خود آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے

sabooha ibrahim(یہ تحریر نان سنس کلب، کراچی کی ایک نشست میں پڑھی گئی۔ تاہم اس سے یہ سمجھنا درست نہیں ہو گا کہ کراچی کو چھوڑ کر باقی ملک میں عقل و خرد کی باد نسیم چل رہی ہے اور دانش کے چراغ جگمگا رہے ہیں۔)

بہت کڑی شرط ہے یامین صاحب کی کہ دس منٹ اپنا تعارف کروایا جائے ۔ ہم سوچنے لگے کہ ہم کہاں کے دانا ہیں ،کس ہنر میں یکتا ہیں۔ پھر تھوڑا رجائیت پسند ہو کر سوچا تو دس منٹ بھی کم لگے کہ ہم جیسی عظیم شخصیت کا تعارف صرف دس منٹ میں تو ہو نہیں سکتاکہ دنیا میں اتنا لمبا عرصہ گزارنے کے بعد تو قصہ چہاردرویش کی طرح بات کہیں ختم ہی نہیں ہوتی۔خیر، ہم نے مضمون کچھ اس طرح شروع کیا ۔۔۔کہ نام سبوحہ خان ، قد پانچ فٹ پانچ انچ، رنگ کھلتا ہوا ، تعلیم معمولی ، بھولنے کا مرض لاحق ہے اس لئے عمر کبھی یاد نہیں رہتی۔ پھر سوچا کہ یہ تو تلاش گمشدہ کا اشتہار لگے گا۔۔۔ اس لئے مضمون دوبارہ شروع کیا۔ کبھی سوچا ہی نہ تھا کہ اپنا تعارف کروانا پڑے گا۔ یہ تو بہت مرتبہ سوچا کہ یہ سامنے والا شخص کون ہے اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں مگر۔۔۔میں کون ہوں؟ اس بارے میں تو کبھی سوچا ہی نہیں۔ واہ ری قسمت کہ آج پوچھا بھی تو کس نے ؟ نان سنس کلب نے کہ بھئی تم ہو کون۔ ایک رخ تو یہ ہے کہ آپ خود کو کیا سمجھتے ہیں اور دوسرا یہ کہ لوگ آپ کو کیا سمجھتے ہیں ۔ کافی عرصے کی بات ہے کہ ہم نے اپنی سات سالہ پوتی زارا سے پوچھا تھا کہ کہ جب تم بڑی ہو جاؤگی اور تمہارے اپنے بچے ہوں گے تو تم ان کو اپنی دادی کے بارے میں کیا بتاؤگی ۔ کہنے لگی میں کہوں گی کہ My dadi was a humming bird.۔بس؟ کچھ اور۔۔۔ جواب آیا۔ ڈیٹس اٹ ۔ ہم تو سمجھے تھے ہم کوئی بڑی توپ چیز ہیں ۔
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
کچھ ہوا یوں کہ جب آنکھ کھولی تو ہماری آپا جوان تھیں اور ہر طرف ان کی خوبصورتی کے اتنے چرچے تھے کہ ہم پر کبھی کسی نے نگاہ ہی نہ ڈالی بلکہ ہمیشہ یہ ہی سننے کو ملا، یہ آپ کی بیٹی ہے؟ یہ تو بالکل مختلف ہے۔ ما شااللہ بڑی کا چہرہ تو چاند کا ہالہ ہے۔ یہ اس کا چہرہ اتنا لمبا کیوں ہے اور رنگ بھی کچھ کم ہے ۔ اماں نے ہمیشہ بات ادھر ادھر کر دی۔ یعنی انہیں بھی ہماری کم شکلی کا ہمیشہ یقین رہا اور ہم میں بھی یہ یقین پختہ ہوتا چلا گیا۔
سنتے ہیں کہ جو لوگ اپنے اندر ، اپنے وجود سے مطمئن ہوتے ہیں وہ زندگی آرام سے گزارتے ہیں اور ہر وقت کچھ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہر گھڑی نت نئے تجربے نہیں کرتے ۔ جب ہم اپنی زندگی پر نظر ڈالتے ہوں تو کبھی چین سے نہیں بیٹھے ۔ مرض وجہ شہرت کے لئے زندگی بھر کوشش کرتے رہے مگر خاطر خواہ افاقہ نہیں ہوااور ابھی تک گم نامی کی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ ہمیشہ اندر سے یہی آواز آئی کہ ۔۔۔ڈو مور۔
اپنی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو سکول کے زمانے سے یونیورسٹی تک کبھی سامعین یا ناظرین میں بیٹھے نظر نہیں آئے۔ ہمیشہ سٹیج پرsabooha 02 چڑھے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوانی بے رنگ گزر گئی۔ کبھی عشق وغیرہ کرنے کے لئے وقت ہی نہیں ملااور ہم کوئی گل ہی نہ کھلا سکے اور کبھی گل کھلانے کے بارے میں سوچا بھی تو آپا اور بھائی کی گھورتی ہوئی آنکھوں نے تمام آرزوئیں خاک میں ملا دیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اپنا رخ دوسری ایکٹیویٹیز کی طرف موڑ دیا۔ کبھی اداکاری کی ،کبھی تقاریر کیں ،کبھی سپورٹس میں چیمپیئن بننے کی کوشش کی۔ اسی بھاگم دوڑ میں شادی ہو گئی ۔ اس کے بعد بھی چین سے نہ بیٹھے ۔کبھی ٹی وی پر نیوز کاسٹر بنے ۔کبھی ٹیچنگ کی اور کبھی گلوکاری پر گلا صاف کیا۔ جب یہ سب کر لیا تو خیال آیا کہ کہ کچھ بھی کر لو مگر ایک بات طے ہے کہ ’پیٹ نہ پیاں روٹیاں تے سبے گلا ں کھوٹیاں‘۔ اس کے لئے بزنس کی طرف قدم بڑھایا۔ اس مقام تک پہنچتے پہنچتے آدھی صدی گزر چکی تھی ۔ جب اچانک آئینے میں خود کو دیکھا تو چہرے پر وقت بہت سی لکیریں چھوڑ گیا تھا ۔
خیر ہمیں اس کی کیا پرواہ تھی کیونکہ ہم اس وقت تک ایک کتاب لکھ چکے تھے اس لئے اپنا شمار خود ہی دانشوروں میں کرنے لگے تھے اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ دانشوروں کو تو ایسی چیزوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی مگر میں شاید یہ بھول چکی تھی کہ کچھ بھی ہو میرا عورت ہونا ایک مصمم حقیقت تھا۔ اپنی عمر کے لحاظ سے میں کتنا بھی کہوں کہ مجھے کسی کی کیا پرواہ ہے مگر ہر صبح جب آئینے میں اپنے آپ کو دیکھتی ہوں تو یقیناًاس خیال سے کہ میں کیسی لگتی ہوں اور میں لوگوں کو کیسی لگوں گی۔ میری عمر میں آکر آپ اپنے چہرے کی لکیروں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ میں کتنا بھی کہوں کہ یہ نشان جو گزرتے ہوئے وقت کی پرچھائیاں ہیں اور وقت کی چھلنی سے چھن کر میں نے ان کو حاصل کیا ہے اور مجھے ان لکیروں پر فخر ہے کہ یہ میری میچیورٹی کا ثبوت ہیں مگر پھر بھی میں کاسمیٹک شیلف پر سے اینٹی ایجینگ کریم اٹھاتی ہوں اور اپنے بیٹے سے کہتی ہوں کہ فیس بک پر میرا کلوز اپ نہ ڈالا کرو۔کوئی ایسی استری نہیں ملتی کہ saboohaان لکیروں کو مٹا سکوں اور ہر صبح چہرے کی نئی لکیر اور ہمارے گرے بال ہمیں دکھ دیتے ہیں ۔ لیکن اس تمام منفیت کو ایک طرف رکھا جائے اور سوچا جائے تو خود کو بہت خوش قسمت انسان پاتی ہوں کہ اللہ تعالی نے مجھ ناچیز کو نہ جانے کتنی کامیابیوں ، خوبیوں اور خوش قسمتیوں سے ہم کنار کیا اور جب اپنے گھر کی ایک دیوار پر اپنے شوہر شعیب عالم کے ایئر فورس کے مختلف میڈلز اور خاص طور پر ستارۂ جرأت کے ساتھ اپنی تقریروں ،ڈراموں، سپورٹس اور آل راؤنڈر کے گولڈ میڈلز کو فریمز میں لگا دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں ہم نے کچھ اتنا برا بھی نہیں کیا زندگی میں ۔
آج زندگی کی سات دہائیاں گزارنے کے بعد بھی ہم صبح سے شام تک مصروف رہتے ہیں اور زندہ رہنے کی خواہش اتنی شدید ہے کہ کھانے سے زیادہ دوائیوں اور ڈاکٹر ز کا خرچ ہے۔ ہمیں اپنی اس مصروف زندگی سے کوئی شکایت نہیں۔ ہم نے زندگی سے یہی تو چاہا تھا اور پھر سب سے بڑی خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہم اپنی انہی سرگرمیوں کی وجہ سے چار کتابوں کے مصنف بن گئے اور اسی لئے آج آپ جیسے دانشوروں کے درمیان بیٹھے ہیں۔ کافی پارٹیز اور شاپنگ میں زندگی ضائع نہ کرنے کا ہمیں کوئی غم نہیں ۔ ہمیشہ اپنی دوستوں کے بازار چلنے کے اصرار پر ہم نے یہی کہا کہ ’اک ذرا ہوش میں آلوں تو چلوں‘ مگر ہم کبھی اس کے لئے ہوش میں نہ آسکے۔اس سے اچھی زندگی اور کیا ہو سکتی ہے کہ آپ نے زندگی میں جو چاہا وہ آپ کو ملتا چلا گیا۔کیا ہوا اگر کبھی عشق نہیں کیا ۔ کیا ہوا جو کبھی نشہ نہیں کیا لیکن اگر زندگی سے عشق کیا جائے تو زندگی کیا کسی نشے سے کم ہے ۔ تو ہم نے زندگی سے عشق کیاہے۔ اس نشے سے ہم کبھی کبھی جب نکلتے ہیں تو ایک بات کا دکھ ہوتا ہے کہ ہم عورت کیوں ہیں کیونکہ زندگی کے تجربوں سے ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ عورت چاہے آسمان کے تارے ہی کیوں نہ توڑ لائے، مرد کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور وہ عزت اور مقام نہیں حاصل کر سکتی۔ اگر چہ یہ نکتہ بحث طلب ہے مگر ہم آج بحث کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اوہ اس جلدی میں ہم یہ بتانا تو بھول ہی گئے کہ ہمارا نام سبوحہ خان ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *