’غزوہ ہند‘: ایک حقیقت

mian amirکچھ روز قبل روزنامہ دنیاپاکستان میں ڈاکٹرفاروق خان ( مرحوم ) کا کالم نظروں سے گزرا جس میں ’غزوہ ہند‘ سے متعلق پانچ احادیث مبارکہ کو ضعیف ثابت کرنے کی ناکام کوشیش کی گئی۔ کالم پڑھ کر ایک سوچ دماغ میں آئی کہ آج کل پاکستان اور انڈیا کی سرحدوں پر حالات کشیدہ ہیں اور جو بیانات بھارتی آفیشلز اور ان کے میڈیا کی طرف سے آرہی ہیں وہ صاف اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بھارت زبردستی پاکستان پر جنگ مسلط کرنا چاہتاہے اور پاکستانیوں کی یہ روایت رہی ہے کہ جب بھی پاکستانی سرحدوں کی طرف دشمن نے میلی نگاہ ڈالی پاکستانی عوام نے اپنی فوج کے شانہ بشانہ لڑ کر دشمن کو بھگایاہے اور اس موقع پر ایسا کالم آنے کا کیا مقصد ہوسکتا ہے تو مجھے اس کے صرف دو مقاصد ہی سمجھ آئے۔ وہ غلط بھی ہوسکتے ہیں۔ ایک کہ ملک میں جو نام نہاد تنظیمیں لوگوں کو ورغلا کر دہشت گردی کی طرف راغب کرتی ہیں ان سے عوام اور ریاست کو محفوظ رکھنا۔ اور دوسرا کہ اس تحریر کے ذریعے وہ جہاد کا جذبہ رکھنے والے لوگ جو پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ لڑکر پاکستانی سرحدوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں ان کے حوصلے کو توڑنا ۔ انہی دونوں سوچوں کو لے کر میں نے کچھ علما کرام سے رابطہ کیا کہ ان احادیث مبارکہ کی اصلیت کیا ہے ۔
تحریر لمبی نہ ہو جائے، اس لیے ایک حدیث کی تفصیل لکھ رہا ہوں اس سے ہی پڑھنے والوں کو اندازہ ہو جائے گا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:
میری امت میں دوگروہ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے آگ سے محفوظ کردیا ہے ۔ ایک گروہندوستان پر چڑھائی کرے گا اور دوسرا گروہ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہو گا۔
انہی الفاظ کے ساتھ یہ حدیث درج ذیل محدثین نے روایت کی ہیں
امام احمد نے مسند میں
امام نسائی نے السنن المجتبیٰ میں
شیخ ناصرالدین البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے
اسی طرح السنن الکبریٰ میں بھی
ابن ابی عاصم نے کتاب الجہاد میں سند حسن کے ساتھ
ابن عدی نے الکامل فی ضعفاءالرجال میں
طبرانی نے المعجم الاوسط میں
بہیقئی نے السنن الکبرہ میں
ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں
امام دیلمی نے مسند الفردوس میں
امام بیسوطی نے الجامع الکبیر میں
امام مناوی نے الجامع الکبیر کی شرح فیض القدیر میں
امام بخاری ( جن پہ سب مسلک متفق ہیں ) نے التاریخ الکبیر میں.
اللہ رب العزت نے فرمایا کہ قران کی حفاظت میرے ذمے ہے تو ہمارا ایمان ہے کہ جس نبی کے ذریعے قران ہم تک پہنچایا اور سکھایا تو اس نبی کے فرمان کی حفاظت بھی اللہ ہی کرتا ہے۔ سارے حوالے میں دے چکا ہوں پڑھنے والے خود بھی تحقیق کرلیں سچ اور جھوٹ کا اندازہ ہو جائے گا۔
اب آتے ہیں کالم کے دوسرے حصے کی طرف جس میں ایک اور حدیث میں ہند اور سندھ کے الفاظ آئے ہیں جن کو موصوف نے علاقائی زبانوں میں الجھانے کی کوشش کی ہے کہ " س" اور " ھ " کو بدل لیا جاتا تھا۔ موصوف تاریخ کے طالبعلم رہے ہیں اور انھوں نے اپنے پڑھنے والوں سے یہ بات چھپائی کہ محمد بن قاسم کو لشکر دے کر بھیجا گیا تھا سندھ پے لشکرکشی کے لیے اور اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی تھی۔ جناب اس واقع کو پوشیدہ اس لیے رکھا گیا کہ شاید وہ جو لوگوں کو یقین دلانا چاہتے تھے یہ واقعہ اس حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل تھی ۔
اب آتےہیں اس کالم کے آخری اور جس مقصد کے لیے غزوہ ھند کی احادیث کو ضعیف قرار دینے کی کوشیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ جنگ کا اعلان صرف ریاست کرسکتی ہے اس بات سے مجھے بھی ایک فیصد اختلاف نہیں مگر یہ کہاں کا اصول ہے کہ دشمن آپ پر حملہ کرے اور آپ کے پاس مخالف کی طاقت کے برابر جب تک جنگی سازوسامان نا ہو آپ جنگ نہیں کرسکتے۔ جناب خوددار قومیں سامان جنگ کے ساتھ ساتھ جذبات سے بھی لڑتی ہیں بےشک ان کو ہار کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے مگر وہ بزدلوں کی طرح بنا مقابلہ ہار نہیں مانتیں۔
میری اس تحریر کا مقصد خالصتا حقائق کی درستی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *