قول عمل اور نجات!!

azharسوچا یہی تھا کہ ترکی کا سفر نامہ جاری رہتا لیکن ایک فکری مغالطہ سامنے آگیا ۔ ظاہر ہے‘ فکری سفر جغرافیائی سفر پر فوقیت رکھتا ہے اورخیال ‘سوچ پر مقدم ہے ‘ اس لیے ایک فکری مغالطے کا جائزہ لینا کسی باغ، باغیچے اور ساحل کی منظر کشی کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ پچھلے دنوں بیٹے کے داخلے کے سلسلے میں اپنے پرانے کالج میں داخل ہونے کا موقع ملا ۔ وہاں ایک پروفیسر صاحب سے ملاقات ہوئی اور اُن کی ذاتی فکر پر مبنی ارشادات بھی سننے کا موقع ملا۔ ذاتی افکار اگر استاد اور راہنما کے ہوں تو ذاتی نہیں رہتے کیونکہ یہ افکار سفر کرتے ہیں اورنسلوں اور صدیوں کو متاثر کر تے ہیں۔ جتنا بڑامرتبہ ہوتاہے ‘ قول و فعل کے حوالے سے ذمہ داری کا میزان بھی اتنا ہی حساس ترہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک ڈگری کا زاویہ بھی دائیں سے بائیں ہو جائے تو جہاز کسی اورہی ملک میں جا اُترتا ہے۔ سفرجہاز کا ہو یا پھر ملک و قوم کا ‘ یہاں حادثہ دراصل سانحہ کہلاتا ہے۔ زما نہ ایک سمندر کی طرح ہے اورقومیں اس سمندر میں بحری جہازوں کی مانند محوِ سفرہیں۔ استاد ہو یا لیڈر‘ وہ ایک بہت بڑے جہاز کاناخدا بھی ہوتا ہے۔ غلطی اگرسیاسی ہو تودرست ہونے میں شاید چند دہائیاں درکار ہوتی ہیں لیکن فکری غلطی صدیاں کھا جاتی ہے۔ قوم ‘ قومِ بنی اسرائیل کی طرح کسی صحرائے نامعلوم میں بھٹکتی رہتی ہے، من و سلویٰ کا نزول موقوف ہو جاتا ہے اور راہنما رُوپوش ہو جاتے ہیں۔

پروفیسر صاحب لاہور کے قدیم کالج کی تاریخ بتا رہے تھے، وہ اس کالج کے پہلے پرنسپل کی تعریف میں بتا رہے تھے کہ وہ ایک یہودی تھا، ہنگری میں پیدا ہوا، قونیہ میں پلا ، بڑھا اورپڑھا،صرف بیس برس میں کنگز کالج لندن میں عربی کا پروفیسربن چکا تھااور فقط چوبیس سال کی عمر میں اسے یہاں لاہور میں ایک تعلیمی ادارے کی بنیادرکھنے کیلئے بھیجا گیا، وہ پرنسپل بہت قابل ، انتہائی لائق ،اور بے حد محنتی تھا!! یہاں سے آگے پروفیسر صاحب یوں چہکنے لگے’’ میں تو ایسے لوگوں کو فقیر، درویش اور ولی اللہ ہی کہوں گا،وہ لوگ جو مخلوقِ خدا کی خدمت کیلئے کمربستہ رہتے ہیں ، ادارے قائم کرتے ہیں، چھتر چھاؤں ہوتے ہیں ۔۔۔میں توسمجھتا ہوں ‘ رب تعالیٰ نے جنت ایسے لوگوں کیلئے بنائی ہے، ایسے لگتا ہے کہ قیامت کے روز رب ہمارے ناموں کے ٹیگ بدل دے گا ، یہ لوگ جنت میں ہوں گے اور ہم نااہل اور ناکام لوگ جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔‘‘ پروفیسر صاحب کے لیکچر کے عین درمیان‘ میرے ذہن میں حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک قول گونج رہا تھا ، آپ ؒ نے کہاتھا’’ اس شخص کے علم کی تعریف نہ کرو ‘ جس کی عاقبت تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے‘‘
ہائے قسمت! قوم دو قسم کے ملّاؤں میں گھر چکی ہے۔ ایک مدرسے کا ملّا ہے ‘جو اپنے درس کے نظام سے غیر متفق ہر کلمہ گوکیلئے جہنم لکھتا جارہا ہے، دوسری طرف سیکولرزم کے ملّاؤں کے ریوڑ ہیں‘ جو ریوڑیوں کی طرح غیر مسلموں میں جنت بانٹتے پھرتے ہیں۔ ایک کلمے کو ناکافی سمجھتا ہے ، دوسرا کلمے کو اضافی جانتا ہے۔ وہ دنیاوی فلاح کو دینی فلاح کا قائم مقام سمجھتا ہے۔ وہ باور کر چکا ہے کہ دین کے پیشِ نظر انسان کی مادی ترقی ، خوشحالی اورسائینس کی ایجادات کافروغ ہے۔۔۔ اور بس !! اس کے نزدیک غیب میں کھڑی حقیقتیں شائد مولویوں کی بتائی ہوئی علامتوں کی زبان میں بیان کی گئی ایک دیومالائی داستان ہےُ جسے ڈی کوڈ کرنا شاید مولوی کے بس کی بات نہیں اور مقصودِ داستان فقط کسی سائینسی ایجاد کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے ۔۔۔ اور مغرب چونکہ اس ’’حقیقت‘‘ تک پہنچ چکا ہے ، اس لئے وہ دین کے باطن کو سمجھ چکا ہے جبکہ کلمہ گو جاہل مسلمان صرف دین کے ظاہر کو چمٹا ہوا ہے۔ اس کے نزدیک عبادات، حدود، شریعت گویا اضافی چیزیں ہیں‘ جن سے ’’بچ‘‘ کر بھی دین کی ’’حقیقت‘ ‘ تک پہنچا جاسکتا ہے۔جب کوئی فکری مغالطہ‘ دین کی بنیادیات کو کچوکے دینے لگے تو لازم ہو جاتا ہے کہ اسے آئینہ دکھایا جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عملِ صالح کیا ہے؟ کسی عمل کے اچھا یا بُرا ہونے کا فیصلے کون کرے گا؟ جنت ، دوزخ ، میزان اور پل صراط جیسے غیبی حقائق پر لب کشائی بلکہ فیصلہ سازی کا حق کیا ہر اس شخص کو حاصل ہو جاتا ہے جس کے منہ میں زبان ہے اور اس کے جبڑے حرکت کرسکتے ہیں۔
غور طلب بات یہ ہے کہ ہم اپنے تئیں جنہیں جنت کا ٹکٹ تقسیم کئے جارہے ہیں وہ لوگ تو سرے سے اس جنت کے انکاری ہیں‘ جس کا دروازہ رسولِ خدا ﷺ کی مسکراہٹ سے کھلتا ہے۔ قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ اُخروی فلاح اور حصولِ جنت اگرکلمے کے بغیر بھی ممکن ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدائے عز وجل نے اپنے انبیاء اور رُسل کو بائی پاس کر کے اب مخلوق کے ساتھ براہِ راست معاملہ کرنے کا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔۔۔ سنتِ الٰہیہ تو یہ ہے کہ سنت الٰہیہ تبدیل نہیں ہوتی ۔سوال یہ بھی ہے کہ آیا انسان کی فوز و فلاح کی غرض سے بھیجے گئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی محنت اَکارت چلی گئی؟۔۔۔ کیا انسانی فلاح سائنس اور ٹیکنالوجی سے مشروط ہو چکی ہے؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر اس دنیا کو جنت زار بنانا ہی مقصودِ ہدایت و حیات ہے تو یہ کام بڑے دل کش طریقے سے فراعینِ مصر، نمرود ، شداد اور اقوامِ عاد و ثمود بھی کر رہے تھے۔ باغ، باغیچے اور شہر وں کی آباد کاری کیلئے ٹرائے ، آسوس اور بابل کے معلق باغات کیا بہتر مثالیں نہ تھیں؟ ۔۔۔ لیکن کیا ہوا؟۔۔۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب ان قوموں نے اپنی مادّی ترقی کے زعم میں انبیاء کی دعوتِ حق کا انکار کیا تو اِن کو تاریخ کے شو کیس میں نشانِ عبرت بنا کر رکھ دیا گیا۔ تاریخ کے مطالعے سے یہ احساس ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات اپنے رسولوں کے بارے میں بہت ’’حساس‘‘ ہے۔ صرف صفات کو ماننا کافی نہیں‘ ایمان ذات پر ہوتا ہے۔ وہ اپنے رسول ﷺ کی ذات کے منکر کو ابوالحکم سے ابو جہل بنا دیتا ہے۔ جب تک کوئی اس کے رسول ﷺپر ایمان نہیں لاتا، اس کا کلمۂ توحید اپنے اعمال ’صالحہ‘ سمیت غیر معتبر ٹھہرتا ہے۔
ہر راستہ کسی منزل کا امین ہوتاہے اور ہر راستے پر چلنے کے کچھ قواعد وضوابط ہیں۔ ان قاعدوں اور ضابطوں کی پاسداری کرنے والا ‘ پاسبانِ منزل ہو جاتا ہے۔دنیاوی ترقی کے اصول و مبادیات بھی موجود ہیں، جو قوم ان پر عمل کرے گی ‘ ترقی سے بہرہ مند ہو گی۔اسی طرح دینی و باطنی ترقی کے لئے باطنی کلیات موجود ہیں، جو بھی ان پر دل و جان سے عمل پیرا ہو گا ‘ نجات اور انبساط سے بہرہ ور ہوگا۔ باطن کی دنیا کا کلیہ قول سے شروع ہوتا ہے۔۔۔ حسنِ نیت سے ہوتا ہوا ‘ حسنِ عمل تک پہنچتا ہے ۔۔۔ اور وصل اور وصول کی منزلوں کے ہمراہ آسودۂ خیال ہو کر آسودۂ حال ہوتا ہے۔ کلمے کا وزن معمولی نہیں۔۔۔ کلمہ زمین و آسمان پر بھاری ہے۔۔۔ یہ طے شدہ بات ہے ، متفق علیہ حدیثِ پاک ہے ۔۔۔ من قال لاالٰہ الّا اللہ فقد دخلَ جنّتہ۔ جس نے لاالٰہ الّا اللہ کہہ دیا ‘ وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ یقینی بات ہے‘ اس قول پر وہی یقین کرے گا جو محمد الرسول اللہ پر ایمان لائے گا۔ کلمہ جنت کا پاسپورٹ ہے۔۔۔ جنت والوں کی طرف سے جاری شدہ ۔ درجات عمل کے مطابق ہیں۔

پردۂغیب میں موجود حقائق پرعقل کی شمع دان سے مستعار لی گئی روشنی ڈالنے کا شوق اکثرمہنگا پڑتا ہے ۔۔۔ پردے اٹھانے کے شوق میں انسان خود بے پردہ ہو جاتا ہے۔وہ دِین کا رہتا ہے ‘ نہ دنیا کا! دنیا دار اسے احمق سمجھتا ہے‘ کہ وہ دنیا دار کے سامنے وہ چیز پیش کر رہا ہے جس کی سرے سے اسے طلب ہی نہیں۔۔۔ اور دین داروں کی نظر میں وہ الفاظ اور ان کے معانی کی حدود میں غیر نصابی تجاوزات اوردخل در معقولات کا مرتکب ٹھہرتا ہے۔ایسی افتادِ طبع کا حامل بیٹھے بٹھائے منافقین میں جاشامل ہوتا ہے ۔۔۔ کافر اور مومن دونوں گروہوں میں بیک وقت مقبول ہونے کی خواہش اسے دونوں کی نظر میں غیر معتبر کر دیتی ہے۔

قرآن جیسے الہامی کلام کی اس سے بڑھ کر توہین کیا ہو سکتی ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم صرف عقل کا پیمانہ استعمال کرکے اس میں بیان شدہ تمام علوم و رموز کو آنک اور جانچ سکتے ہیں۔غیبی علوم ‘غیب سے تعلق اور تمسک کے بغیر کیسے حاصل ہو سکتے ہیں؟ غیب سے تمسک کا واحد راستہ یہی ہے کہ غیب کی خبر دینے والے نبیؐ سے تعلق قائم کیا جائے۔ تعلق ذات سے ذات تک رسائی کا نام ہے ۔ تعلق۔۔۔ ذاتی اور قلبی تعلق کا نام ہے۔ ایمان ایک نور ہے جوقلب میں داخل کیا جاتا ہے۔ یہ غیبی راز ۔۔۔قلبی تعلق کا کرشمہ ہے۔ اگر توہینِ رسالتؐ پر کوئی کلمہ گو اشتعال میں نہیں آتا اور اس کے قلب کی حالت دگردوں نہیں ہوتی تو اسے اپنے ایمان کے دعوے کی حقیقت پر غور کرلینا چاہیے۔ زبان سے اقرارہوتا ہے، تصدیق قلب سے ہوتی ہے ۔ ایمان کیلئے اقرار اور تصدیق دونوں لازمی ہیں۔قلبی لگاؤ کے بغیر دِین کے ساتھ’’ تعلق‘‘ کی حقیقت بس دین والوں کے ساتھ ایک اتفاقِ رائے رکھنے سے زیادہ کچھ وقعت نہیں رکھتی۔ دین پر چلنے والا اگر غیب کے راستوں کا مسافر نہیں بنتا تو دین پر چلنے کا دعویٰ ایک زبانی جمع خرچ کے علاوہ اور کیا رہ جاتاہے!! انسان کی عظمت پریہ کتنا بڑا بہتان ہے کہ فتویٰ دے دیا جائے کہ انسان عالمِ غیب سے کوئی رابطہ نہیں کر سکتا۔حالانکہ اُمتِ محمدیہ کیلئے عالمِ غیب سے رابطے کے تمام راستے بوسیلۂ رسولِ ؐ خداکھلے ہوئے ہیں۔۔۔ اہل اللہ رویائے صادقہ ، کشف ، القاء اور الہام کے طریق پر غیب سے شہود اور شہود سے غیب کاسفر کرتے رہتے ہیں۔ قرآن کریم میں جابجا ایک عام مومن کیلئے اِلقا ء ، مکاشفہ اور الہام کی اسناد موجود ہیں۔ ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا موجود ہے۔۔۔ سلاسل کی طریقت

اور طریقت کے سلاسل کی یہی اہمیت ہے۔ جوشخص بھی جس علم میں خود کو آراستہ کرنا چاہے ‘ چاہیے کہ وہ اپنے سے بلند درجۂ علم والے سے رابطہ کرے۔ از خود کسی موقف پر اصرار اسے ضد اور تعصب کی طرف لے جائے گا۔۔۔ اور تعصب حصولِ علم کی راہ میں پہلی دیوار ہے۔اگر ایک شخص فنِ شعر گوئی سے نابلد ہے ‘ تو وہ کم از علمِ عروض، غالبؔ ، میرؔ اور اقبالؔ کے وجود کا انکار تو نہ کرے۔ حق یہی ہے کہ وہ یہ کہے کہ مجھے اس کا تجربہ نہیں۔ جب کوئی شخص ایسے علوم کے ذوق سے محروم ہوتا ہے تو وہ قرآنی الفاظ کے معانی بھی لغت اور تاریخ میں تلاش کرتا ہے ، حالانکہ اہلِ علم کے نزدیک اصطلاحی مفہوم کو لغوی معنی پہنانا‘ ایک لغو حرکت ہے۔ جس طرح ایک وکیل جانتا ہے کہ لفظ ’’پارٹی‘‘ کے کیا معانی ہیں ، اور ایک ڈاکٹر ہی جانتا ہے کہ لفظ ’’ٹینڈر‘‘ کا مفہوم کیا ہے ۔۔۔اور ڈکشنری میں موجود ان الفاظ کے ترجمے کا قانون اور طب کے شعبے میں رائج مفہوم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔۔۔ اسی طرح ایک عالم دین جانتا ہے کہ دین میں رائج الفاظ اصطلاحی معنوں میں کس حقیقت کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ تصوف پر بات کرنے کیلئے بھی عالم ہونے کے ساتھ ساتھ عارف ہونا لازم ہے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے ’’ انسان جس حقیقت کا علم نہیں رکھتا‘ اس کا دشمن ہو جاتا ہے‘‘۔ اس علم دشمنی کی راہ میں پہلی معاونت اپنی عقل پر غرور سے حاصل ہو جاتی ہے۔ تعصب بھی غرور کا اظہار ہے۔ تعصب۔۔۔ ایک گروہی غرور ہے۔

دینِ اسلام مکمل دین ہے،یہ ظاہر اور باطن دونوں کا احاطہ کرتا ہے۔۔۔ ظاہر اور غیب‘ دونوں عالم کے حقائق سے آگاہی کاسامان کرتا ہے۔ اگر ظاہر ہی کافی ہے اور کسی غیب سے تعلق اور تمسک ایک جملۂ لایعنی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ دین فقط ایک سیاسی اور سماجی نظام دینے تک محدود ہے؟ایک فلاحی نظام تو اسلام اور کلمے کے بغیر بھی لوگ اپنے اپنے ممالک میں رائج کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً سکینڈے نیوین لوگ ہم سے یہ سوال کر سکتے ہیں کہ جس کلمے کی طرف بلا کر تم ہمیں ایک فلاحی نظام بنانے کی دعوت دے رہے ہو ‘ وہ نظام ہم اپنے معاشرے میں کلمہ پڑھے بغیر ہی رائج کرچکے ہیں۔ فلاح۔۔۔ ظاہر اور باطن دونوں عالم کی فلاح کا نام ہے ۔۔۔ اور باطن کا عالم کلمے پرایمان لائے بغیر نہیں کھلتا۔ کلمہ ۔۔۔توحید اور رسالت ؐ پر بیک وقت ایمان لانے سے مکمل ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر دین صرف عبادت گاہوں اور خانقاہوں تک محدود ہے تو اس کا مطلب یہ ہو اکہ دین ہماری ظاہری اور اجتماعی زندگی سے بے نیاز ہے؟ گویادین اور دنیا الگ الگ شعبہ جات ہوئے۔ دین مسجد سے باہر نہیں آتا اور دنیا اندر قدم رکھنے سے ڈرتی ہے ۔۔۔ فقیر حال مست اور امیر مال مست ۔۔۔ کوئی کسی کے کام میں ’’مداخلت‘‘ نہیں کرتا۔ گویا سیکولرزم کا ’’دین‘‘ اپنی پوری آب وتاب سے نافذ العمل ہے۔ سیکولرزم کے مولوی بتاتے ہیں کہ تم سیکولرزم کے نام سے مت گھبراؤ ‘یہ لادینیت نہیں بلکہ تمام دینوں پر عمل کرنے کی آزاد ی کا نظام ہے ۔ حالانکہ سیکولر معاشروں میں جا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے سیکولرزم ایک پورا دین اور نظام ہے ۔ مرنجاں مرنج نظر آنے والے اس نظام کی دُم پر کبھی پاؤں رکھ دیا جائے تویہ کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے ۔ کسی سیکولر ملک میں رائج آزادی کا قد ماپنا ہو‘ تو بس ذرا اتنی سی آواز لگا کر دیکھیں‘قمار بازی ، شراب ، سودبند ہونا چاہیے۔ بس پھر دیکھئے ! کیسے پوری ریاستی مشینری حرکت میںآجائے گی اوراس آواز کو براستہ ’’عدالت‘‘ قید خانے تک پہنچا کر دم لے گی۔ گویا نظر آنے والی یہ سب آزادی دراصل دین کے خلاف چلنے کی آزادی تھی۔ دین پر اجتماعی طور پر چلنے کی آزادی کا تصور یہاں اعلانِ بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض ملکوں میں ایک مسلمان عورت اپنا سر ڈھانپ لے تو وہ معاشرہ اسے اپنے خلاف ایک اعلانِ جنگ سمجھتا ہے۔ یہیں سے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی واضح ہوتی اور اس ملک کی بطور اسلامی ریاست‘ قدر وقیمت اور قد کاٹھ کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ایک طرف اسلامی ممالک میں اسلام کے نام پر ملوکیت کا دَور دَورہ ہے اور دوسری انتہا پر کچھ مسلمان ملکوں میں سیکولرزم کے دیوِ استبداد کا اندھا راج ہے۔ وحدتِ ملی کے تقاضوں سے بے خبر خود سَر ملّاؤں سے نجات پانے کیلئے کچھ لوگ مساجد کو حکومتی تحویل میں لینے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن مساجد کا اس طرح حکومتی تحویل میں چلے جانے کاایک نقصان یہ بھی ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے تنخواہ ، اسکیل اور ترقی پانے والے واعظ اور خطیب غیر اسلامی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی جرأت نہیں کر سکتے ۔۔۔ وہ دُعا بھی کرواتے ہیں تواُن کی آنکھ، لفظ اور دل کے درمیان کوئی ربط موجود نہیں ہوتا۔ گویا نماز اور خطبہ نہیں ‘ بلکہ ایک سرکاری ڈیوٹی ہے جو کسی ڈیسک کے پیچھے کھڑے ہو کر اَدا کر دی گئی ہے۔ فرائض اگر شوق سے ادا نہ ہوں‘ تو اعمال بس حرکات وسکنات ہیں ۔۔۔ تاثر سے اور تاثیر دونوں سے خالی !!

ایمان اور عمل صالح میں تعلق جاننے کے لیے عمل اور فعل کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ عمل اور فعل میں وہی فاصلہ ہے ، جو انسان اور جانور میں ہوتا ۔ انسان اعمال میں مصروف اور جانور افعال میں!! فعل ایک سیکولر اور سکیلر کام ہے جبکہ عمل اپنی نوعیت میں ویکٹر قسم کی چیز ہے۔ یہ دینی حوالے کے ساتھ نیت یافتہ ، نشان زدہ اور سئے حرم لے جانے والی سر گرمی ہے۔ فعل اگر نیت سے تعلق رکھتا ہے تو عمل کے قبیل سے ہے۔ وگر نہ ایک فعل ۔۔۔۔۔ بلکہ فعل محض کشف المحجوب میں حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش نیت اور فعل کے تعلق کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک شخص اگر صبح سے شام تک کسی وجہ سے بھوکا رہے تو اسے روزہ دار نہیں کہہ سکتے اگر ایک شخص روزے کی نیت سے ہو اور وہ بھول کر کچھ کھا پی لے تو اس کے کھانے اور پینے کے باوجود اسے رودہ دار ہی کہا جائے گا۔

ایمان پہلے ہے اور اعمال کے صالح ہونے کی سند بعد میں جاری کی جاتی ہے۔ اور طبع کی افتاد ہر شخص پر جدا جدا ہے ۔ کچھ طبیعتوں پر یہ افتاد سیاست نما خدمت کی شکل میں گرتی ہے اور کچھ پر خدمت نما سیاست کی صورت میں ۔ قرآن کا فیصلہ ہے کہ تم نیکی کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتے جب تک اللہ کی راہ مں وہ خرچ نہ کرو جو تمہیں سب سے زیادہ عزیز ہے۔ انسان کا مزاج اسے قدرتی طور پر سب س زیادہ عزیز ہوتا ہے ۔ نیکی کی قربت سستا سودا نہیں ۔ ۔۔۔ اس کی قربت کے لے اپنے مزاج سے فراق سہنا پڑتا ہے۔ نیکی کے قریب بھی جانے کی شرط کڑی رکھی گئی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو ، لوگ اپنے مزاج اور مفاد کی تکمیل کی سرگرمی کو نیکی نام دیتے رہیں۔

معاشی اعتبار سے کسی معاشرے کا ترقی یافتہ ہونا اس کے فلاح یافتہ ہونے کی دلیل نہیں ۔ اُخروی فلاح اور نجات ذاتی اور انفرادی ہے۔ نیند اور خواب کی طرح قبر اور نجات بھی اپنی اپنی ہے۔ قبرستان اگر خوبصورت ہو تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہو سکتا کہ ہر صاحب قبر خوش باش مزے کر رہا ہے۔ خوبصورت پل بھی کچھ لوگوں دریا پار نہیں کرواتے ۔بلکہ بسا اوقات لوگوں کے لیے خودکشی کے کام بھی آتے ہیں۔ صرف ظاہر پرست ہی ظاہر کو دیکھ کر باطن کا اندازہ قائم کر تے ہیں۔ یہ ایک ظن ہے۔۔۔ اور قرآن کا کلام ہے "یقین کے مقابلے میں ظن کچھ کام نہیں آتا"۔

بعض روشن خیال"محقق" بغیر سیاق و سباق کے قرآن کریم کی سورۃ البقرۃ کی آیت 62 کا حوالہ دے کر اندھا دھند غیر مسلموں کی اُخروی نجات کا ڈھنڈورا پیٹنے ہیں۔ قرآن پاک کی تفہیم کے حوالے سے ایک عجب نما امر یہ ہے کہ جس آیت کی تشریح مقصود ہے ، اس کے آگے اور پیچھے کچھ آیات پڑھ لینے سے سیاق و سباق اور مفہوم از خود کھل جاتا ہے۔ یہاں لفظ"آمنو"مراد اللہ ، رسولؐ اور روز آخرت پر ایمان ہے۔ رسولؐ پر ایمان لائے بغیر تو اللہ پر ایمان کی کوئی حقیقت ہے ، نہ قیامت پر ایمان کو کوئی مفہوم ہی بنتا ہے۔ ۔۔۔ بھئی !کون سی قیامت؟کیسی قیامت؟ کہاں ، کس پر، کیسے برپا ہوگی؟کیا ایٹمی جنگ کے چھڑ جانے کا نام قیامت ہے؟کسی وضاحت مانیں؟میزان ، جنت، دوزخ، پل صراط کا مفہوم ہم اپنی عقل سے کیسے متعین کر سکتے ہیں؟ رسولؐ پر ایمان لائے بغیر اللہ پر ایمان کا مفہوم کیا ہے؟ کیسا اللہ کہاں ہے؟مخلوق سے کیا چاہتا ہے؟ کب اور کہاں کلام کرتا ہے؟کیا اللہ پر"ایمان"رسالت ؐکا اقرار کیے بغیر ممکن ہو سکتا ہے۔ اللہ مخلوق کی دریافت تو نہیں ہےاور نہ قیامت مخلوق کی تحقیق سے ثابت ہوتی ہے۔ ایمان تو ہوتا ہی غیب پر ہے، جس چیز کو عقل ثانت کر سکتی ہے، اس پر ایمان لانے کا تصور بھی نہیں۔مثلاََ سورج مشرق سے نکلاتا ہے۔ ، سمین کی کشش ثقل ہوتی ہے ، یہ طبعی حقائق ہیں۔ ان کو ماننے کے لیے کسی نبی و مرسل کی ضرورت نہیں ۔لیکن الل، روز قیامت ، فرشتے ، میزان، جنت اور دوزخ وہ حقائق ہیں کہ رسول کی ذات پر ایمان لائے بغیر ان کا اعتراف نہیں ہو سکتا ۔ غیبی حقائق میں پہلے اعتراف ہوتا ہے پھر ادرا کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ رسالتؐ  کا اقرار کیے بغیر توحید کے اقرار کا کوئی اعتبار نہیں۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ڈاکٹر نعیم مشتاق کی کتاب"محمدؐ۔۔۔۔ اور بین المذاہب مکالمہ" میں مذکور بالا آیت کی مدلل تشریح تمام تر تاریخی سیاق و سباق کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ یہ تالیف جہاں اس موضوع پر معاصر کتابوں میں ایک گراں قدر اضافہ ہے، وہاں اس فکری مغلاطے(بغیر کلمے کے نجات) کے ابطال پر ایک جامع تحقیق بھی ہے ۔ یہ کتاب وقت کی اہم ضرورت تھی کیونکہ آج کل مکالمہ بین المذاہب کی آڑ میں نبوت و رسالت کی شان میں تنقیض ایک دانشورانہ فیشن بنتا جا رہا ہے۔ اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ رسالت محمدیؐ پر ایمان لائے بغیر بھی "نیک اعمال" کے سبب جنت اور نجات مل سکتی ہے۔ اس موضوع پر بولنے والے عطائی دانشوروں کو آئینہ دکھانے کی بھی ضرورت ہے۔ نیم حکیم کو خطرہ جان تو سب جانتے ہیں لیکن نیم ملا کو خطرہ ایان سمجھنے والے کم کم ہیں۔ کیا کبھی ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ سائنس ، انجینئرنگ اور معیشت کے موضوع پر سیمینار میں کسی مشہور گائیک یا مسوسیقار کو یکچر دینے یا اس موضوع پر ماہرانہ تبصرہ کرنے کی دعوت دی گئی ہو؟ کیا دین کا موضوع ہی خدا ناخواستہ ایسا غیر سنجیدہ ہے کہ یہاں ہر شعبے کا وی آئی پی اپنی کم فہمی کو دینی فہم جانتے ہوئے جفراخدلی سے فتوے داغ دے اور اس کے میزبان اور سامین بڑے تحمل سے اسے سنتے رہیں۔ آج کل ٹی وی پر مذاکروں کے نام پر کیا ہو رہا ہے؟ علم کے نام پر بد علمی اور تحقیق کے نام پر تشکیک کا کلچر عام نہ ہونا چاہیے۔

 اُخروی نجات ‘ آخرت ماننے والوں کیلئے ہے ۔ نجات کلمے سے وابستہ ہے۔ کلمہ طیب کے دو حصے ہیں۔۔۔ توحید اور رسالتؐ !! رسالت ؐ توحید کی تصدیق ہے۔اس لیے صادقؐ کی تصدیق کے بغیرتوحید پر ایمان کی توثیق نہ ہوگی۔بنی نوعِ انسانی کے تمام اعمالِ صالحہ کی توثیق رسالتؐ کی تصدیق سے ہوتی ہے۔ ایمان کے بغیر عملِ صالح اورنجات کا تصور نہیں۔ کفر اور ایمان کے درمیان حدِ فاصل رسالت ؐ ہے ۔حضرت واصف علی واصف ؒ لکھتے ہیں’’ جس کا رسالت ؐ پر ایمان نہ ہو ‘ وہ موحّد بھی کافر ہوگا‘‘ کیاکسی کافر کو عادل کہا جاسکتا ہے؟ ایک مضمون ’’عدل‘ ‘ میں آپؒ فرماتے ہیں’’ عادل بننے کے لیے یہ بنیادی شرط ہے کہ اِنسان پہلے یہ سوچے کہ کون سا دِین عدل و مساوات کے لیے صحیح ماحول پیدا کرتاہے۔یہ سوال ہے جس کا جواب عدل کی دُنیا میں داخل ہونے سے پہلے دریافت کرنا پڑتا ہے اور جس نے اِس سوال کا جواب غلط دیا‘ وہ عادل نہیں ہوتا۔ ایک کافر اگر صحیح لین دین کرتا ہوا پایا جائے‘ تو اُسے عادل سمجھنے سے پہلے سوچنا چاہیے۔۔۔ اور سوچنے کے بعد اِسی نتیجہ پر پہنچا جائے گا کہ وہ عادل نہیں ہو سکتا۔ عمل سے پہلے خیال کا عادل ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر خیال عادل ہو اور عمل نہ ہو ‘ تو ایساشخص سند نہیں ہو سکتا۔ اسے عادل نہیں کہا جا سکتا۔ سیرت پر کتابیں لکھنے والے غیر مسلم کبھی عادل نہیں کہلا سکتے۔ عادل علم و عمل کا عادل ہے‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *