امریکہ میں صیہونی اثر ورسوخ کی حدود

Irfan Hussainجب گزشتہ ہفتے شاہ سلمان صدر اوباما کی دعوت پر واشنگٹن گئے تو ایران کے ساتھ ہونے والی ایٹمی ڈیل اس ملاقات کے ایجنڈے پر شامل نہ تھی، لیکن اس موضوع سے صرفِ نظر کرنا ایسا ہی ہے جیسے کمرے میں گھس آئے ہوئے ہاتھی سے اغماض برتنا۔ ڈیمو کریٹس میں سے 34 سینٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے بعد صدراوباما کو یقین ہے کہ وہ یورپی یونین، فرانس، برطانیہ، جرمنی، روس اور چین کے ساتھ مل کرگزشتہ جولائی کو ویانا میں ایران کے ساتھ ہونے والی ڈیل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
اس ڈیل کی کامیابی مشکل حالات کا سامنا کرنے والے امریکہ صدر کے لیے قدرے سکون کا سانس لینے کا باعث بنی کیونکہ اُنھوں نے اس تاریخی معاہدے کو طے کرنے کے لیے اپنی تمام ترسیاسی ساکھ داؤ پر لگادی تھی۔ بے شک اُنہیں اس سفارتی فتح کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ واشنگٹن اور تل ابیب میں جنگی جنون برپا کرنے والے شکروں(hawks) کی موجودگی کے باوجود ایران کے ساتھ جنگ، جس کے نہایت تباہ کن نتائج نکل سکتے تھے، کا خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹل گیا۔ اگرچہ اس ڈیل کے کئی ایک فوائد ہیں لیکن اس کی وجہ سے تل ابیب ، مشرقِ وسطیٰ اور امریکہ میں بہت سوں کو پریشانی لاحق رہے گی۔ سب سے پریشان کن سوچ یہ ہے کہ پابندیاں اٹھنے کے بعد ایران پچاس بلین ڈالر اور ایک سوبیس بلین ڈالر کی خطیر رقوم استعمال کرنے کے قابل ہوجائے گا۔ یہ رقوم ایران کی اپنی ہیں لیکن امریکہ، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کی طرف سے اس پر عائد ہونے والی پابندیوں کی وجہ سے منجمد کردی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ ایران تیل اور گیس کو آزادی سے برآمد کرسکے گا۔ اس ڈیل کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اتنی بھاری رقوم ملنے کے بعد اب ایران اپنے پراکسی لشکروں کو بھاری وسائل فراہم کرکے دیگر ممالک کے لیے زیادہ پریشانی کا باعث بنے گا۔
دوسری طرف ڈیل کے بارے میں پرامید سوچ رکھنے رجائیت پسندوں کے نزدیک اب ایران عالمی معاملات میں مثبت کردار ادا کرے گا۔ سب سے اہم بات یہ کہ اب یہ زیادہ موثر اور فعال قوت بن کر داعش کے مقابلے میں کھڑا ہوگا۔ بہت سے مغربی مبصرین کا خیال ہے کہ جب ایک مرتبہ ایران تنہائی سے نکل کر عالمی تجارت کا حصہ بنے گا ، اس کا بیرونی دنیا سے زیادہ واسطہ پڑے گا تو اس کے شدت پسند عناصر کی سوچ میں اعتدال پیدا ہونا شروع ہوجائے گا۔اس میں نظریاتی شدت کی بجائے رواداری اور ہم آہنگی پر مبنی سوچ پروان چڑھے گی۔ اس کی نوجوان نسل کئی عشروں سے آیت اﷲ اور مذہبی رہنماؤں کی طرف سے نافذ کردہ سخت قوانین سے تنگ آچکی ہے،وہ آزاد فضا میں سانس لینا چاہیں گے۔
تاہم امریکی دائیں بازو کے حلقوں میں اس ڈیل کے حوالے سے سخت ناپسندیدگی پائی جاتی ہے۔ رپبلکن، جو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نتن یاھو کی ترجمانی کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں، صدر اوباما پر ہرقسم کے الزامات عائد کرتے سنائی دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ایران کو خوش کرنا اسرائیل کو ایک اور ہولوکاسٹ میں دھکیل دینے کے مترادف ہوگا۔ اس منفی تاثر کی وجہ اسرائیل مخالف بیانات ہیں جوسابق ایرانی صدر احمدی نژاد بلاوجہ دے کر ماحول کشیدہ کردیا کرتے تھے۔ ایک اچھی صبح بیدار ہوکر وہ دائیں بائیں دیکھتے اور اعلان کردیتے کہ اسرائیل صفحۂ ہستی سے مٹنے والا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تل ابیب اور واشنگٹن میں گھنٹیان بج اٹھتیں۔ دراصل ایسے بے سروپا بیانات کاایران کو ہی نقصان ہوا ۔ اس کی وجہ سے اسرائیل امریکہ میں اپنے موقف کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں کامیاب ہوا۔ اس طرح سابق ایرانی صدر نے ایک طرح سے اسرائیل کے پراپیگنڈے کو واشنگٹن میں تقویت دی تھی۔ سابق امریکہ صدر روز ویلٹ کہا کرتے تھے ...’’ہاتھ میں ڈنڈا ہوتو زیادہ چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘
اس ڈیل نے امریکی یہودیوں کو بھی تقسیم کردیا ہے ۔ اس سے پہلے کبھی کسی غیر ملکی معاملے نے ان کی رائے کو منقسم نہیں کیا تھا۔ یہودیوں کے بارے میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ان کی سوچ میں یکسانیت پائی جاتی ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں۔ ان میں لبرل اور دقیانوسی،دونوں قسم کے گروہ پائے جاتے ہیں۔بیرونی دنیا ، خاص طور پر ایشیائی افراد کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ان میں تمام کے تمام اسرائیل کے حامی نہیں ہیں۔ درحقیقت زیادہ تر امریکی یہودی ڈیموکریٹس ہیں اور اُنھوں نے 2008 اور2012 میں صدر اوباما کو ووٹ دیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتہائی طاقتور ’’امریکن اسرائیلی پبلک ایکشن کمیٹی‘‘(AIPAC)رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی وجہ سے کانگرس کے ارکان اور مقامی سیاست دانوں کی قسمت بدل سکتی ہے۔ اسرائیل سے قریبی تعلق رکھتے ہوئے AIPAC مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے امریکی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔
تاہم ایران کے ساتھ ہونے والی ایٹمی ڈیل میں رخنہ ڈالنے کے لیے AIPAC نے زمین آسمان ایک کردیے۔ اس نے بیس ملین ڈالر کی تشہیری مہم چلائی تاکہ کانگرس کے ارکان کو اس بل کے خلاف ووٹ دینے کے لیے قائل کیا جاسکے۔ انتہائی متاثر کن لابنگ کی گئی۔ نتن ہاھو کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ وہ اس ڈیل کو پٹری سے اتارنے کے لیے کوئی خفیہ چال چلیں گے۔ میرا نہیں خیال کہ اس کرہّ ارض کی کوئی اور ریاست امریکی پالیسیوں میں اس طرح مداخلت کرنے کی مجاز ہے، اس کے باوجودامریکی یہودی اس ڈیل کو کامیاب ہونے سے نہ روک سکے۔ اس سے ایک احساس شدت سے جاگزیں ہوا کہ امریکی صیہونی طاقت کی بھی بہرحال کچھ حدود ہیں اور وہ اپنی ہر بات منوانے پر قادر نہیں۔ لگتا ہے کہ یہ تاثر بہت جلد ختم نہیں ہوجائے گا۔ بہت سے لبرل سوچ رکھنے والے امریکی یہودی یہ بات سمجھتے ہیں کہ اس ڈیل کی مخالفت کرنا ان کے وطن، امریکہ ، کے مفاد کے خلاف ہے کیونکہ اس کی ناکامی سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور جنگ بھڑک سکتی ہے۔ چنانچہ اُنھوں نے اپنی قوم کے انتہائی نظریات رکھنے والے عناصر کو جنگی جنونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کے بے بنیاد خدشات کی قربان گاہ پر امریکی مفاد کو ذبع کررہے ہیں۔ یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ نوجوان یہودی اپنے والدین کی نسبت اسرائیل کے نہ ختم ہونے والے سکیورٹی خدشات کی زیادہ پروا نہیں کرتے۔
رپبلکن حلقوں میں یہ بات کی جارہی ہے کہ اگر ایران پر عائد پابندیاں ہٹالی گئیں تو تازہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ لیکن اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ ویانا معاہدے سے انحراف کے متراد ف ہوگا اور پھر ایران جوہری ہتھیار بنانے کی ضرورت پہلے سے بھی شدت سے محسوس کرنے لگے گا۔ دراصل جس چیز نے تذبذب کا شکار سینٹرز کو اوباما کی حمایت کرنے پر راغب کیا ، وہ مختلف ممالک کے اُن سفارت کاروں کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ تھی جو بہت طویل عرصے سے ایران کے ساتھ مذاکرات میں شریک رہے تھے۔ اُنھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ایران معاہدے کی پاسداری کرتا ہے تو اُن کی حکومتیں اس پر پابندیاں برقرا ر رکھنے کی پالیسی کا ساتھ نہیں دیں گی۔ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے بھی پابندیاں ہٹانے کے لیے ووٹ دیاتھا۔ اس لیے ایران پر یک طرفہ پابندیاں عائد کرتے ہوئے امریکہ عالمی تنہائی سے دوچار ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مستقبل میں امریکہ کی مذاکرات کرنے کی ساکھ پر سوالیہ نشان رہے گا۔
اب تک یورپ اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے کاروباری افراد ایران کی طرف محوِ پرواز ہیں۔ بہت سے دوسرے اپنی نشستیں بک کرارہے ہیں۔ ایران کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے۔ اگرچہ ابھی بھی بہت سے مراحل باقی ہیں لیکن دنیا بھر کے صنعت کار ایران کی طرف کشش محسوس کررہے ہیں۔ ایران کی بدعنوانی ریاستی مشینری ایک رکاوٹ ضرور ہے لیکن پھر عالمی سرمایہ کارہر قسم کے حالات میں کاروبار کرنے کے عادی ہیں۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *