بچوں کی پرورش سے نجی زندگی خوشگوار ہوتی ہے

Loving couple lying in bed gazing into each others eyes as they lie back on the pillows

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال میں خواتین کا ہاتھ بٹانے والے مردوں کی جنسی زندگی زیادہ خوشگوار ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کے خواتین کو اس سلسلے میں اپنے شوہروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔ اس کے برعکس وہ مرد جو اپنے بچوں کی پرورش کے معاملے میں لاپرواہ ہیں اور ان کی بیویاں ہی بچوں کی پرورش کرتی ہیں ایسے جوڑوں کی نجی زندگی ناخوشگوار رہتی ہے۔ جارجیا یونیورسٹی کے ماہرین عمرانیات نے 487جوڑوں کو تین حصوں میں گروہ بندی کی ہے۔
پہلا گروہ ان جوڑوں پر مشتمل ہے جہاں خواتین ہی گھر اور بچوں کو سنبھالتی ہیں اور مردوں کا اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں۔ دوسرا گروہ ان جوڑوں پر مشتمل ہے جہاں کام کو بانٹا جاتا ہے یعنی مرد بھی اتنا ہی گھرداری و بچوں کی پرورش میں حصہ لےتے ہیں جتنا کہ عورتیں۔تیسرا گروہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جہاں عورتوں کی نسبت مرد گھرداری و بچوں کی پرورش میں خواتین کی نسبت زیادہ سرگرم پائے گئے ہیں۔
تحقیق کے مطابق پہلے گروہ میں ( جہاں خواتین ہی گھر سنبھالتی ہیں اور مردوں کا کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔)جنسی میلان بہت کم رہ جاتا ہے۔ دوسری طرف بچوں کی پرورش میں دلچسپی رکھنے والے مرد اپنی ساتھی عورتوں کے ساتھ جنسی میلان میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وہ افراد جو گھر کے کام کاج بانٹ کر کرتے ہیں ، ان کی جنسی زندگی اتنی ہی مطمئن ہے۔
یونائیٹڈ سٹیٹ آف امریکہ میں جارجیا سٹیٹ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ڈانیل کارلسن کے مطابق :’ گھر کے کاموں میں دلچسپی نہ لینے والے افراد کی نسبت بچوں کی دیکھ بھال میں حصہ ڈالنے والے افرادجنسی زندگی میں کامیاب اور زیادہ سرگرم پائے گئے ۔‘ ڈاکٹر کارلسن کے مطابق :’ہم یہ جاننے کی تگ و دو کر رہے ہیں اس مثبت روےے کے پیچھے کونسی وجوہات ہیں؟‘ اس سے پہلے عام طور پر لوگ کہتے تھے کہ بچوں کی پیدائش کے بعد ان کے بیچ جنسی میلان میں کمی آئی ہے۔ جبکہ 63فیصد افراد نے اپنی عائلی زندگی کو تباہ ہوتے پایا۔یہ سالانہ رپورٹ امریکی سوشیالوجیکل ایسوسی ایشن کو پیش کر دی گئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *