہی کچھ ایسی ہے کہ اس میں اختیار اور اقتدار کو مرتکز کرنے والوں کی طرف سے جغرافیائی سیاست اور سیاسی اقتصادیات کے بیانیے کے ذریعے اختلافِ رائے رکھنے والی صداؤں کے خلاف ایک نہایت ہی خوفناک مہم چلائی گئی ہے۔ گوناگوں علاقائی روایات اور حکومتی معاملات میں مساوی مواقع کے مطالبات کو تواتر کے ساتھ تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔ اس بیانیے نے دراصل ’بدعنوانی‘، ’غداری‘ اور’بد اخلاقی‘ کی تین بوجھل اصطلاحات سے تشکیل پائی ہے۔ اس ڈراؤنے بیانیے کو پہلے بھی اردو ذرائع ابلاغ اور سرکاری الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں گھسایا گیا اور آج بھی یہ عمل سوشل میڈیا کے اضافے کے ساتھ جاری ہے۔ ان تینوں لڑیوں کے ہر دو جوڑوں کو دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پہلی بات دیکھنے میں یہ آئی ہے کہ اس بیانیے کے شکار اور ہدف وہ افراد، گروہ، سیاسی پارٹیاں، تحقیق اور ذرائع ابلاغ کے ادارے اور تخلیقی فنکار بنتے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کی وضع کردہ پالیسی کے برعکس اپنی ایک متبادل رائے رکھتے ہیں۔
اس حوالے سے دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بیانیہ بڑے تواتر کے ساتھ ان لوگوں کے خلاف استعمال کیا گیا کہ جن کی سوچ ایک خاص وقت میں کسی خاص ریاستی پالیسی کے بارے میں سرکاری اداروں کی سوچ سے مختلف رہی۔ اس دائرے میں خارجہ پالیسی، ریاستی تحفظ کی پالیسی، ملکی دفاع کی پالیسی اور ریاستی نظریاتی رحجان شامل ہیں۔ (کیا مذکورہ با لا پالیسیوں کے ساتھ اختلافِ رائے رکھنے والوں کی جینیاتی ساخت میں کچھ گڑ بڑ ہے کہ وہ یا تو ’غدار‘ ہوں گے یا بیرونی طاقتوں کے ’آلۂ کار‘ ہوں گے، یا ’بدعنوان‘ اور ’بد کردار‘)؟
اس سلسلے میں تیسری بات یہ ہے کہ جب بھی ریاستی اور معاشرتی لحاظ سے کوئی اہم واقعہ پیش آیا تو یہ بیانیہ گلا پھاڑ کر دہرایا گیا۔ پاکستانی ریاست کے حوالے سے ہمارے سامنے بہت سی مثالیں ہیں مثلا 1949ء میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد کا منظور ہونا، 1971 ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور نتیجے میں مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش میں تبدیل ہونا، 1980ء کی دہائی میں امریکہ اور روس کے درمیان افغانستان میں جنگ، کئی مواقع پر پاک بھارت مذاکرات، مئی 2011 ء میں ایبٹ آباد شہر میں اسامہ بن لادن کی دریافت اور داستانِ نابود ، ، 2012 ء میں وادئ سوات میں ملالہ یوسف زئی پر حملہ اور 2014ء میں افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا۔ ان سارے واقعات سے پاکستان کی جغرافیائی سیاست اور سیاسی اقتصادیات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ ’بدعنوان‘، ’غدار‘ اور’بد اخلاق‘ کی ان تینوں اصطلاحات میں پوشیدہ معنی کی قدر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ ’بدعنوانی‘ انتظامیہ کی بزعم خود قائم کردہ اخلاقی بنیادوں سے انحراف کا نام ہے۔ بدعنوانی عموماَ ساختیاتی ہوتی ہے۔ یہ اداروں کی بنیادوں میں پروئی جاتی ہے۔ اور جب تک اداروں کی تعمیر نو نہیں کی جاتی اس وقت تک بدعنوانی سے نجات ممکن نہیں۔ اداروں کی تعمیر نو کے لئے وسائل کی تقسیم کا طریقۂ کار، فیصلہ سازی میں شراکت اور تخلیقی و ایجادی تفکر بنیادی اجزا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ’بد اخلاقی‘ کا رجحان ایک خاص معاشرے کے قائم کردہ اخلاقی معیار کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتی ہے جب کہ ’غدار‘ اور ’غیر ملکی آلۂ کار‘ایک فرد اور ایک ریاست کے درمیان جدید شعور پر مبنی سماجی معاہدے کے تصور سے متعلق ایک گھٹیا رویے کی تصویر کشی کرتی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ اس لڑی نے نوآبادیاتی، قبائلی اور جاگیردارانہ ساخت کی سیاسی اقتصادیات کے اْس بیانیے سے جنم لیا ہے جس کی واحد غرض وغایت ایک فرد، ایک گروہ یا ایک سماج کو تنہا کرنا، اسے دیوار کے ساتھ لگانا اور حق رائے دہی سے محروم کرنا ہے۔ وہ طاقت جو اس پورے سماج کو ثقافتی، معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی طور پر اپنے تسلط میں رکھنا چاہتی ہے، اس کو پہلے یہ منطقی طورپر ثابت کرنا ہوگا کہ عام لوگ نہ صرف یہ کہ ایک مہذب زندگی نہیں گزارسکتے بلکہ حکمرانی کی شد بد سے بے خبر اورسوچ سے عاری ہیں۔ اس فریم ورک کے اندر کسی بھی متبادل راستے اور مقامی روایات کے لئے کوئی جگہ نہیں۔
تمام سامراجی طاقتوں، قبائلی اور جاگیردارانہ روایات اور سیکیورٹی قومی ریاستوں کی طرف سے استعمال کئے گئے حربوں میں بڑی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے مثلا انسانی عقل، اجتماعی جذبات اور اجتماعی سیاسی و سماجی شعور کی ارتقا پر حد درجے کا کنٹرول اور تسلط حاصل کرنا ان کا مقصد ہوتا ہے۔ سب سے پہلے وہ کچھ خاص قسم کے رویوں اور چال چلن کے قواعد و ضوابط کو نافذ کرتے ہیں جنہیں ’نظم و ضبط‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ پھر کچھ خاص قسم کی سوچ اور اخلاقی پیمانوں کومتعارف کراتے ہیں۔ یہ سب کچھ وہ پہلے اپنے مفاد کے لئے کرتے ہیں اورپھر ان لوگوں کی آواز دبانے کے لئے جو پہلے سے وضع شدہ اصولوں اور معیاروں میں تضادات کا مشاہدہ کر سکتے ہوں اورعام لوگوں، بعض سیاسی گروہوں اور برادریوں کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی بے اختیاری کو دیکھ سکتے ہوں۔ پھر ایسی آوازوں کو دبانے کی خاطر یہ مذکورہ بالا طاقتیں کسی بھی خاص شخص، پارٹی، گروپ، برادری یا صنف کی حق تلفی کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتی ہیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف 'بدعنوان'، 'بد اخلاق' اور 'غدار' کی اصطلاحات کا کثرت سے استعمال ان حربوں میں سے ایک حربہ ہے۔
دوسری بات، مقامی روایات اور اختلاف رائے رکھنے والی صداؤں کی حق تلفی اور حکومتی نقطۂ نظر کو کائناتی صداقت ثابت کرنے کی خاطر یہ طاقتیں ایک خاص نوعیت کی مذہبی اور سیاسی تلقین کے لئے ایک باقاعدہ، یک رنگ اورمربوط ذرائع ابلاغ کا استعمال کرتی ہیں۔ خاص طور پر تعلیم، عوامی میڈیا اورسوشل میڈیا کے میدانوں اورعوامی، آئینی، قانونی اوراداراتی بحث و مباحثہ میں حکومتی نقطۂ نظر کے نفوذ کے لئے ان ذرائع کا استعمال بڑے مربوط طریقے سے کیا جاتا ہے۔
تیسری بات، کہ یہ طاقتیں متنوع قابلِ عمل حکمت عملیوں کے ذریعے حکومتی نقطۂ نظر کے دوام اورعقلی و جذباتی کنٹرول کی پا سداری کو ہر صورت یقینی بنانے کے لئے ایک خاص قسم کی جذباتی فضا پیدا کرتی ہیں۔ معلومات پر کنٹرول اور پھر خاص طور پر ان معلومات کی نشرواشاعت کو مرکز کے تابع رکھنا، ان قابلِ عمل حکمت عملیوں میں سے ایک ہے۔ اس طرح ایک طرف اختلافِ رائے رکھنے والوں، دیسی روایات اور تخلیقی قوتوں کے راستے میں روڑے اٹکانا آسان ہو جاتا ہے تو دوسری طرف تبدیلی کے ان علمبرداروں کو ’بدعنوان‘، ’غدار‘ اور’بد اخلاق‘کے القاب سے نوازنا آسان ہو جاتا ہے۔
اب ایسے حالات میں تبدیلی کے علمبرداروں، تخلیقی صلاحیت کے حامل افراد، سماجی، ثقافتی اور سیاسی و فکری تکثیریت پر یقین رکھنے والوں، سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور سیاسی آزادی رائے کے لحاظ سے کمزور، محروم اور بے اختیار لوگوں کے لئے کھڑے ہونے والوں کی کیا حکمت عملی ہو نی چاہیے۔ اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *