توشاہیں ہے بسیر ا کر....

Ayaz Amirقومی معبد میں جس سب سے مہان دیوی کی پوجا ہوتی ہے ، وہ رئیل اسٹیٹ ہے تو بھلا پاکستان ائیرفورس کیونکر پیچھے رہ سکتی تھی؟ ہمارے قومی شاعر، حضرت اقبال ، جنہیں ہم مرقد میں بھی چین سے نہیں لیٹنے دیتے، نے شاہین کوہمالیہ کی چوٹیوں پر بسیرا کرنے والے ایک بلند پرواز پرندے کے طور پر دیکھا تھا ، لیکن ہماری پی اے ایف نے اس تصور میں حسبِ منشا تھوڑی سی تبدیلی کرڈالی ۔اب شاہین پہاڑوں کی چوٹیوں پر وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی، فضائیہ، کے پر سکون اپارٹمنٹس پر بسیرا کرنا پسند کرتا ہے۔
بائبل کے مطابق پہلے صرف ’لفظ‘ تھا، ہر چیز بعد میں پیدا کی گئی، پاکستان میں ارتقائی عمل قدرے مختلف ٹھہرا۔ یہاں سب سے پہلے ڈیفنس ہاؤسنگ کالونی، کراچی تھی جسے امیر المومنین جنرل ضیاالحق نے ملٹری ضابطے کے تحت ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں تبدیل کر دیا۔ بطور کالونی یہ دیگر کالونیوں جیسی ہی تھی لیکن اتھارٹی کا درجہ ملنے سے یوں سمجھ لیں اسے سرخاب کے پرلگ گئے۔ اب یہ کسی شہری ادارے کو جواب دہ نہیں ۔ اس کی حدود میں آنے والی زمین کی قدر پہلے ہی بہت تھی، اتھارٹی کا درجہ ملنے کے بعد آسمان سے باتیں کرنے لگی۔
برطانوی راج چھاؤنی بنانے کے لیے وسیع زمین مختص کرتا تھا۔ لاہور چھاؤنی میں فائرنگ رینج، ڈرل ایریا اور رجمنٹس کا قیام ہوتا تھا، لیکن بھائی وہ انگریز تھے، مومن کی آنکھ نے اُس فرنگی نظام سے کہیں آگے دیکھا۔ جب پلٹنے، جھپٹنے کے مشاغل سے لہو گرم ہوجائے تو وسیع وعریض میدان ’وہی جہاں ہے تیرا جس کو تو کرے پیدا‘ کے قواعد میں ڈھلنے لگتے۔ مسابقت سے ہی بات آگے بڑھتی ہے، چنانچہ اگر کراچی میں ڈیفنس ہاؤسنگ کالونی کو ترقی ملی تو لاہور گریژن کیوں پیچھے رہتا؟ پھر کیا تھا، ڈیفنس لاہورنے انگڑائی لی اورہر لحظہ اپنی نئی شان، نئی آن دکھانی شروع کردی یہاں تک کہ اسلام کے ایک اور مردِ مجاہد، جنرل پرویز مشرف سے اتھارٹی کا درجہ پایا۔ اُس وقت کے کور کمانڈر، لاہور، لیفٹیننٹ جنرل ضرار عظیم نے اتنے زیادہ ڈیفنس ہاؤسنگ سیکٹرز کا افتتاح کیا کہ وہ فوجی حلقوں میں ’ضرار زمین‘ کہلائے۔
پاکستان ایک منفرد طرّہ امتیاز رکھتا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی لفظ ’ڈیفنس‘ جنگ و جدل، توپوں، ٹینکوں اور طیاروں کی گھن گرج اور جارحیت کے خلاف وطن کا دفاع کرنے کے معنی دیتا ہے، لیکن دنیا کے ہمارے حصے میں اس سے مراد رہائشی زمین ہے۔ وہ گمنام ستم ظریف انعام کا حقدار ہے جس نے سب سے پہلاکہا تھا کہ F-16 ایک کارنر پلاٹ ہے۔ 1990 کی ہی زرخیز دہائی تھی جب نیوی، جسے قومی زبان میں بحریہ کہتے ہیں، کے ایڈمرل منصور الحق فوج کی روایات کی پیروی کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ کے بحرِ بیکراں میں داخل ہوئے۔ یہاں ان کی شراکت داری اُن صاحب سے ہوئی جو آج اس بزنس کے بے تاج بادشاہ ہیں اور بڑی سے بڑی مساجد بنانے کی دھن اُن پر بری طرح سوار ہے۔ نیوی نے اپنا لوگو، بحریہ، عطاکرتے ہوئے شراکت داری کو ساکھ بخشی ، بس پھر کیا تھا، ’دشت تو دشت ہیں، دریابھی نہ چھوڑے ہم نے‘۔ جلد ہی اس لوگو کی ملکیت کا تنازع کھڑا ہوگیا اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔قانون کے طلبہ ہی بتاسکتے ہیں کہ گزشتہ بیس برسوں میں ہمارا عدالتی نظام اس تنازع کو طے کیوں نہ کرسکا۔
جب کراچی اور لاہورزمین کے سنہری دور میں داخل ہوئے تو اسلام آبادسے کیا خطا ہوئی تھی، وہ کیوں پیچھے رہتا۔ ڈیفنس اسلام آباد نے آنکھ کھول کر فلک اور فضا کا جائزہ لیا ، لیکن اس سے پہلے کہ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کی زرتابی لیے اتھارٹی کادرجہ پاتا، پرویز مشرف کی قسمت کے ستارے روٹھ گئے۔ چنانچہ ایک آنچ کی کسر سے مشاطگی ادھوری رہ گئی۔ تکمیل کی تشنگی دور کرنے کے لیے گزشتہ دور میں وزارتِ دفاع ایک بل قومی اسمبلی میں لے آئی تاکہ ڈیفنس اسلام آباد کو اتھارٹی کا درجہ دیا جاسکے۔ میں بھی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے دفاع کا ممبر تھا۔ میں نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک رہائشی کالونی کواس طرح کی غیر معمولی حمایت کی کیا ضرورت ہے۔ میری وضاحت کے بعد میری اُس وقت کی پارٹی نے میرے موقف کو اپنالیا۔ اس سے بل کی مخالفت میں زیادہ شدت آ گئی۔ تاہم دفاعی ادارے اپنا کام کرنا جانتے ہیں۔وزارتِ دفاع نے شہباز شریف اور چوہدری نثار پر کچھ ایسا دم کیا کہ پی ایم ایل(ن)ایک کی بجائے ڈیفنس ہاؤسنگ اٹھارٹی کے دوبلوں کی حمایت کرتی دکھائی دی.... ایک اسلام آباد میں، دوسرا پنڈی میں۔ معاملات کوالجھاؤ سے بچانے کے لیے باندھی گئی تمہید میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ شہداکے خاندانوں کے لیے ڈی ایچ اے کی ضرورت ہے۔یہ ایک بہت بڑی افسانہ طرازی تھی کیونکہ ڈی ایچ اے کمرشل بنیادوں پر چلائی جاتی ہیں۔ ہر پراپرٹی ایجنٹ جانتا ہے کہ اس کا مقصد شہدا کے خاندانوں کے لیے سستے گھروں کی فراہمی ہر گز نہیں۔
اس کے بعد ڈیفنس پشاور کی آمد میں غیر ضروری تاخیر مناسب نہ سمجھی گئی اور صوبائی اسمبلی نے معمول سے دگنی رفتار سے ڈی ایچ اے بل پاس کردیا۔ حال ہی میں ڈیفنس بہاولپور کی آمد آمد دل ونگاہ کو معطر کررہی ہے۔ انٹیلی جنس بیورو نے بھی دھماکہ خیز انداز میں رئیل اسٹیٹ کی دنیا میں قدم رکھا ہے۔ اس کی ہاؤسنگ کالونی کے اشتہارات پورے اسلام آبادپر سایہ فگن ہیں۔ جس دوران فوج رئیل اسٹیٹ کی دنیا میں سرگرمِ عمل تھی، بحریہ ٹاؤن اپنے تمام حریفوں سے بہت آگے تھی، اور انٹیلی جنس بیورو بھی اس شعبے میں سربلند تھا، صرف پی اے ایف ہی اکھاڑے سے باہر تھی۔ الحمدوﷲ، اب تشنگی دور ہوئی اور یہ طلسمی وادی شاہینوں کے بال و پرَ کے نیچے بھی آگئی ۔ اس حسین وادی میں شاہانہ نزول کو دیکھتے ہوئے لگتاہے کہ تاخیر سے سفر شروع کرنے والے بھی سبقت لے سکتے ہیں۔
دنیا کی کوئی اور فوج اس منظم پیمانے پرپراپرٹی بزنس نہیں کرتی۔ اس کرّ ہ ارض پر اور بھی بڑی بڑی افواج ہوں گی، لیکن اس میدان میں ہمارا حریف اس عالمِ آب وگِل میں کہاں؟ روس، چین، امریکہ اور ہمارا ہمسایہ بھارت ہمارے سامنے طفلِ مکتب۔ پراپرٹی بزنس کا سبق لینا ہے تو ہمارے سامنے زانوئے ادب تہ کریں۔ جنگ وجدل، جو کہ اچھی بات نہیں، میں تو ہمارے جنرل کوئی مثال قائم نہ کرسکے، جس کی گواہی ہماری جنگی تاریخ دیتی ہے، لیکن ڈیفنس ہاؤسنگ کالونیاں بنانے اور بناتے ہی چلے جانے میں ہم اپنی مثال آپ ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ رئیل اسٹیٹ اور بدعنوانی تو ہمجولیوں کی طرح اکٹھے مل کر چل سکتی ہیں، اور چلتی ہیں، لیکن جنگ اور رئیل اسٹیٹ میں کیا مطابقت؟ ’ایک سب آگ ، ایک سب پانی‘... اور وہ بھی زرّیں، تو گنگا کی اس موج میں جمنا کا دھارا کیسے شامل ہو؟ جس دوران فوج، ائیرفورس اور خفیہ اداروں نے دہشت گردی کے خلاف اعلانِ جنگ کیا ہے، فوج کی کاوشوں کو سراہا جارہا ہے ،قوم اس کے جوانوں اور افسروں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کررہی ہے، لیکن کیا سرفروشی کی تاریخ رقم کرتے ہوئے قوم کی بقا کی جنگ لڑنے کے دوران مختلف رہائشی کالونیوں ، جیسا کہ ڈیفنس، بحریہ اور فضائیہ، کے اشتہارات زیب دیتے ہیں؟یہاں ایک مرتبہ پھر اپنی بات دہراتا ہوں، یہ تمام رہائشی کالونیاں کمرشل ہیں اور ان کا افواج کی فلاح وبہبود سے کوئی تعلق نہیں۔ جس دوران زیادہ تر پاکستانی غربت اور پسماندگی کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں، ان کالونیوں کے اشتہارات پوش علاقوں میں اعلیٰ درجے کی زندگی کا احساس اجاگر کرتے ہیں۔ یہ زندگی عام پاکستانی نہیں، صرف استحقاق یافتہ طبقہ ہی افورڈ کرسکتا ہے۔ کیا یہ ہمارے فوجی جوانوں اور ان کی دی گئی قربانیوں کی توہین نہیں؟کیا سینئر افسران کو احساس نہیں کہ اس وقت کیا چیز مناسب اور کیا نہیں؟
ہم ویسے بھی اسلام کے خودساختہ قلعے ہیں، تو کیا اسلام ہمیں سادگی اور مساوات نہیں سکھاتا؟اس میں دوآراء ہوہی نہیں سکتیں کہ پاک فوج بالکل درست راستے کا انتخاب کرچکی ورنہ پاکستان بھی عراق یا شام بن چکا ہوتا۔ گزشتہ سال تک سیاست دانوں نے تو قاتلوں کے ساتھ صلح جوئی کی انتہا کرتے ہوئے ہمیں مروانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تھا، لیکن پھر فوج نے آگے بڑھ کر دشمن کو للکارا۔ تو کیا اس وقت ہم حالتِ جنگ میں نہیں؟یقیناًہم ہیں اور یہ ہمارے مستقبل، ہماری آنے والے نسلوں اور ہماری بقا کی جنگ ہے۔ اس دوران ہاؤسنگ سوسائٹی کے پرکشش اشتہارات سے اجتناب کیا جاتا تو بہتر تھا۔ کیا دوسری جنگِ عظم کے دوران چرچل بھی ہاتھ میں فیتہ لیے کسی رہائشی کالونی کے پلاٹوں کی کٹنگ کرتے پائے گئے تھے؟یا امریکی استعماریت کے خلاف ویت نام کی جنگ میں ہوچی منہ نے بھی کسی رہائشی کالونی کا افتتاح کیا تھا؟یہ لوگ جنگیں کس طرح لڑتے رہے ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *