جنگی جنون : سائے بھی جل جائیں گے

karimullahپاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ممالک میں گڑ بڑ کرانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہی ہوتا ہے، اس میں کوئی نئی بات نہیں لیکن اب ایک دوسرے پر گولہ باری بھی شروع کر دی ہے۔ بھارت نے زیادہ گولے مارے جس سے بے گناہ پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔متعدد زخمی بھی ہوئے۔اس کشیدگی پر دنیا کو پریشانی لاحق ہوگئی ہے ۔ دونوں ایٹمی ممالک ہیں۔ زیادہ کشیدگی بڑھنے پر جنگ شروع ہو سکتی ہے اور اگر کوئی ملک زیادہ دباؤ میں آ گیا تو ایٹمی ہتھیار بھی استعمال کر سکتا ہے۔ وہ ہتھیار انار کلی کے شوروم میں رکھنے کے لئے نہیں بنائے گئے۔ امریکی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس اگلے دس برسوں میں ایٹمی ہتھیاروں کا تیسرا بڑا ذخیرہ ہو جائے گا یعنی امریکہ اور روس کے بعد پاکستان کے پاس سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ہو ں گے۔ ایک تیسری دنیا کا ملک اتنے ایٹمی ہتھیار رکھے یہ بات پہلی دنیا کے لئے کافی تشویشناک ہے۔ بھارت نے جب سنہ چوہتر میں ایٹمی دھماکہ کیا تھا اس وقت بھارت کو چین سے نہیں، پاکستان ہی سے خطرہ تھا کیونکہ بھارت پاکستان کے دو حصے کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں امریکہ اور روس کا بھی عمل دخل تھا۔ اس کے بعد پاکستان کو بھی ایٹمی دوڑ میں شامل ہونا پڑا۔ لیکن اس دوڑ میں دونوں ممالک اپنے عوام کو بھول گئے۔دونوں ممالک میں اب بھی کروڑوں لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ عورتیں دوران زچگی انتقال کر جاتی ہیں، بچوں کو پوری خوراک نہیں ملتی اور وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں ،ہر سال لاکھوں لوگ سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوکربے گھر ہو جاتے ہیں، ہزاروں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔لیکن دونوں ممالک کی حکومتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بس ان پر جنگی جنون سوار ہے . امریکی نمائندہ اس جنون کو کم کرنے کے لئے پاکستان پہنچ چکی ہے ۔اقوام متحدہ کے مبصرین نے کنٹرول لائن کا دورہ کیا ہے اور وہاں پر متاثرین سے ملاقات بھی کی ہے۔
ان دونوں ممالک نے ایٹم بم کی تباہ کاریاں نہیں دیکھیں ۔ ایک ایٹم بم پچاس مربع کلومیٹر کے علاقے میں تباہ پھیلا سکتا ہے جس میں کچھ علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں دور دور تک کے علاقوں میں لوگ معذور ہو جاتے ہیں اور کچھ علاقوں میں آئندہ نسلیں معذور پیدا ہوتی ہیں۔ جاپان سے پوچھیں وہ کیوں نہیں ایٹم بم بناتا؟ جنگی جنون صرف مسلمان ملکوں ہی میں کیوں پایا جاتا ہے۔ غیر مسلم ممالک آپس میں کیوں نہیں لڑتے، امریکہ کے قریبی ممالک کیوبا وغیرہ اس کے پرانے دشمن ہیں لیکن ان میں جنگ نہیں ہوتی۔وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز اقوام متحدہ میں بھی بش کی ایسی تیسی کرتے رہے لیکن وہاں جنگ نہیں ہوئی، جنگ ہوتی ہے تو افغانستان میں، شام میں، ایران میں، سعودی عرب میں، یمن میں اور عراق میں۔۔۔ ایسا کیوں ہے؟ جہاں کہیں دہشت گردی ہوتی ہے، اس کے تانے بانے مسلمانوں سے جا ملتے ہیں .مسلمان ممالک کے عوام اور حکمرانوں کو کچھ سوچنا چاہئے۔عوام کے منہ سے نوالہ چھین کر جنگ لڑنا کہاں کی دانشمندی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *