قدیم کینیڈین قبیلے کی خاتون "مس یونیورس" بن گئی

Ashley_Burnhamایشیلے برنم ناصرف نسلی قبیلے کی پہلی خاتون ہیں،بلکہ وہ پہلی کینیڈین خاتون بھی ہیں جنھوں نے مس یونیورس کا تاج اپنے سر پر سجایا ہے۔عالمی مقابلہ حسن 'مسز یونیورس 2015 ' کا تاج کینیڈا کے قدیم باشندوں سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ایشیلے برنم نے جیت لیا ہے۔
کینیڈین ذارئع ابلاغ کے مطابق پچیس سالہ ایشیلے برنم البرٹا میں 'فرسٹ نیشن' 160یا اولین باشندوں کے ایک قبیلے 'حنوک کری' 160کی ایک رکن ہیں۔160ایشیلے برنم ناصرف نسلی قبیلے کی پہلی خاتون ہیں بلکہ وہ پہلی کینیڈین خاتون بھی ہیں جنھوں نے مسز یونیورس کا تاج اپنے سر پر سجایا ہے۔160عالمی مقابلہ حسن کی فائنل تقریب گزشتہ ہفتے کے روز بیلاروس میں منعقد ہوئی جہاں مسز ایشیلے برنم نے اپنے مد مقابل مسز جنوبی افریقہ کو ہراتے ہوئے مسز یونیورس کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
ایشیلے نے اپنی قبائلی ثقافت کو مقابلہ حسن میں کارکردگی کا ایک حصہ بنایا، انھوں نے فوٹو شوٹ اور مقابلہ حسن کے مختلف مقابلوں میں خود کو160 روایتی ملبوسات میں پیش کیا۔160ایشیلے نے ٹیلنٹ شو کے مقابلے میں نسلی قبائل کے ایک ڈیز ائنر کا تیار کردہ لباس زیب تن کیا اور روایتی رقص پیش کیا، انھوں نے نیشنل لباس کی پریڈ میں بھی اپنا قبائلی روایتی لباس پہنا اور اس کے ساتھ گلے میں موتیوں کی مالائیں اور سر پر پروں کا کلاہ سجایا۔
فرسٹ نیشن کی اصطلاح کینیڈا کے قدیم اصلی نسلی لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ کینیڈا میں 634 نسلی قبائل موجود ہیں جو 50 سے زائد مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ انھیں کینیڈین زمین کے اصل باشندے تصور کیا جاتا ہے۔160ان میں انوئت، ارواکون اور الگونیکوان وغیرہ جیسے قبائل شامل ہیں جو شکار، گلہ بانی اور ماہی گیری کے علاوہ کھالوں اور خوارک کی تجارت کرتے ہیں، جبکہ انھیں مقامی امریکی، مقامی کینڈین اور انڈینز بھی پکارا جاتا ہے۔160مس یونیورس مقابلہ حسن کا آغاز 2007ء4 میں ہوا، اس مقابلہ حسن میں شادی شدہ خواتین شرکت کرتی ہیں۔160ایشیلے نے پہلی بار 2010ء4 میں مقابلہ حسن مس کینیڈا میں شرکت کر کے ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کی تھی۔160ایشیلے نے 160ایک انٹرویو میں کہا کہ مسز یونیورس کا تاج کینیڈا کے اصل باشندوں کے بارے میں موجود دقیانوسی تصورات کے خلاف ایک دھچکا ہے۔160انھوں نے کہا کہ میں نے پہلے بھی مقابلہ حسن میں شرکت کی تھی، اس وقت میرے بارے میں ایک قبائلی باشندے کی حیثیت سے رائے قائم کی گئی اور مس کینیڈا کے مقابلے میں میری دوسری پوزیشن کی توقع بالکل بھی نہیں کی گئی تھی۔160ان کا کہنا تھا کہ مقابلہ حسن میں شرکت کرنے پر جہاں مجھے لوگوں کی طرف سے حمایت ملی وہیں، مجھے شدید نسلی امتیاز کا نشانہ بھی بنایا گیا۔160ایشیلے ایک تربیت یافتہ رقاصہ اور پیشہ ور اداکارہ ہیں۔ رواں برس انھوں نیخاص طور پر مس یونیورس کے موضوع گھریلو تشدد کے حوالے سے مقابلے میں شرکت کی ہے۔160ایشیلے نے بتایا کہ وہ بچپن میں جنسی اور جسمانی استحصال کا نشانہ بنی اور اب وہ اس پلیٹ فارم سے ان لوگوں کی مدد کرنا چاہتی ہے جو اس درد کو جھیل رہے ہیں۔
ایشیلے نے بتایا کہ اپنی پرورش کے دوران "میں نے سخت غربت جھیلی ہے اور ان سخت حالات سے نمٹنے کے بعد مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں میں لوگوں سے اپنی کہانی کا اشتراک کر سکتی ہوں۔ میں کھانے کے ڈبے چنا کرتی تھی اور میں یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ایک دن مسز یونیورس کا تاج میرے سر پر ہو گا۔"160ایشیلے نے امید ظاہر کی کہ ان کی جیت سے کینیڈا کے اصل نسلی باشندوں کی خواتین کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *