محبت اور شرمندگی کے خوف تلے دبی عرب عورت

aya al hakimعرب معاشرے میں عورت پر ہر وقت ایک عفریت کا سایہ منڈلاتا رہتا ہے۔ اس دکھائی نہ دینے والے ہیولے کا مقصد انھیں محبت اور جنس کے فطری جذبات سے ڈرانا ہے۔ یہ عفریت ہم سب عرب عورتوں کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے دو معروف لفظ اکثر بولتا ہے۔ یہ لفظ ’عیب‘ اور ’حرام‘ ہیں جن کا مطلب ہے کہ ’تم خدا ،اپنے خاندان ا وردنیا کی نظر میں غلط کاری کی مرتکب ہو رہی ہو۔تم نے اگر شادی کے ’مقدس‘ رشتے کے علاوہ کچھ سوچا تو تم برباد ہو جاؤ گی۔‘
محبت اور جنسی جذبات کی تسکین کے حوالے سے عرب کے قدیم بدوی سماج میں ایک قسم کا خوف پایا جاتا تھا اور آج بھی بہت سے عرب خاندانوں میں بچپن ہی سے یہ خوف بچوں کے ذہنوں میں ڈالا جاتا ہے۔ بدوی سماج کے ’عزت کے پیمانے‘ اب ہماری اقدار کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ان اقدار کے مطابق اگر کوئی خاتون مخصوص دائرے سے نکل کر جرات کر لے تو خاندان کی عزت خاک میں مل جاتی ہے اور وہ’توہین کاا ستعارہ‘ بن جاتی ہے۔ اس عورت کے ذاتی جذبات اور احساسات معاشرے کی ’مقدس عزت‘کے تصور کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتے ۔
میں ہمیشہ سے سوچتی رہی ہوں کہ ہمارے معاشرے میں عزت سے جڑے اصولوں میں کچھ نہ کچھ غلط ضرور ہے۔ ہمارے بدوی سماج میں Arabian-Hijab-Designs-fashion-on-womenقبیلے کا سربراہ مرد ہوتا ہے اور فیصلہ سازی کے جملہ اختیارات بھی مردوں کی ایک شوریٰ کے پاس ہوتے ہیں۔عورتوں کو معاشرے میں اپنی حیثیت کے تعین کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ آج جبکہ بدوی سماج ختم ہوتا جا رہا ہے اور لوگ صحراؤں کی زندگی سے چھٹکارہ پا رہے ہیں، ان حالات میں ہم عورتیں تبدیلی کے لیے جد وجہد کر سکتی ہیں۔
جب میں کینیڈا منتقل ہوئی تو میں نے دیکھا کہ اکثر عرب اب اس ’عفریت‘ سے خود کو آزاد سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ اس ’عفریت‘ کو ساتھ ضرور لائے مگر میں نے اس سے مکمل طور پر جان چھڑا لی ہے۔ مجھے یہاں اپنی قدیم روایات کی روشنی میں عرب عورت کی سماجی حیثیت کے بارے میں نئے طریقے سے غور وفکر کا موقع ملا۔ تحقیق کے نتیجے میں مجھے شاندار عرب ادب میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں بہت کچھ ملا۔ اس دوران میرے پیش نظر اردن میں اپنی نوجوانی کے ایام میں شرم،احساسِ جرم اور خوف کے تصورات بھی تھے۔
محبت اور جنس انسان کے بہت ہی ذاتی معاملات ہیں۔ عرب دنیا میں ان جذبات کی تسکین کا سامان پوشیدہ طور پر کیا جاتا ہے۔ ایک ایسی پوشیدہ اور پراسرار دنیا جہاں عورت ایک وقت میں دو زندگیاں جیتی ہے۔ ایک وہ جو اس کے خاندان کے سامنے ہے اور دوسری اس کی ذاتی تسکین سے جڑی ہوئی زندگی۔ عورتوں کو اپنے خاندان کے افراد کے سامنے جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ وہ کہاں جا رہی ہیں؟ کس کے ساتھ جا رہی ہیں؟ان سوالوں کے جوابات عرب عورت کو گھڑنا پڑتے ہیں ۔ گویا عرب عورت کوپکڑے جانے کے اندیشے کے باعث ہمیشہ ایک متبادل منصوبہ یا ’پلان بی‘ ذہن میں رکھنا ہو تا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عرب خاتون کے لئے اپنی زندگی گزارنا ایک ’فوجی مہم‘ سے کم نہیں ہوتا۔
designعرب معاشرے میں شادی سے قبل دوشیزگی کا زائل ہو جانا انتہائی نفرت انگیزعمل سمجھا جا تا ہے۔ یہ عمل خاندان کی عزت کے لئے تباہ کن ماناجاتا ہے۔ وہاں ’مقدس کنوار پن‘ ایک بیش قیمت اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔اس حوالے سے ایک مشہور کہاوت بھی عام ہے کہ’عورت مٹھائی کی مانند ہے ۔ اگر آپ اسے زمین گرا دیں تو کبھی دوبارہ اسے اٹھا کر کھانا پسند نہیں کریں گے۔‘عرب میں عورتوں کو جملہ اسباب کی طرح ایک’ چیز‘ سمجھا جاتا ہے۔ وہاں عورت’نیک‘ ہو یا’فاحشہ‘ ہر حال میں وہ ایک ایسی جنس کے طور پر سامنے آتی ہے جس کے دو رنگ ہوتے ہیں۔
انسانوں کے رومانوی تعلقات میں پائی جانے والی رنگا رنگی کو گھڑے گھڑائے اصولوں میں لانا مناسب نہیں ہوتا تاہم میں نے بہت سے لوگوں کے شادی سے قبل صنفی تعلقات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ان کے ہاں محبت اور جنس مکمل طور پر الگ اور باجواز ہوتے ہیں۔عمان میں صنفی معاملات کے متعلق تعلیم کا کوئی تصور نہیں۔ چنانچہ نوجوان جوڑے انتہائی خوفزدہ اور حفاظتی تدابیر سے بالکل لاعلم رہتے ہیں لیکن یہاں کینیڈا میں صورت حال مختلف ہے۔ یہاں ہائی اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں صحت کے مراکز ہیں جو جنسی صحت اور فیصلہ سازی کے بارے میں معروضی انداز میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ یہاں محفوظ صنفی تعلقات ہر شخص کی پہنچ میں ہیں لیکن مشرق وسطیٰ میں اس سہولت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جوڑوں کی جذباتی اور جسمانی بے اطمینانی مستقل خطرہ ہوتی ہے جو ان کی زندگی کو مستقل طور پر ’گناہ‘ اور ’خوف‘ کے اندھے کنویں میں دھکیل دیتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں غیرت کے نام پر لگ بھگ 5000 قتل کئے جاتے ہیں جبکہ حقیقی تعداد تو اس سے کہیں زیادہ ہو گی۔ قتل کے یہ واقعات زیادہ تر مشرق وسطٰی،شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا میں پیش آتے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اردن کے نوجوانوں کی بڑی تعداد ’غیرت کے نام پر قتل‘ کو درست کہتی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ اب وہاں مختلفArabic-scarf-2013-201411 www.She9.blogspot.com. عمروں کے مردوخواتین اس سوچ کے مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’جرم کی کوئی عزت نہیں ہوتی‘۔اب وہاں عوامی محفلوں میں مباحثوں کی ایک نئی رو چل پڑی ہے۔
ولادہ بنت مستکفی ایک عرب شاعرہ اور بنو امیہ کے عہد کی شہزادی تھی۔ وہ بہت اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی اور شہزادی ہونے کی حیثیت سے بہت مالدار بھی تھی۔ اس نے اپنے محل میں ایک ’ادبی مجلس گاہ‘ قائم کی تھی۔ وہاں شاعری اور ادب کی تعلیم دی جاتی تھی جو اس وقت مردوں کا میدان سمجھا جاتا تھا۔ اس شہزادی نے زندگی کہ ہر شعبے میں عورتوں کے کردار کو تسلیم کیا۔شہزادی نے اپنی ’ادبی مجلس گاہ‘ میں مردوں کے ساتھ شاعری کے کئی مقابلے بھی منعقد کرائے۔ اس کی شاعری میں بھی جا بجا صنفی تفریق کو چیلنج کیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شہزادی نے ساری زندگی شادی نہیں کی ۔وہ ساری زندگی اکیلی رہی مگر اس کے دومعاشقے بھی کھلے عام جاری رہے۔ اس نے حجاب پہننے سے انکار کر دیا تھا اور اس کا لباس بہت باریک ہوتا تھا۔ گو کہ اس طرز عمل نے مقامی مذہبی پیشواؤں کو مشتعل کیا مگر وہ اپنے طور طریقوں میں تبدیلی کے لئے کبھی تیار نہ ہوئی۔ شہزادی ولادہ نے ایک عرب لڑکی ہوتے ہوئے اپنی نجی امنگوں کا کھل کر اظہار کیا۔ جب شہزادی ولادہ کو مذہبی پیشواؤں نے womanw’گناہ گار‘‘ قرار دیا اور اس کے لباس اور زندگی پر تنقید کی گئی تو اس نے اپنی شاعری میں اس کے خلاف پرامن احتجاج کیا۔ چند شعر ملاحظہ کریں:
بائیں جانب:
میں خدا کی طرف سے بڑے درجوں کے لیے چنیدہ ہوں
اور میں اپنی راہ پر فخر سے چلتی ہوں
اور دائیں جانب:
میں اپنے محبوب کو اپنے گال چھونے کی اجازت دیتی ہوں
اور میں اس شخص پر اپنا بوسہ نچھاور کرتی ہوں جو اس کی تمنا کرتا ہے

(آیا الحکیم عراقی نژاد کینڈین لکھاری اور شاعرہ ہیں ۔ آپ یونیورسٹی آف کنگز کالج ہیلی فیکس میں صحافت کی طالبہ بھی ہیں۔ انہوں نے عمان میں خواتین کے حقوق اور سماجی مسائل کے لئے جد وجہد کی۔)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *