تہران براستہ کوئٹہ و زاہدان

Saleem-Mazhar (1)وزارت ثقافت، حکومتِ ایران کی دعوت پر ایم اے فارسی کے پندرہ طلبہ اور اپنے ایک رفیق کارمعین نظامی صاحب ( تب ہم دونوں لیکچرر تھے اور پی۔ایچ۔ڈی بھی نہیں کیا تھا) کے ساتھ جولائی 1991ء میں براستہ کوئٹہ، زاہدان ، ایران جانے کا موقعہ ملا۔ یادش بخیر چلتن ایکسپریس پر لاہور سے کوئٹہ روانہ ہوئے۔ بیس گھنٹے کے تھکا دینے والے مگر پر لطف سفر کے بعد کوئٹہ پہنچے۔ چونکہ اُس زمانے میں ابھی موبائل فون کا ظہورنہیں ہوا تھا، اِس لئے اپنے آپ میں مصروف ہوجانے کی بجائے سب لوگ باہم گپ شپ کرتے گئے۔ وہاں پر خانۂ فرہنگ ایران، کوئٹہ ہمارا میزبان تھا۔ اُس کے ڈائریکٹر اسدی صاحب نے میزبانی کا حق خوب ادا کیا۔ ہم نے دو دن کوئٹہ میں گذارے۔ قائد اعظم ریذیڈینسی، زیارت، ھنہ اوڑک جھیل اور دیگر مضافاتی مقامات کی سیر کی اور تیسرے دن بس پر بیٹھ کے 1350 کلومیٹر کے سفر پر پاکستان۔ ایران سرحدتفتان کے لئے روانہ ہو گئے۔ بس کا ڈرائیور نہایت راست گو انسان تھا۔اُس نے اپنی سیٹ کے اوپرلگے آئینے پر لکھوا رکھا تھا کہ ’ سفر سے پہلے کلمہ پڑھ لیں، کہیں یہ تمہاری زندگی کا آخری سفر نہ ہو‘، اور پھر اپنی ڈرائیونگ کے ذریعے ویسا ہی نتیجہ نکالنے کی بھر پور کوشش کی، اگرچہ اُس کی مُراد پوری نہ ہوئی اور سارے مسافر منزل پر پہنچ گئے۔ اُن دنوں ا بھی آر سی ڈی (کوئٹہ۔تفتان) سڑک مکمل نہیں ہوئی تھی، چند کلو میٹر پختہ راستے کے بعد کچی سڑک کا طویل سفردر پیش ہوتا تھا۔ لگتا تھا کہ ڈیزرٹ ریلی میں شریک ہیں وہ بھی کھٹارا بس پر، چنانچہ کُچھ کلو میٹر سفر کے بعد ٹائر صدا لگا دیتا کہ’ تھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام old-quetta-finalآیا‘۔ خلاصہ یہ کہ چلتے، رُکتے کہیں آخر شب کو پاکستانی کے سرحدی قصبے تفتان جا پہنچے۔ راستہ دُشوار گزار تھا اور گرمی اتنی زیادہ تھی کہ ملتان اور سبّی شرمندہ ہوں۔ شدید لُولگنے سے سوائے دونوں ٹیچرز کے سب مسافرراستے میں بیمار ہو گئے۔ اصل میں ٹیچرز کو اوّل راہ ہی میں یہ مرحلہ درپیش ہو گیا تھا۔ میں کہ ساری زندگی منزلِ مقصود اور وعدہ گاہ پر دیر سے پہنچنے پرپچھتاتا اور ساتھیوں سے تاخیر کی معذرتیں کرتا رہا ہوں، اب پہلی بار جلد پہنچ جانے پر غمگین اور پشیمان ہوا۔ کیونکہ سب تھکے ہارے تھے اور بیٹھنے کی سب سے مناسب جگہ اُسی بس کی وہی سیٹیں تھیں جن پر ہم پچھلے آٹھ پہر سے پہلو بدل بدل کر سفر کرتے آئے تھے۔ نہ کوئی ہوٹل، نہ ریسٹورنٹ نہ سرائے، نہ ہی بجلی، نہ پانی، چٹیل میدان اور سائیں سائیں کرتی تیز گرم ہوا۔ ویسے تو تقریباً ساڑھے تیرہ سو کلو میٹر کی نیم پختہ بین الاقوامی شاہراہ پر سوائے دو تین جگہوں پر چھپر ہوٹلوں کے، ذرا سا سستانے اور کھانا وغیرہ کھانے یا ٹوائلٹ کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی، گویا اقبال کی اپنے شاہینوں کوتجویز کردہ’ بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر‘ والی کیفیت در پیش تھی۔ البتہ وثوق تھا کہ منزل مقصود پر کوئی ٹھکانا میسّر ہو گا ، مگر’ یہ خیالِ پختہ خام‘ ہی ثابت ہوا۔ معلوم ہوا کسی سیالکوٹی پنجابی نے وہاں ایک سرائے نما ڈیرہ بنایا ہوا ہے جو صرف دن کو کھلا ہوتا ہے، وہاں بھی صرف نان چھولے نما ماحضر تناول کو دستیاب ہوتا ہے، رہائش وغیرہ کا کوئی بند وبست نہیں۔ البتہ دوسری طرف یعنی سرحد کے اُس پار سے چمکتی روشنیاں آنکھیں خیرہ کر رہی تھیں۔ ہمارا امیگریشن دفتر ایک جھونپڑی نما کمرے میں تھا، البتہ ریلوے لائن کے ایک حصّے پرایستادہ ایک از کار افتادہ ڈبہ بھی مبیّنہ طور پر حسّاس ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لئے مختص تھا۔
ہم نے جہاں تھے، جیسے تھے کی بنیادپر شب کے آخری پہر کو صبح کیا، پانی کے کچھ لوٹے خریدے، نسیم حجازی کے ناولوں کے ہیروز کی طرح دشت میں کھلے عام مُنہ ہا تھ وغیرہ دھوئے، ناشتہ کیا اور نوبجے سرحد کھلتے ہی اپنے پاسپورٹوں پر ’ خروج‘ ( Exit) کی مہریں لگوا کے، مومنانہ شان سے اِدھر ڈوبے، اُدھر جانکلے۔ سرحد کے اُس پار پختہ فرش اور خاصا وسیع امیگریشن ہال تھا جس میں ہمیں سب سے پہلا تجربہ محمود و ایاز کی تمیز کے بغیر، قطار quetta1میں کھڑے ہونے کا ہوا کہ اِس کے بغیر عملہ پاسپورٹ ہی نہیں لے رہا تھا۔ انگریزی کی جگہ وہاں کی قومی زبان فارسی نے لے لی تھی، گفتگو سے لے کے ضابطے کی تمام مکتوب و غیر مکتوب کارروائی فارسی میں ہو ئی۔ اب کے امیگریشن والوں نے ’ورود‘ (Entrance ) کی مہر لگا کے پاسپورٹ واپس کئے۔ ہمارے میزبان وہاں آئے ہوئے تھے، اُن کی مدد سے کوئی دو گھنٹے میں ساری کارروائی مکمل ہوئی اور ہمیں جانے کی اجازت مل گئی۔ وزارت ثقافت کے کارندوں نے کرائے کی دو ویگنوں میں ہمیں سوار کرایا اوراسّی کلومیٹر پر واقع ایرانی سرحدی شہر زاہدان کا رُخ کیا۔ چونکہ ہم میں سے کسی نے اُس وقت تک بیچ میں سفید لائنیں اور ریفلیکٹر لگی اتنی اچھی سڑک نہیں دیکھی تھی، نہ ہی وردی اور ٹوپی پوش ڈرائیوروں سے پالا پڑا تھا، ویگن کے دروازے آٹو میٹک انداز میں بٹن دبانے سے کھلنے اور بند ہونے کا مشاہدہ بھی نیا ہی تھا، اِس لئے حیرانی سے محو سفر رہے۔ پھر یہ کہ ڈرائیور کی نشست اور سٹیئرنگ بائیں جانب، جب کہ گئیر وغیرہ دائیں ہاتھ پہ تھے۔ گاڑی نے سپیڈ پکڑی ہی تھی کہ ہم سب کی چیخیں نکل گئیں کیونکہ سامنے سے ایک تیز رفتار ٹرک بالکل اُسی سمت سے آرہا تھا جس سے، پاکستانی ٹریفک کے مطابق، ہماری ویگن نے گزرنا تھا، اُس کے قریب آتے ہی ایکسیڈنٹ کے یقین سے سب نے آنکھیں بند کر لیں۔ لیکن تیز کراسنگ کی آواز آئی اور ٹرک گذر گیا۔ ڈرائیور اور میز بانوں نے ہمیں سمجھایا کہ ایران اور دوسر ے کئی ملکوں خاص طور پر عرب ریاستوں میں، برصغیر اور برطانیہ کے الٹ، ٹریفک دائیں سائیڈ پر چلتی ہے، اِس لئے پریشانی کی کوئی بات نہیں، اطمینان رکھیں اور سفر انجوائے کریں۔ ویسے ٹریفک کا دائیں ، بائیں چلنا سادہ لفظوں میں برطانوی اور امریکی استعمارکی علاقائی تقسیم آشکار کرتا ہے۔ میزبانوں نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ ایران میں گھر وغیرہ بنانے اور دُکان کھولنے کے لئے چونکہ حکومت کی اجازت درکار ہوتی ہے، اِس لئے ایرانی سرحدی قصبے کی آبادی میں نقل مکانی نہ ہو سکنے کی وجہ سے اضافہ نہیں ہو رہا۔ ہماری

SAMSUNG

پاکستانی سائیڈپر البتہ مادر پدر آزادی کی برکت سے نقل مکانی ہوئے جا رہی تھی، جس سے تفتان قصبہ سود خوروں کی دولت کی طرح پھیلے چلے جا رہا تھا۔ ڈرائیور نے ڈرائیونگ کے دوران اپنی سیٹ کے ساتھ رکھی ہوئی تھرماس سے کرسٹل کی پیالی میں بخارات چھوڑتا گرم عنابی قہوہ اُنڈیلا، دو گھونٹ لئے اور پیالی ڈیش بورڈ پر بنی مخصوص جگہ پر رکھ دی۔ وہ وقفے وقفے سے جرعہ کشی کرتا رہا اور ہمیں سفر ختم ہونے تک یہ دھڑکا لگا رہا کہ پیالی اب گری کہ تب گری، مگر سفر اور قہوہ ختم ہو گیا، لیکن سڑک ہموار ہونے کی وجہ سے پیالی اپنی جگہ قائم و دائم رہی۔
زاہدان میں ایک مہمان سرائے (Rest House)میں پہلا پڑاؤ ہوا۔ یہاں کمرے صاف ستھرے، موسم خوشگوار اور ماحول عمدہ تھا۔ چنانچہ سب لوگوں نے نہا کے کپڑے بدلے اور میزبانوں کی ہدایات کے مطابق ایک گھنٹے میں تیار ہو کے لاؤنج میں آ گئے۔ زاہدان میں پہلا کھانا بھی دلچسپ تھا، مرغی تھی تو روسٹ مگر کھال سمیت اور چاول جتنا گرم اور سفید، اُتنا ہی مرچ مصالحے سے پاک، پیاز پورے کا پورا اَن کٹا ہر پلیٹ میں سجا تھا اور ٹماٹر بھی مگر سیخ پر روسٹ شدہ، دہی کے علاوہ سرکے میں ڈوبے کھیرے وغیرہ سلاد کے طور پر، روٹی اُتنا ہی ٹھنڈی جتنا چاول گرم۔ مقامی طور پر بنی ہوئی زم زم کولا کی بوتلیں کولڈ ڈرنک کے طور پر کھانے کے ساتھ تھیں نیز برف کی ڈلیوں کے بڑے پیالے۔ اگرچہ بوتلیں ڈیپ فریزر سے نکال کے لائی گئی تھیں، مگر ریسٹورنٹ میں ایرانی مہمان اپنے گلاسوں کو برف کی ڈلیوں سے بھر کے اُس میں اُن کامشروب اُنڈیل رہے تھے، سو اُن کی دیکھا دیکھی ہم نے بھی یہی کیا، اگرچہ کولڈ ڈرنک کے ہر گھونٹ کے بعد ٹھوڑیوں کو پکڑ کے دانتوں کو سہلانا پڑا۔ کھانے کے بعد عنابی قہوہ، تھوڑا ریسٹ اور پھر تہران کا اکیس سو کلو میٹر کا بس کا طویل سفر۔ دو دن بعد منزل مقصود پر پہنچے تو پانچ ستارہ ’ہوٹل لالہ‘ سابقہ Pearl Continental میں قیام نے ساری تھکن دور کر دی۔ اُس وقت کے طالب علم محمد مغیرہ ، فاروق احمد، سیّد عنصر اظہر، رفاقت علی سگو، امجد جاوید، غفور ملک، محسن شاہ، افتخار احمد وغیرہ، جو اب عملی زندگی میں اپنا مقام بنا چکے، ہم دونوں اُستادوں کا بھر پور خیال رکھے رہے۔ ہمارے میزبان حسین کرمی کے ساتھ ، جو بعد میں بطور کونسلیٹ جنرل ایران لاہور میں مامور ہو کے آئے تھے، بہت اچھا وقت گذرا۔ ایران میں ہم تہران کے علاوہ اصفہان، شیراز اور مشہد بھی گئے اور وہاں کی ثقافت اوررہن سہن کو دیکھ کے خوب سیکھا اور لطف اندوز ہوئے اورپندرہ روزہ سفری قیام کے بعد مشہد سے براستہ زاہدان، پاکستان آ گئے۔
اُس زمانے میں پاکستان۔ایران سفر زیادہ تر سڑک کے ذریعے تھا، ٹرین بھی چلا کرتی تھی۔ آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا، زائرین کے علاوہ سیّاحوں کی border-road-zahedanبھی کثیر تعداد ایران آتی جاتی تھی۔ ساڑھے تیرہ سو کلو میٹر کے طویل راستے میں کہیں کوئی پولیس چوکی، پٹرولنگ یا چیکنگ کا نام و نشان نہ تھا۔ اس سب کے باوجود لوٹ مار، راہزنی، تشدد، ٹارگٹ کلنگ کا کوئی ایک واقعہ بھی کبھی رپورٹ نہیں ہوا تھا، حالانکہ اِسی روٹ سے پھیرے باز سامان اور کثیر سرمایہ اپنے ساتھ لے کے جایا کرتے تھے، زائرین کی جیبیں بھی ڈالروں سے بھری ہوتیں ، چونکہ اُس زمانے کا ایران سستا تھا ،اِس لئے وہاں جانے والے ’ہم خُرما ہم ثواب ‘ کے مصداق سفر خرچ پورا کرنے کے لئے کمبل، پلاسٹک کے برتن اور پستہ و زعفران وغیرہ ساتھ لے آتے کہ پاکستان میں ان کی قیمت کم اور طلب زیادہ تھی۔ بلوچستان کے مقامی باشندے اِس بات کا فخر سے اظہار کیا کرتے کہ یہاں کسی کی دمڑی کا نقصان نہیں ہوتا۔ وہ اِسے بلوچ روایت قرار دیا کرتے، جو ایک حقیقت بھی تھی۔ پھر ایسا ہوا کہ اِس سب کوکسی نظر لگ گئی، یہی روٹ جوامن و خوشی کی ضمانت تھا، ڈاکوووں، راہزنوں اور نسلی و مذہبی تنگ نظری اورتعصبات کے شکارٹارگٹ کلرز کی آماجگاہ بن گیا۔ اب تو اِس پر آنا جانا بالکل بند ہے۔ پاکستان نے اِن دو تین دہائیوں میں کتنا نقصان کر لیا اپنا۔ اِس پر غور و خوض اور نقصان کے تدارک کی ضرورت ہے،کہ دو برادر اور ہمسایہ ملکوں میں عوامی رابطہ وسیع اور تیز تر ہو، تاکہ دونوں ایک دوسرے کی طاقت بنیں اور اغیار کی سازشوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس پورے سفر میں ہمارے نوجوان طلبا مستنصر حسین تارڑ جیسے سفر کی حسرت کرتے اور ایک دوسرے سے پوچھتے رہے کہ آخر ہمیں کیوں وہ دلفریب ہم سفر نہیں نصیب ہو رہے، جو تارڑ صاحب کے ہر سفر میں اُن کے آگے پیچھے منڈلاتے رہتے ہیں۔ پھر چونکہ اِس علمی سفر کی پلاننگ میں ابتداً طلبا کے ساتھ طالبات بھی شامل تھیں، بعض نے تو پاسپورٹوں کے ساتھ ساتھ لباس بھی سلوا لئے تھے، مگر جانا ممکن نہ ہوا۔ ہمارے شریک سفر طلبہ کو جب بھی یہ صنفی امتیاز یاد آتا، وہ اِسے طلبہ دشمنی گردانتے ہوئے یہ بھول جاتے کہ ہم اُن کے اُستاد ہیں، کمبخت وہ حسن سلوک شروع کر دیتے جو سوشل میڈیا پر آج کل تحریک انصاف کے ’تبدیلی رضا کار‘ مخالف سیاسی ورکرز کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *