پی پی پی کا اعلانِ جنگ؟

sibte Hasanبیرون ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی ایک مشترکہ عادت ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی ناشتے سے قبل ٹی وی آن کرنااور پاکستان کی خبریں سننا۔آج بھی ویسے ہی ہوا۔ ٹی وی کی سکرین روشن ہوئی تو اپوزیشن رہنما سید خورشید شاہ کسی متوقع جنگ کا اعلان کر رہے تھے۔فرما رہے تھے زرداری صاحب کی طرف ہاتھ بڑھا تو پھر اعلان جنگ ہو گا۔ معلوم ہوا کہ جناب زرداری کے دست راست اور ان کی ٹیم کے اہم ترین ممبر جناب ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جناب زرداری پر کوئی لاکھ تنقید کرے مگر اس بات کو جھٹلایانہیں سکتا کہ صاحب ہیں ’مردم شناس‘۔ جس بھی مرد میدان کو گمنامی کے اندھیروں سے اٹھا کر شہرت کی اوجِ ثریا پر پہنچایا ، ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے قومی سطح پر کوئی بڑا کارنامہ سرانجام نہ دیا ہو۔ اور جس کے کمالات کو دیکھ کر مخلوقِ خدا انگشت بدنداں نہ رہ گئی ہو۔ جناب زرداری جب جیل میں بیمار ہو کرہسپتال پہنچے تو جس ڈاکٹر سے رسم وراہ پیدا ہوئی وہ ہمارے ممدوح جناب ڈاکٹر عاصم ہی تھے۔ بہت جلد بڑے صاحب کی جوہر شناس نظروں نے بھانپ لیا کہ تم سٹیتھو سکوپ گلے میں ڈال کر چھوٹے سے ہسپتال کی تنگ راہداریوں میں گھومنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔ تمہیں تو اس بیمار قوم کی حالت سدھارنی ہے۔ چنانچہ موصوف کو شفا خانے کے تنگ ماحول سے اٹھا کر اقتدار کی وسیع اور روشن راہداریوں میں لایا گیا۔ کسی گستاخ سے گستاخ بندے کو بھی اتنی جرات نہ ہوئی کہ موصوف کے سیاست سے رشتے یا تعلق پر کوئی سوال اٹھاتا۔ بہت جلد انہیں سینٹ کا ممبر بنوا کر انتہائی اہم ترین وزارتِ پٹرولیم ان کے حوالے کی گئی۔ ایک انتہائی باخبر صحافی نے ایک دوسرے ڈاکٹر کا حال بھی لکھا ہے۔ جودشمنوں کے بقول عطائی تھا ۔ مگر اسے ایوان صدر کے خصوصی فنڈ سے ماہانہ صرف ایک کروڑ ہی عطا ہوا کرتے تھے۔ یعنی موصوف کوئی سوا تین لاکھ کے دہاڑی دار ہی نکلے۔ اس لیے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دینے سے محروم ہی رہے۔البتہ ڈاکٹر عاصم حکومت کے آخری دنوں میں اپنی زنبیل بھرنے میں خاصے کامیاب رہے۔ جس کا حجم ایک دوسرے باخبر صحافی نے چالیس ارب روپے لکھا ہے۔ جس میں صرف چار ہزار کروڑ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ہاتھ کے اتنے کھلے تھے کہ سی این جی کے لائسنس اندھے کی ریوڑیوں کی طرح بانٹے۔یہ وہ دور تھا جب شرمیلا فاروقی کے چچا محترم جناب سلمان فاروقی کی غربت دور کرنے کے لئے انہیں غریبوں، بیواؤں اور یتیموں کے فنڈ سے تقریباً سات کروڑ عطا ہوئے۔ اس حقیر سی رقم سے ان کی غربت پوری طرح دور نہ ہونے کا علم ہواتو ایک حکم جاری ہوا کہ پچھلے چار سال کے واجبات انہیں یکمشت ادا کیے جائیں۔ جو بمشکل ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ہی بن پائے۔
یہ ڈاکٹر عاصم ہی تھے جو اپنے پریشان پڑوسیوں کو بھی نہیں بھولے۔ یہ قصہ یوں ہے کہ ان دنوں ایران پر شدید بیرونی پابندیاں تھیں۔ اس کا تیل خریدنے کو کوئی تیار نہیں تھا۔ ہمارے اس پڑوسی نے ایک دوسرے ملک کو سستا ترین تیل بیچا جس پر موصوف نے ترس کھا کر ایران سے مہنگا ترین تیل خریدا تاکہ ہمارے پڑوسی کی غربت دور ہو سکے۔ جب پی پی پی کی مرکز میں حکومت ختم ہوئی تو موصوف یہاں سے اپنی دکان بڑھا کر سندھ جا براجے۔ سندھ حکومت نے بھی ان کی مہارتوں سے فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں کی۔ فوراً انہیں اعلیٰ تعلیم عام کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ اب ڈاکٹر صاحب ایک بڑی کاروباری سلطنت کے فرمانروا ہیں۔ ان پر عسکری ونگ کو منظم کرنے اور دہشت گردوں کی مالی سرپرستی کے الزامات ہیں۔ جس پر ہمارے متحمل مزاج اپوزیشن رہنمابھی بھڑک اٹھے کہ اس سے اگلی منزل پر تمہارے قدم پہنچے تو پھر جنگ ہو گی۔ کونسی جنگ سید بادشاہ؟اور کس کے بل بوتے پر؟ کیا عوام کے بل بوتے پر تو ایسا نہیں سوچ رہے؟ یا اپنی پارٹی کا کس بل آزمانے کا عندیہ دے رہے ہیں؟
اگر عوام کی بات کر رہے ہیں تو ان کے تن بدن میں غصے کی کوئی لہر نہیں دوڑی۔ اور رہی بات پارٹی کی تو وہ ہے کہاں پر؟ لیکن اس جنگ کی قیادت کون کرے گا؟ کیا میاں منطور وٹوقلب لشکر کے سپہ سالار ہوں گے۔ میمنہ و میسرہ کی قیادت کن جرنیلوں کے سپرد ہوگی؟ شاہ جی بھولے بادشاہ جو ہوئے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائے بغیر ہی طبل بجانے چل پڑے۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ میاں منظور وٹو ، شرجیل میمن اور رحمن ملک جیسے جرنیل کسی لنگرکی ڈیوٹی تو سنبھال سکتے ہیں لیکن میدان میں دادِ شجاعت دینا ان کے بس کی بات نہیں۔ شاہ جی کاش آپ نے یہ جنگ بھوک ننگ سے بلکتے عوام کے حق میں لڑی ہوتی۔اپنے اصل منشور پر عمل درآمد کے لیے لڑی ہوتی۔دو کروڑ سے زائد سکول سے محروم بچوں کی خاطر لڑی ہوتی۔ دم توڑتی توانائی کی بحالی اور خاموش مشینوں کے بوجھ تلے بے روزگاری اور بھوک سے مرتے مزدوروں کی خاطر لڑی ہوتی۔ پانی سے محروم روز بروز بنجر ہوتی ہوئی زمینوں کے سوکھے دھانوں پر بیٹھے تھر کے مایوس کسانوں کے حق میں لڑی ہوتی۔خیبر پختون خوا سے پنجاب اور پنجاب سے سندھ تک سیلابوں میں اپنا سب کچھ بہا کر قدرت سے آس لگائے بے خانماں لوگوں کی خاطر لڑی ہوتی۔تو آج آپ کی پیٹھ یوں خالی نہ ہوتی۔ چشم فلک نے یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر مبشر حسن کی پارٹی ایک بدعنوان اور غیر سیاسی وزیر کی خاطر جنگ کرنے نکل کھڑی ہو گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *