خوش فہمیوں کی فصل اور خواب کی چھتری

asghar nadeem Syedخواب دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ آنکھیں بند کر کے حالات کے جبر سے فرار حاصل کر کے اپنی پسند کا ماحول بنا لینا کسے برا لگتا ہے۔ جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں اسے خیالوں میں پا لینا آسان ہوتا ہے۔ یہ صلاحیت اللہ نے ہمیں بخشی ہے کہ ہم جب چاہیں کسی بھی صورت حال سے خود کو آزاد کر لیتے ہیں۔ اپنے فیض احمد فیض صاحب تو مستقل اپنی صورت حال سے غیر حاضر پائے جاتے تھے۔ وہ ایسے کہ محفل جاگ رہی ہے۔ بھائی ایاز امیر کے بقول مشروب دل گداز گردش میں ہے۔ طر ح طرح کے خیالات کا طوفان موجیں مار رہا ہے۔ یار لوگ فیض صاحب کی موجودگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں کہ اچانک کوئی آزاد خیال فیض صاحب کو مخاطب کرکے کہتا ہے ”ہاں تو فیض صاحب سے پوچھتے ہیں ان کا کیا خیال ہے“۔ فیض صاحب چونکتے ہیں جیسے اپنے خیالوں سے کسی نے انہیں بے دخل کر دیا ہوں۔ وہ سمجھ نہیں پاتے کہ کیا پوچھا گیا ہے؟ پھر بھی محفل کی شان برقرار رکھتے ہوئے بات بناتے ہوئے کہتے ہیں۔ ”ہاں.... یہ بات ہے۔ مگر کیسے ہے۔ یہ دیکھنے کی بات ہے“۔ فیض صاحب کا یہ انداز ان کے احباب بخوبی جانتے تھے کہ وہ محفل میں ہوتے ہوئے بھی وہاں نہیں ہوتے تھے۔ ساری زندگی انہوں نے اسی طرح چلن کیا۔ ’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘۔
ایسے ہی جرمن نوبل یافتہ ناول نگار ہرمن ہیس نے اپنی خودنوشت میں ایک جگہ لکھا ہے کہ وہ کسی جرم میں جیل چلے گئے۔ جیل سے جب وہ چاہتے فرار حاصل کر کے باہر آجاتے تھے۔ وہ ایسے کہ انہوں نے کوئلے سے جیل کی دیوار پر ایک ٹرین بنائی ۔ جس میں سے انجن دھواں بھی نکال رہا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں میں اس ٹرین میں بیٹھ کر جب چاہتا باہر نکل جاتا۔ مرضی کی جگہوں پر گھومتا۔ چائے خانوں اور شراب خانوں میں بیئر پیتا اور جب جیلر میری کوٹھری کے باہر آتے، میں واپس آجاتا۔ کیا فیض صاحب اور ہرمن ہیس کی طرح ہم نے بھی اپنے خوابوں کی چھتری کھول لی ہے۔ میں ایسا کیوں محسوس کر رہا ہوں کہ کچھ عرصے سے ہم نے حالات سے تنگ آکر اپنے اردگرد خوش فہمیوں اور خوابوں کے جزیرے بنا لیے ہیں جن پر ہم جب چاہتے ہیں داخل ہو جاتے ہیں۔ وطن عزیز میں کچھ عرصے سے بلکہ یہ عرصہ بھی اب عرصہ دراز میں تبدیل ہو گیا ہے کہ کوئی بڑا سکینڈل سامنے آتا ہے۔ میڈیا ڈھول بجانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ وہ بڑی مچھلی یا مگرمچھ ایجنسیوں کے ہتھے چڑھتا ہے یا نہیں چڑھتا اور لندن سے ان ایجنسیوں کو للکارتا ہے۔کچھ دیر بڑا شغل میلہ لگتا ہے۔ کالم نویسوں کی پوبارہ ہو جاتی ہے۔ عوام اس تماشے کو دم بخود دیکھتے رہتے ہیں۔ جب ڈگڈگی ذرا مدھم پڑنے لگتی ہے اور غبارے سے ہوا نکلنے لگتی ہے تو ہم کسی اور میگا سکینڈل کا غبارہ پھلا لیتے ہیں اور میڈیا پھر سے ہرا بھرا ہو جاتا ہے۔ چند دن پھر توقعات اور امکانات کی مچھلیاں پکڑنے میں گزر جاتے ہیں۔ پھر وہ منظر سے ہٹ جاتا ہے اس کی جگہ ایک اور نیا کردار ابھر آتا ہے۔ اس یونانی المیے کا کامیاب ڈرامہ جاری ہے۔ کردار صف بہ صف تیار کھڑے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا کردار کاسٹیوم پہنے نمودار ہوجاتا ہے۔ کیا یہ کھیل ہم نے میڈیا کی کامیابی کے لیے تیار کیا ہے۔ یہ کردار ایک ایک کر کے آتے ہیں اور غائب بھی ہو جاتے ہیں۔ اب تک جو کامیاب کردار اس ڈرامے میں نمودار ہوئے ہیں ان میں الطاف حسین، آصف زرداری، ایان علی، ذوالفقار مرزا، مشاہد اللہ خاں، قاسم ضیا، ڈاکٹر عاصم حسین اور آنے والے کرداروں میں یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس دوران کپتان نے بھی اپنی کامیاب انٹری دی ہے اور تین وکٹیں اڑانے کے بعد اپنی تین وکٹیں بچانے کی سوچ رہے ہیں۔ کیا اس سارے کھیل کے کردار اپنے انجام کو پہنچ سکیں گے ۔پردہ کب گرے گا؟
وہ جو خوش فہمیوں کے جزیروں کی بات میں نے کی ہے تو اب اس پر آتے ہیں۔ پہلی خوش فہمی بلوچستان کے حالات پر ہم نے قائم کر لی ہے۔ پہلے کچھ باغی پہاڑوں سے اترے اور انہوں نے ہتھیار دے کر پاکستان کا جھنڈا حاصل کیا۔ پھر 14اگست کو یہ پرفارمنس دہرائی گئی۔ ہماری خوش فہمی اور بڑھ گئی۔ اس بیچ خان آف قلات سے بات چیت نے ایک اور خوش فہمی کو جنم دیا۔ اس کے بعد براہمداغ بگٹی کے بیان نے ہمارے خوش فہمی کے جزیرے پر پھولوں کی فصل پیدا کر دی۔ لیکن ساتھ ہی مجھے کچھ بلوچی دانشور ملے۔ میں نے اپنی خوشی بیان کی۔ وہ تو میری خوش فہمی پر مسکرا دیے۔ ملتان سے لاہور آتے ہوئے بس میں ایک نوجوان ملا جو لورالائی بلوچستان کا الیکٹرانک انجینئر فرید خان ہے۔ کہنے لگا ملازمت نہیں مل رہی۔ تھوڑی سی زمین ہے۔ اس پر کچھ سبزی اگ جاتی ہے۔ چولہا جل جاتا ہے۔ زیرزمین پانی ختم ہو رہا ہے۔کسی نے ٹیوب ویل لگا کے پانی نکال لیا۔ انگریز کے عہد سے چلا آ رہا کا ریز کا نظام ناکارہ ہو چکا ہے۔ لورالائی کے انار، سیب، بادام اور آڑو کے باغ بنجر ہو رہے ہیں۔ میں نے اپنی خوش فہمی کا سہارا لیا اور بتایا کہ بلوچستان میں تبدیلی آرہی ہے۔ اس کا امن بحال ہو جائے گا۔ اس نے بتایا کہ میری خوش فہمی کے قالین کے نیچے اب بھی بہت سا اسلحہ موجود ہے۔ جب ایران کو سبق سکھانا ہوتا ہے تو ہزارہ لوگوں کا قتل عام ہو جاتا ہے ۔ جب سعودی عرب کو آنکھ دکھانی ہوتی ہے تو ان کے لوگوں کو مار دیا جاتا ہے۔
ایسی ہی خوش فہمی ہم نے کراچی کے حالات سے باندھ لی۔ کراچی میں رینجرز کے آپریشن میں بڑی اہم پیش رفت ہوئی۔ کسی مصلحت میں آئے بغیر ہاتھ ڈالنا شروع کر دیا۔ بہت سے گینگ اور بہت سے جرائم پیشہ افراد کو پکڑ لیا۔ عدالتوں میں بھی پیش کر دیا۔ الطاف حسین بھی کود پڑے۔ ایسے بیان دیے جس سے بدن میں جھرجھری آجاتی ہے۔ جرائم میں نمایاں کمی محسوس کی گئی تو ہم نے خوش فہمی کے جزیرے آباد کر لئے۔ ایسے میں رشید گوڈیل پر حملہ ہو گیا۔ اس سے رینجرز کے روڈمیپ پر شاید اثرنہ پڑے اور سندھ میں کسی ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنانے کا تاثر ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد کمزور پڑ گیاہے۔ سب کچھ بظاہر درست سمت میں ہو رہا ہے۔ پھر بھی میری خوش فہمی کا جہاز سمندر پر بری طرح ڈول رہا ہے۔ وہ ایسے کہ ہمارے ہر مسئلہ کا واحد حل فوج ہے یا رینجرز ہیں۔ ہم کب تک گھر کے دروازوں پر پہرے بٹھا کر امن پیدا کریں گے۔ کیا رینجرز کے جانے کے بعد پھر سے وہ مافیا یا گینگ جو اب بکھر رہے ہیں، اکٹھے نہیں ہو جائیں گے اور سب سے اہم سوال جو اس وقت انڈر گراﺅنڈ ہو چکے ہیں، وہ باہر آگئے تو کیا ہو گا۔
ایک اور خوش فہمی کا جزیرہ پنجاب کی صورت حال نے بھی پیدا کیا کہ شاید اب ان تنظیموں پر ہاتھ ڈالا جائے گا جو اندر ہی اندر متوازی عسکری قوت بن چکی ہیں۔ کچھ اڈے مسمار ہوئے۔ کچھ دہشت گرد مارے گئے۔ سرچ آپریشن تو ہو رہا ہو گا مگر جو زہر پورے معاشرے کے رگ و ریشے میں پھیلا ہوا ہے کیا اس کی صفائی ہو جائے گی۔ روزانہ کی بنیاد پر ملنے والی امید افزا خبروں نے پھر سے خوش فہمی کو جنم دے دیا ہے۔ ایسے میں ملک کرنل شجاع خانزادہ سے محروم ہو گیا۔ اب سننے میں آیا کہ آپریشن ضرب عضب آخری کنارے پر پہنچ رہا ہے اور جلد ہی مکمل ہو جائے گا۔ کاش ایسا ہی ہو۔ ہماری خوش فہمی کی فصلیں تیار ہو رہی ہیں۔ ساتھ ہی ان فصلوں میں آج چار دہشت گردوں کے داخل ہونے کی خبریں آرہی ہیں۔ کیا خوش فہمی کی یہ فصلیں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں تو نہیں بن جائیں گی۔
پشاور سے کراچی تک پھیلی ہوئی غربت، بے سروسامانی، بے اطمینانی، جہالت، تعصب ، منافقت ، ریاکاری، لاقانونیت، اجتماعی غصہ، عدم برداشت، لوٹ مار اور ناانصافی کی موجودگی میں ہم اپنی خوش فہمیوں کی فصلوں کو کب تک بچا پائیں گے۔ بہتر ہے فیض صاحب اور ہرمن ہیس کی طرح روزانہ کی بنیاد پر اپنے حالات کے جبر سے نکل کر خوابوں کی چھتری تان لیا کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *