یاد یار مہربان آید ہمے

usman qaziتاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ سے مسافر کا آداب۔ آج یہاں میرا دوسرا دن ہے اور پاکستان کی خارجہ و داخلہ پالیسیوں کے طفیل، اس قریبی ہمسائے تک پہنچنے کے لئے ڈیڑھ گھنٹے کی راست پرواز کے بجاے دبئی کی راہ سے تقریبا بیس گھنٹے کی مسافت طے کرنا پڑتی ہے۔ شہر سوویت یونین کے تمام شہروں کے مانند سلیقے سے ترتیب دیا گیا ہے۔ کشادہ سڑکیں، پرانے کوئٹہ کی مانند ہر کوچہ سایہ دار درختوں سے مزین، ہر گلی میں قریبی پہاڑ سے لائے گئے شفاف پانی کی نالیاں وغیرہ۔ اٹلس نامی جس مہمان خانے میں عارضی قیام ہے، وہ ایک کئی منزلہ حسین مکان ہے جو روایتی وسط ایشیائی طرز زندگی پر ترتیب دیا گیا ہے۔ مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی قدیم حویلیوں کی طرز کی ڈیوڑھی ہے اور اس کے بعد ایک باغیچہ۔ مسقف علاقے میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتارنا پڑتے ہیں۔ ان دو روز میں کئی دفاتر میں جانے کی غرض سے شہر کی تنگ و فراخ سڑکوں سے گزرنا پڑا اور حسرت ہی رہ گئی کہ نکبت و افلاس کے مناظر، وہ ریڑھیوں پر پانی لاتی ہوئی غریب بوڑھیاں، بھیک U 1مانگتے بچے نظر آئیں جن کا ذکر ہمارے دیرینہ ممدوح، آتش بیان کالم نویس اسلامی نظام سے دوری کے نتائج کے طور پر رقم کرتے رہتے ہیں۔ دعویٰ تو ان کا یہی ہے کہ یہ آنکھوں دیکھا حال ہے، مگر اس صراحت سے قصداً پہلو تہی کر گئے کہ جاگتی آنکھوں کا یا چشم حسرت کا... ہمیں تو یہی گمان ہے کہ اشارہ موخر الذکر کی جانب رہا ہوگا۔
ہر نو آزاد ملک کے مانند اس ملک کو بھی اپنی قومی سلامتی اور اقوام عالم میں اپنا مقام بنانے کے لئے تاریخ کی خلاقانہ تشکیل نو کا ہوکا ہے۔ یاد رہے کہ یہ علاقے سوویت یونین میں شمولیت سے قبل قومی ریاست کی بیسویں صدی میں تشکیل پانے والی تعریف پر پورے نہیں اترتے تھے۔ چنانچہ جیسا کہ ہم اپنے ’نظریاتی‘ مملکت ہونے کا جواز تراشنے کی غرض سے کبھی محمد بن قاسم سے اپنا ناتا ملاتے ہیں، کبھی محمود U 2غزنوی سے اور کبھی شہاب الدین غوری سے، وسط ایشیائی ممالک نے بھی تاریخ کے غیر اہم اور اکثر مشکوک مصادر کو جھاڑ پونچھ کر اسے قوم کی تشکیل کا جواز بنا لیا ہے۔ مجھے سن دو ہزار ایک میں آرمینیا جانے کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے ایک تو "اشوت" نامی داستانی ہیرو کو افسانوی ادب سے نکال کر تاریخ میں دخیل کر دیا ہے، دوسری جانب یہ دعوی بھی ہے کہ یہ دنیا کا قدیم ترین عیسائی ملک ہے۔ چنانچہ میرے دورے کے دوران آرمینیا میں مسیحیت کے دو ہزار سال
منائے جا رہے تھے۔ قرغزستان نے بھی "مناس" نامی رزمیے کے داستانی کردار کو اپنا قومی باوا آدم قرار دے رکھا ہے، حالانکہ ماہرین بشریات کے خیال میں اس رزمیے کی بنیاد تھیان شیان کے پہاڑوں کے چینی الاصل ادب میں ہے۔
قزاقستان اور ترکمانستان کے صدور بذات خود زندہ "مناس" بن کر قوم کی گردن پر سوار رہے ہیں۔ اس ملک میں البتہNightlife ازمنہ وسطی کی مقامی باج گزار قبائلی وحدتوں کو اپنا شاندار ماضی قرار دینے کا چلن ہے۔ سوویت یونین کے زمانے سے مقامی ثقافتوں کی ترقی کی غرض سے کلاسیکی شعرا رودکی اور صدر الدین عینی کی شخصیات اور آثار پر بہت سا علمی کام ہوا تھا. اب اسے قومی شعائر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مصیبت البتہ یہ ہے کہ ان دونوں کی مرزبوم موجودہ ازبکستان میں ہے جو سٹالن کے زمانے کی اکھاڑ پچھاڑ کی یادگار ہے۔ فارسی ادب کا کون سا طالب علم ہوگا جس نے رودکی کا مشہور قصیدہ، ’’ بوئے جوے مولیاں آید ہمے.. یاد یار مہرباں آید ہمے‘‘ نہیں سنا۔ اس میں تمام تر اشارے بخارا کے امیر اور رودکی کے ممدوح کے بارے میں ہیں، "میر سرو است و بخارا گلستان.. سرو سوئے گلستان آید ہمے". اس سے البتہ آمرانہ طرز حکومت کو بنا بنایا جواز مل گیا ہے۔ چنانچہ جیسا کہ ہمارے ملک میں اکثر و بیشتر کشمیر بزور شمشیر کا نعرہ لگا کر عوام کی توجہ Tacikistan_051108 اصل مسائل کی جانب سے ہٹائی جاتی ہے، یہاں بھی آمر حکمران طاقتور اور غاصب ہمسائے کا بہانہ بنا کر عوام کے حقوق سلب کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی پتا چلا کہ ’نازک حالات‘ کے بہانے سے یہاں کی حکومت نے یو ٹیوب ہی نہیں، فیس بک پر بھی پابندی لگا رکھی ہے اور اس کا تعلق گستاخانہ مواد سے ضرور ہے، مگر وہ گستاخی جس میں حکومت کی بد عنوانی کا پردہ چاک کیا گیا ہو۔ مگر ہر شخص انٹر نیٹ کے عقبی دروازے استعمال کررہا ہے، بشمول اس خادم کے۔ انٹرنیٹ کی زبان میں اسے ’چور کنجی‘ کہیے یا دوشنبہ کی رعایت سے ’دزد کلید ‘۔
عام بول چال کی زبان یہاں فارسی ہے مگر اس میں روسی کے بہت سے الفاظ دخیل ہیں، جیسا کہ ہمارے ہاں انگریزی کا رواج ہے۔ پہلے روز دفتر کا راستہ تلاش کرتے ہوئے سکول جاتی ننھی ننھی بچیوں کے جم غفیر میں سے گزرنا پڑا۔ میں راستہ دیتی بچیوں کا مقامی الفاظ میں ’رحمت‘ کہہ کر شکریہ ادا کرتا تو وہ جواب میں روسی لفظ "پڑا لستا" کہتیں، جیسے ہمارے ہاں "پلیز" نوک بر زبان رہتا ہے۔ سڑکوں کے نام اور دکانوں کے بورڈ روسی (در اصل یونانی) رسم الخط میں مگر فارسی زبان میں ہیں۔ ذرا سی دقت کے بعد آسانی سے پڑھے جا سکتے ہیں۔ فی الحال مشاہدہ یہی ہے کہ یہاں shops-in-dushanbeمعاشرے میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ سماجی، اقتصادی اور پیشہ ورانہ شعبوں میں شریک ہیں۔ تعلیم کا تناسب کئی برس کے ادبار کے بعد دوبارہ روبہ ترقی ہے۔ اگلے ہفتے دوشنبہ سے دور "رشت" نامی علاقے اور اس سے اگلے ہفتے پامیر کی ترائی میں واقع ’گورنو بدخشاں‘ جانا ہوگا تو اندازہ ہوگا کہ وہاں کے لعل کیسے ہیں۔ ہاں، اس مضمون کے ولی دکنی کے شعر کے دوسرے مصرع کی، جس چہرے پر نظر ڈالیں، پوری پوری تصدیق ہوتی ہے۔ ’جادو ہیں ترے نین، غزالاں سے کہوں گا‘۔۔۔ ’تجھ لب کی صفت‘بھی کہنا تھی، وہاں تو اجنبیت آڑے آئی، اب آپ سے کہے دیتا ہوں۔۔۔ اپنوں سے کیا پردہ۔
(جاری ہے)

یاد یار مہربان آید ہمے” پر ایک تبصرہ

  • ستمبر 4, 2015 at 9:53 AM
    Permalink

    مزہ آیا پڑھ کر

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *