صفحہ تین پر نسوانی حسن کی نمائش جاری ہے

venessa thropeاخبار ’دی سن‘ کئی برس سے صفحہ تین پر عورتوں کی ایسی تصاویر شائع کرتا ہے جن میں اوپری دھڑ لباس سے بے نیاز ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس اخبار نے اب اپنے ناقدین کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے تو اس نے اپنے شائقین کو شرارت آمیز انداز میں خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور پھر اپنے ناقدین کا منہ چڑھانے کے لیے انگریزوں کا روایتی مزاحیہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ وہ اپنے صفحہ تین پر عورتوں کی ننگی چھاتیوں والی تصویروں کی اشاعت کی روایت ختم کر رہا ہے۔ کئی روز تک معاصر اخبار کا صفحہ تین عورت کی برہنہ چھاتیوں والی تصویروں سے محروم رہا۔ پھر اچانک ایک روز اس پرانی روایت کی بحالی کے اعلان کے ساتھ ہی صفحہ 3 پر22 سالہ نکول اپنی ننگی چھاتیوں کے ساتھ اخبار کے قارئین کی ہوائے بصارت کی تسکین کے لیے پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ افروز نظر آئی۔
بظاہر اخبار نے یہ ہتھکنڈہ اس لیے استعمال کیا تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرنے میں آزاد ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ’دی سن‘ کے ایڈیٹر عورتوں سے متعلق اس حساس معاملے کے کس پہلو کو اجاگر کرنا چاہتے تھے، انہوں نے غیرارادی طور پر ایک اہمvenus_goddess_pic سوال کھڑا کر دیا ۔ وہ سوال یہ ہے کہ ہم عورتوں کو جس نظر سے دیکھتے ہیں اس کے بارے میں یہ برہنہ تصویریں کیا کہتی ہیں؟
قدیم زمانے سے مغربی ثقافت میں عورت کی شکل و صورت اور جسمانی ساخت کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے حتیٰ کہ عورت کے جسم کو حسن کا دائمی مظہر قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن ایسا ہر زمانے میں نہیں ہوا۔ کلاسیکی ادبیات کی استاد میریا برڈ کے بقول ایک زمانے میں کم از کم مجسمہ سازی میں مردانہ اعضا کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’مصوری کے برعکس مجسمہ سازی میں زمانہ قدیم ہی سے مردانہ برہنگی کو جسمانی طاقت اور برتری کا مظہر تصور کیا جاتا تھا۔ ماضی بعید میں جھانک کر دیکھیں تو ساتویں صدی قبل ازمسیح کے شروع میں یونانی مجسمہ سازی میں یہی رحجان غالب نظر آتا تھا۔ چوتھی صدی قبل از مسیح تک عورتوں کے برہنہ مجسموں کا وجود نہیں تھا اور ان کے اچانک منظرعام پر آنے کا سبب ابھی تک متنازع ہے. یونانی شہر کنیدس میں حسن و عشق کی دیوی افرودیتی کا مجسمہ قدیم ترین خیال کیا جاتا ہے ۔ یہ دیوی سدرہ اور وینس کے ناموں سے بھی مشہور ہے۔ اس مجسمے کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ مجسمہ katie-price_650_070214021955_080514124610ساز نے کمال چابک دستی سے دیوی کا ہاتھ ایک خاص زاویے پر رکھ کر پوشیدہ اعضا کو چھپا دیا ہے۔ حسن و عشق کی دیویوں کے برعکس قدیم یونان کی ایک جنگجو عورتوں کے ( جنہیں لوگ ایمزن یعنی بغیر پستان والی کہتے تھے) کے مجسمے دانستہ ایسے بنائے جاتے تھے کہ انہیں دیکھ کر خوف پیدا ہو۔ یہ اساطیری جنگجو عورتیں اپنی ایک چھاتی کاٹ دیتی تھیں تاکہ انھیں کمان کھینچ کر تیر چلانے میں مشکل نہ ہو۔ باقی رہ جانے والی ایک سے صرف لڑکیوں کو دودھ پلایا جاتا تھا۔ لڑکا پیدا ہو جائے تو وہ اسے پھینک دیتی تھیں گویا اس دور میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی قدر زیادہ تھی۔
اس وقت سے اب تک نسوانی حسن کے نشانات کو اچھے ، برے ،مادرانہ اور جنگجو پستان سمجھا جاتا رہا ہے۔ مغربی آرٹ میں چھاتیوں کی یہ درجہ بندی اتفاقی نہیں۔ نشاۃ ثانیہ کے عہد میں مادرانہ پستان کی تصویرکشی کثرت سے ملتی ہے۔ بچے کو دودھ پلاتی ہوئی میڈونا خوش قسمتی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ میڈونا اصل میں مریم ہے اور وہ ان تصویروں میں ننھے یسْوع مسیح کو دودھ پلا رہی یعنی اسے اچھے نصیب کی نوید دے رہی ہے۔ ان تصویروں میں مصور یہ اشارہ بھی دے رہا ہے کہ مریم خوش قسمتی کی یہی نوید نادار عیسائیوں کو بھی دے رہی ہے۔ جلد ہی چھاتی سے بچے کو دودھ پلانے والی میڈونا مذہبی قربانی کے تناظر میں یسْوع مسیح کے آخری امتحان یعنی صلیب پر خون بہانے کا مظہر یا علامت بن گئی۔
رفتہ رفتہ عورتوں کا بالائی برہنہ دھڑ معاشرے میں شہوت پرستی کی علامت بن گیا۔ ہوگارتھ اپنی تصویروں میں طوائفوں کو برہنہ دکھائے یا پلے بوائے میں آنا نکول اسمتھ اپنے نسوانی اثاثوں کی نمائش کرے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں کیونکہ ان کے خیال میں عورت کا برہنہ بالائی دھڑ مرد میں شہوانی جذبات ابھارنے کا سبب بنتا ہے۔ میریلین یالوم (Marilyn Yalom) اپنی کتاب ’’چھاتی کی مختصر تاریخ‘‘ (1998) میں لکھتی ہیں کہ سیاسی اور معاشی وجوہات کی بنا پر تاریخ کے مختلف ادوار میں اہل مغرب کے ذہنوںstunning-marble-bust-of-venus-roman-goddess-of-love-345cm-high- میں عورت کے بالائی دھڑ کے بارے میں ایک مخصوص تصور قائم رہا۔ نیز لوگ عورت کے برہنہ سینے کو کس نظر سے دیکھتے یا پیش کرتے تھے، اس بارے میں بھی ان کی سوچ تبدیل ہوتی رہی۔ مغرب کے برعکس افریقہ اور جنوبی بحرالکاہل کی ثقافت اور فنون بلکہ حقیقی زندگی میں بھی عورتیں ننگی چھاتیوں کے ساتھ گھومتی پھرتی اور کام کاج کرتی نظر آتی ہیں۔ ان کی برہنہ چھاتیوں کو دیکھ کر نہ تو کسی کے اخلاقی جذبات مجروح ہوتے ہیں اور نہ ہی شہوانی جذبات برانگیختہ۔
برطانوی تاریخ میں عورتوں پر سادہ اور باحجاب لباس پہننے کی پابندی کا تعلق پاک دامنی کے ساتھ ساتھ باپوں اور خاوندوں کا ادب و احترام بھی تھا. انگلینڈ میں شاہ ہنری ششم (14211501471) نے برہنہ سینے کے درباری فیشن پر اعتراض کیا اور اسے دربار کی توہین قرار دیا۔ شاہ ہنری ہشتم کی محبوبہ این بولین کے بارے میں انکشاف ہوا کہ اس کی نسوانی اثاثے بہت مختصر تھے اس کے باوجود وہ شاہ کی آنکھوں کا تارہ بنی رہی۔ اس کی بیٹی ایلزبتھ اول کے دور میں زنانہ اور مردانہ لباس کی حدود دھندلانے لگیں خاص طور پر بالائی لباس میں یہ رجحان بہت مقبول ہوا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لباس ملکہ کو خوش کرنے کے لیے اختیار کیا گیا کیونکہ وہ عورت ہو کر مردوں والے کام سرانجام دے رہی تھی۔
انگریزوں کی طرح فرانسیسی بھی زنانہ جسمانی خصوصیات پر معانی کے بوجھ لادنے کی طویل روایت رکھتے ہیں۔ فرانس کی دو مقدس ہستیاں، جون آف آرک اور انقلابی رہنما میری این، تو اپنے بالائی دھڑ کی بدولت پہچانی جاتی ہیں۔ ایک نے دوران جنگ اپنی چھاتیوں کو ملٹری سینہ بند سے ڈھانپا ہوا ہے اور دوسری نے انھیں ننگا رکھ چھوڑا ہے۔ دونوں غیر معمولی طور پر طاقتور اور با رعب نظر آتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ 1969ء میں بننے والی ایک فلم میں بچے جیسا چہرہ رکھنے والی بریجیت باردت نے میری این کا کردار ادا کرکے اس کی چھاتیوں کا انقلابی تاثر کم کر دیا۔ فرانس میں شیمپین کے جام نوش کرتے وقت نسوانی حسن کا جشن منانے کا بالواسطہ رواج بھی پایا جاتا ہے۔ اگرچہ ماری اینٹونیئٹ انقلاب سے ایک صدی قبل پیدا ہوئی تھی تاہم ایک عام روایت یہ ہے کہ شیمپین کا روایتی گلاس اس کی چھاتی کی شکل میں بنایا گیا ہے۔ خیال رہے انگریزوں نے بھی گزشتہ سال اس جشن کی نقل کی تھی لیکن شیمپین کے جو گلاس انہوں نے استعمال کئے وہ مشہور ماڈل کیٹ ماس کے نسوانی اثاثوں کی شکل میں بنائے گئے تھے۔
آرٹ اور فوٹوگرافی سے باہر کی دنیا میں نسوانی جسمانی خصوصیات کا بس ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے بچوں کے لئے دودھ پیدا کرنا اور پلانا۔ لیکن اگر آپ انٹرنیٹ پر اس کے بارے میں معلومات تلاش کریں تو آپ کی رہنمائی ان ویب سائٹوں کی طرف کر دی جاتی ہے جہاں یا تو عریاں فلمیں ملتی ہیں یا چھاتی کے سرطان کے بارے میں معلومات۔ روایتی طور پر بچوں کو دودھ پلانے والی ماؤں کو اکثر محتاط رہنے یعنی پبلک مقامات پر دودھ نہ پلانے کی نصیحت کی جاتی ہے۔ مغرب میں آج بھی ماں کا اپنے بچے کو دودھ پلانے کا فریضہ (جو کہ ہر زچہ بچہ کا بنیادی حق ہے) چھپ چھپا کر ادا کیا جاتا ہے.
چند دہائیاں قبل اپنے نسوانیت کی نمائش کرنے والی انگریز عورتوں کو ان کی جرات پر زبردست خراج تحسین پیش کیا جاتا تھا۔ دی سن کے صفحہ تین پر ایسی رونمائی کو کالج کی ڈگری کے بغیر ہی شہرت اور دولت کمانے کا یقینی ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ لوڈڈ میگزین کے ایڈیٹر ہارون ٹنی کے بقول اب زمانہ بدل گیا ہے یعنی برہنہ ماڈلنگ کا کوئی مستقبل نہیں۔ وہ کہتے ہیں،’’میں اپنے رسالے میں ننگی چھاتیوں کی نمائش کرنا نہیں چاہتا۔ان عورتوں نے کون سا کارنامہ انجام دیا ہے کہ وہ میگزین کے صفحات پر جلوہ افروز ہونے کی حقدار ہو گئیں؟ کیا عورتوں کے لیے اب یہی ایک پیشہ رہ گیا ہے؟ عورتوں کی ننگی چھاتیاں اخباروں رسالوں میں دکھانے کا زمانہ بیت گیا. انٹرنیٹ نے اسے متروک کر دیا ہے‘‘۔
womenہارون ٹنی لوڈڈ میں آنے سے پہلے دی سن میں کام کرتا تھا. اب وہ لوڈڈ کو اس کے ابتدائی ایام میں واپس لے گیا ہے. یہ وہ دور تھا جب عریانی کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا. وہ کہتے ہیں، ’’ اپنے آغاز کے چند سال بعد تجارتی وجوہات کی بنا پر لوڈڈ بھی مردوں کو اپیل کرنے والے بازاری رسالوں کی راہ پر چل پڑا اور پورنوگرافی کی حدوں کو چھونے لگا لیکن اب رسائل میں عریانی پیش کرنے کا کوئی تجارتی فائدہ نہیں‘‘۔ ہارون کا خیال ہے کہ مارگریٹ تھیچر کے دور میں مردوں کو اپیل کرنے کا کلچر عام ہوا۔ نوجوانوں کی جنس مخالف کے اندر جھانکنے کی خواہش بڑھ گئی. ان کے بقول سارہ کاکس جیسی مردانہ خصوصیات کی حامل عورتیں بھی اس رحجان کو تقویت دینے کا سبب بنیں لیکن اب حالات یکسر بدل گئے ہیں کیونکہ عورتوں کے جسمانی خدوخال سے متعلق ہر زاویہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔
ہارون ٹنی کی رائے میں حقوق نسواں کے علمبرداروں کو عورتوں کو درپیش ان مسائل پر توجہ دینی چاہئیے جو کہ دی سن کے صفحہ تین سے کہیں زیادہ گمبھیر ہیں۔ دوسری طرف خاتون ادیب نتاشا والٹر ان سے اتفاق نہیں کرتی۔ وہ پوچھتی ہے، ’’کیا عورتوں کے حقوق کے حامی عورتوں کے ختنہ اور پورنوگرافی کے خلاف جدوجہد نہیں کر رہے؟ میں ان معاملات پر جتنا زیادہ سوچتی ہوں، اتنا زیادہ احساس ہوتا ہے کہ ان معاملات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ بلاشبہ میں اپنی ذاتی حیثیت میں کسی ایک مسئلے کا انتخاب کرکے اپنی توانائیاں اس پر مرکوز کر سکتی ہوں لیکن صفحہ تین جیسے بظاہر چھوٹے یا حقیر نظر آنے والے مسئلے بھی بڑے مسائل کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ہم انھیں نظر انداز نہیں کر سکتے‘‘۔
نتاشا والٹر کی کتاب "زندہ گڑیاں: جنسیت کی واپسی"عورتوں کے قومی دن کی مناسبت سے گزشتہ مارچ میں پھر شائع ہوئی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دی سن کے صفحہ تین کی مخالفت سنسر شپ ہرگز نہیں بلکہ یہ تو اس صفحے پر نسوانی عریانی کی نمائش پر اعتراض ہے. وہ لکھتی ہیں، ’’ہماری مہم کا مقصد صفحہ تین پر پابندی لگانا نہیں۔ نسوانی حسن ہمارے اردگرد آرٹ میں، عجائب گھروں میں اور زندگی میں موجود ہے اور موجود رہے گا۔ لیکن صفحہ تین پر نسوانی عریانی کی نمائش کرکے اخبار اپنے قارئین کو کیا پیغام دے رہا ہے؟ یہی کہ مردوں کی نگاہ میں عورت کی بس اتنی ہی قدرو قیمت ہے جو اس کی ننگی چھاتیوں میں ہے۔ اسی اخبار میں لکھنے والی عورتیں صفحہ تین پر جلوہ آرا جوان اور دلربا حسیناؤں کے مقابلے میں کچھ عجیب سی لگتی ہیں۔ وہ یا تو جنسی طور پر پرکشش نہیں لگتیں یا بہت مصروف نظر آتی ہیں‘‘۔
نل گوین سے شروع ہو کر دیتا وون تیسی، جینی منسفیلڈ، باربرا ونڈسر اور پامیلا اینڈرسن تک بہت سی عورتیں مردوں کے جنسی جذبات برانگیختہ کرنے کے لئے اپنی نسوانیت کی نمائش کر چکی ہیں لیکن ڈالی پترون، میڈونا اور کرسٹینا ہندریکس کو چھوڑ کر ان میں سے شاید ہی کوئی اپنے حسن کو گردش ایام سے محفوظ رکھ سکی ہو۔ یہ سوچ غیر منصفانہ ہے کہ جن عورتوں کے نسوانی اثاثے ایک خاص سائز کے نہیں ، وہ اپنی جسمانی کشش سے لاپرواہ ہیں۔ اس غلط سوچ نے نسوانی حسن کو عورتوں کے لیے عزت اور وقار کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ بہرحالkatie-price-51-a مختصر نسوانی اثاثوں کی بھی اپنی ایک امتیازی کشش ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وکٹوریہ بیکھم کو سب سے زیادہ خوش پوش سپائس گرل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا. ادھر 2004ء میں بننے والی فلم کنک آرتھر کے پوسٹر میں کیرا نائٹلی کے نسوانی حسن کو مصنوعی طور پر بڑا کرکے دکھایا گیا تو کیرا نائٹلی نے اس پر احتجاج کیا۔ اسے اپنا اصل جسم ہی پسند ہے۔
ان حقائق کے باوجود سالانہ تین لاکھ خواتین اپنی چھاتیوں کو ایک تصوراتی سانچے میں ڈالنے کی امید میں پلاسٹک سرجری سے مدد لیتی ہیں۔ پلاسٹک سرجری کے ذریعے سلیکون امپلانٹ کرکے نسوانی حسن کا حجم بڑھانے کا آغاز 1962ء میں ہوا تھا. ابتدا میں جراحت کے ذریعے سائز بڑھانے کا رحجان نائٹ کلبوں کی رقاصاؤں ، ماڈلوں اور ہالی ووڈ کی اداکاروں میں مقبول ہوا۔ اب عام خواتین بھی جنسی کشش بڑھانے کے لئے اس طریقے سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ نیز سرطان سے متاثر ہونے والی خواتین کے لیے پلاسٹک سرجری ایک نعمت سے کم نہیں.
کیا عورتیں اخبارات اور ٹیلی ویڑن پر نظر آنے والے خوبصورت نمونوں کو دیکھ کر پلاسٹک سرجری کا رخ کرتی ہیں؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ اگر دی سن کے صفحہ تین پر عریاں نسوانیت کی نمائش بند کر دی گئی تو بھی نائٹ کلبوں میں نسوانی عریانی کی کی نمائش جاری رہے گی۔ بہرحال اس بحث سے حقوق نسواں کے حامیوں کے اس موقف کو تقویت ملی ہے کہ عورت کے جسم کو مال تجارت بنا دیا گیا ہے۔
اگر دی سن نسوانی عریانی کو معصومانہ تفریح کے طور پر پیش کرنے کا کوئی راستہ نکال لیتا تب بھی وہ تنہا ہی رہتا۔ جنس کو مضحکہ خیز سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرنے پر حقوق نسواں کے علمبردار صفحہ تین پر غیر شعوری طور پر عورتوں کی تذلیل کرنے کا الزام لگاتے جب کہ دوسرے لوگ دی سن کی اس حرکت کو قدامت پسندی تصور کرتے۔ تاہم نتاشا والٹر کے یہ الفاظ قابل غور ہیں، ’’ دی سن کے صفحہ تین پر نسوانی عریانی کی موجودگی سے صاف ظاہر ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *