میں چاند پینٹ کرنا چاہتا ہوں

wajahat masoodاساتذہ نے بتایا تھا کہ اخبار کا صفحہ پڑھنے والوں کی امانت ہے۔ یہ ہماری ذات کا اشتہار نہیں۔ صحافت میں اجتماعی معاملات پر معروضی انداز میں بات کی جاتی ہے۔ لکھنے والے کی ذات صحافت کے لئے ایک مناسب موضوع نہیں ،چنانچہ جہاں تک ممکن ہو ،صیغہ متکلم سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ لکھنے والااس اصول کی پاسداری کی کوشش کرتا ہے۔ بدقسمتی سے آج موضوع کچھ ایسا کڈھب ہے کہ پڑھنے والوں کو ناگزیر طور پر ’میں‘سے واسطہ پڑے گا۔ معذرت کرتا ہوں اور یہ وعدہ بھی کہ اس قباحت کو معمول نہیں بنایا جائے گا۔ پاکستان کی تاریخ کے بارے میں میرے گزشتہ کالم کے ردعمل میں چھ ستمبر کو بلوچستان سے ایک عزیز دوست کا پیغام موصول ہوا۔ میں نے ان سے اجازت لے لی کہ اس ذاتی پیغام کو کھلی بحث میں بدل دیا جائے کیونکہ اس موضوع پر ہمارے ملک میں کافی ابہام پایا جاتا ہے۔ سو پہلے تو پیغام کا متعلقہ حصہ انہی کے لفظوں میں درج کرتا ہوں اور پھر یہ خاکسار اپنی معروضات پیش کرے گا۔ ’’آپ کیسے پاکستانیت کی خاطر تاریخ کو مسخ کررہے ہیں۔ کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ پاکستان کی تشکیل کیسی ہوئی۔ دو قومی نظریہ اور اقبال کے خواب میں کتنی سچائی ہے۔جبری الحاق اور سرحد حکومت کا خاتمہ کیسی جمہوری روایات ہیں۔ ان سب کو فقط یہ کہہ کر نظر انداز کرنا کہ( چونکہ پاکستان اب ایک حقیقت ہے)یہ بھی تاریخ کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ وہ مذہب کے نام پہ کر رہے ہیں اور آپ پاکستان کے نام پہ…‘‘
دیکھئے، خاکسار کسی سیاسی گروہ، معاشرتی طبقے یا جماعت کی نمائندگی نہیں کرتا۔ دنیا میں سات ارب انسان بستے ہیں …ازاں جملہ ہوں میں بھی۔ گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میں پاکستان میں پیدا ہوا، مشرقی پنجاب سے آنے والے مہاجروں کا پاکستانی بچہ۔ میں پاکستان کا پیدائشی شہری ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے پاکستان کی شہریت سے محروم نہیں کرسکتی۔ پاکستان میری ریاست ہے اور میں قومی ریاست کے تصور کو جدید ، درست اور مفید بندوبست سمجھتا ہوں۔ انسان دوست ہوں مگر انسانیت پاسپورٹ جاری نہیں کرتی اور نہ میں انصاف کے لئے انسانیت نامی کسی عدالت سے رجوع کر سکتا ہوں۔ مجھے ٹالسٹائی کا ناول اور والٹ وہٹمن کی نظم اچھی لگتی ہے۔ ہنرک ابسن کا ڈرامہ اور موزارٹ کا نغمہ میری رگوں میں سنسناہٹ پیدا کرتے ہیں لیکن میں امریکہ، روس ، برطانیہ یا ناروے کے حکمرانوں سے کوئی مطالبہ نہیں کر سکتا۔ مجھے فخر ہے کہ میں اپنے ملک کے کسی بھی بڑے سے بڑے عہدیدار سے اختلاف کر سکتا ہوں، اس پر تنقید کر سکتا ہوں، مطالبہ کر سکتا ہوں۔ اور اس کا جواز یہ ہے کہ میں پاکستان کا شہری ہوں۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ میں بہت بہادر ہوں یا حکمران بہت نیک دل ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ پاکستانی شہری کی حیثیت سے مجھے مزاحمت اور جواب دہی کا اخلاقی جواز میسر ہے۔ میں انگریز وائسرائے سے جواب دہی نہیں کر سکتا تھا، بھٹو اور نواز شریف سے پنجہ آزمائی کر سکتا ہوں۔ ہم نے اس ملک میں چار آمروں کو سیاسی مرچوں کی دھونی دے کر اقتدار سے نکالا ہے۔ میں اپنے شعوری انتخاب سے پاکستانی شہری نہیں بنا لیکن پیدائش کے بعد پاکستان میرا حوالہ ہے ۔ ایک انسان کی حیثیت میں میری شناخت کے بہت سے حوالے ہیں۔ عقائد، ثقافت، زبان اور سماجی خیالات کے اعتبار سے مجھے اپنی شناختوں سے محبت ہے ۔ فریدہ خانم کی گائی غزل ، میری ماں کی پکائی ہوئی روٹی، اسد محمد خاں کا افسانہ اور میرے بچوں کی شرارتیں میری زندگی کا حصہ ہیں لیکن شناخت کے یہ سب حوالے صوابدیدی ہیں ۔ پاکستان کی شہریت صوابدیدی نہیں، ایک قائم بالذات آئینی اور قانونی حوالہ ہے جو قوت نافذہ رکھتا ہے۔ میرا ملک پاکستان اس اعلیٰ اخلاقی اصول کی بنیاد پر آزاد ہوا کہ اس زمین پر بسنے والے یہاں حکومت کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ میری اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ میں اس اصول کے دوسرے حصے کی ذمہ داری پوری کروں۔ اور وہ یہ کہ ملک کے قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔ اگر آئین پر حملہ ہو تو مزاحمت کرنی چاہیے۔ مجھے ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔ ہم وطنوں کے ساتھ کوئی ناانصافی ہو تو احتجاج کرنا چاہیے۔ اپنے وطن کا دفاع کرنا چاہیے۔
میرے آبا و اجداد کہاں پیدا ہوئے تھے اور کون سی زبان بولتے تھے، ماضی کا ایک حوالہ ہے۔ میرا حوالہ پاکستان ہے جس کی سرحدیں اٹاری، طورخم ، کھوکھرا پار اور تفتان پر ختم ہوتی ہیں۔ لاہور سے 30میل دور امرتسر کے لوگ پنجابی بولتے ہیں۔ خوش رہیں۔ وہ میرے ہم وطن نہیں، ژوب، پاراچنار اور کشمور کے باشندے میرے ہم وطن ہیں۔ پاکستان کے دستور نے ہمیں بتایا ہے کہ ہم ایک ملک کے شہری ہیں اور ہمارا قومی مفاد ایک ہے۔ اڑسٹھ برس قبل ہندوستان ہمارا ملک تھا جس پر غیرملکی حکومت کرتے تھے۔ تاریخی طور پر ہندوستان کبھی ایک اکائی نہیں رہا تھا۔ انگریز نے ریلوے، انتظامی اداروں اور قانون کی مدد سے ہندوستان کو ایک ڈھیلی ڈھالی وحدت بنایا جس میں سینکڑوں نیم خود مختار ریاستیں بھی شامل تھیں جو برطانوی تاج کی وفادار تھیں۔ غیر ملکی حکمرانوں کے تسلط کے لئے ہم سب ذمہ دار تھے ۔ اگر دوآب گنگا کے رہنے والوں نے کلکٹر صاحب بہادر کا پیچوان تازہ کیا تو پہاڑوں کے خوانین بھی پولٹیکل ایجنٹ کو دنبے پیش کرتے تھے۔ اگر پنجاب کے زمیندار اور مشائخ لیڈی صاحبہ کی گود ہری ہونے پر قصیدہ لکھتے تھے تو بلوچ سرداروں نے بھی سنڈیمن کی بگھی کھینچی تھی۔ سندھی وڈیرہ بھی جوتے اتار کر انگریز کی پیش گاہی کرتا تھا۔ آزادی کے لئے بھی ہم سب نے مل کر جد و جہد کی۔ محمد علی جناح، عبدالصمد اچکزئی اور غفار خان میرے محترم لیڈر ہیں۔ جولائی 1947ء کے مسودۂ قانون آزادی ہند میں دو ریاستوں بھارت اور پاکستان کی تشکیل کو تسلیم کیا گیا۔ نیم آزادریاستوں کو ان میں سے کسی ایک قومی ریاست کا حصہ بننا تھا۔ کشمیر ہو یا قلات، کسی مقامی ریاست کو خود مختاری کا اختیار نہیں دیا گیا۔ چنانچہ میں بھی مفروضہ ، غیر دستاویزی اور اساطیری قومی شناخت کی بجائے پاکستان کو اپنی قوم سمجھتا ہوں۔ آزادی کے بعد بھارت ایک یونین بنا اور پاکستان ایک وفاق۔ میں وفاقی اکائیوں کی مساوات اور آئینی اختیارات کو تسلیم کرتا ہوں۔ میں بلوچ، سندھی ، پختون اور پنجابی ہم وطنوں سے محبت کرتا ہوں لیکن میں تاریخ کی غلطیاں درست کرنے کو ایک لاحاصل سعی سمجھتا ہوں ۔ مجھے کسی مفروضہ انصاف کی سربلندی کے لئے ریاستی سرحدوں کو نئے سرے سے مرتب کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ۔
میری نظر میں قومی آزادی کی منزل 1947ء میں حاصل ہو چکی۔منصفانہ حکمرانی کی منزل ابھی حاصل نہیں ہو سکی۔ ہماری تاریخ میں دو ایسے مواقع پیدا ہوئے جب ہماری سیاسی قیادت قوم کی کشتی کو صحیح سمت میں لے جا سکتی تھی۔ آزادی کے ابتدائی برسوں میں مسلم لیگ کی حکومت جمہوریت سے خائف رہی۔ دستور ، وفاق اور معیشت کے تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا۔ اس کوتاہی سے دو نتائج برآمد ہوئے ۔ طاقتور ریاستی اداروں نے سیاسی قیادت کی اخلاقی کوتاہی کو بھانپ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ دوسرے ہم غیر ضروری طور پر سرد جنگ کی کشمکش میں شریک ہو گئے۔ دوسرا موقع مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پیدا ہوا۔ پیپلز پارٹی کو پاکستان کے بعد پہلی منتخب حکومت چلانے کی ذمہ داری ملی لیکن بھٹو صاحب بھی حقیقی جمہوریت سے خائف تھے۔ ان کے طرز حکومت اور اقدامات سے ہمارا یہ قیمتی تجربہ ضائع ہو گیا ۔ دستوری ، شفاف اور عوام دوست حکمرانی کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ قومی آزادی کی تحریک انسانیت کا ایک روشن باب تھا۔ افریقہ اور ایشیا کے بہت سے ممالک میں اس خواب کی تعبیر میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، ہمارا ملک بھی اس تجربے سے گزر رہا ہے۔
تاہم میری رائے میں قومی آزادیوں کا زمانہ گزر چکا۔ اب معاشی سرگرمیوں کے ذریعے سرحدوں کو غیر اہم بنانے کا عہد ہے۔ سرحد کو غیر اہم بنانے کے لئے قانونی مساوات، معاشی انصاف اور سیاسی احترام بنیادی تقاضے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا حقیقی نصب العین قائداعظم محمد علی جناح کی اس تقریر میں پیش کیا گیا تھا جو انہوں نے 11 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں کی تھی۔ میں قرار داد مقاصد کو قائد اعظم کے دئیے گئے نصب العین سے متصادم سمجھتا ہوں ۔ میری رائے میں یہ قرارداد ہمارے عمرانی معاہدے کے لئے مناسب بنیاد فراہم نہیں کرتی۔ میرا مؤقف ہے کہ عسکری قوتوں سمیت تمام ریاستی اداروں پر سیاسی اور تمدنی قوتوں کی بالادستی قائم کئے بغیر ایک مہذب پاکستان تشکیل نہیں پا سکتا۔ میں سیاست میں فوجی مداخلت کو ناقابل قبول سمجھتا ہوں۔ میں مذہب کے نام پر سیاست کو انتشار اور پسماندگی کا نسخہ سمجھتا ہوں۔ میں ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھتا ہوں جہاں تمام شہری اپنے عقیدے، زبان ، جنس اور ثقافت سے قطع نظر ملک کے برابر کے شہری ہوں، جہاں ریاست ان تمام شناختوں کو احترام دیتے ہوئے غیرجانبداری کے ساتھ تمام شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہو، جہاں معاشرہ فرد کے احترام، اجتماعی رواداری اور امن کے اصولوں پر استوار ہو اور میرا ملک قوموں کی برادری میں علم، پیداوار اور تخلیق میں اپنے کردارکی بنیاد پر احترام پائے۔ مجھے افسوس ہے کہ اس بحث میں بہت سی ذاتی رائے دینا پڑی اور شاید کسی دوست کی دل آزاری بھی ہوئی ہو۔ آئیے ایک اچھے آدمی کو یاد کرتے ہیں۔ 1965ء کی جنگ کے دوران انتظار حسین شاکر علی سے ملے۔ پوچھا کہ دفاع وطن کے لئے آپ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا، ’میں چاند پینٹ کر رہا ہوں‘۔ انتظار حسین نے تعجب کیا کہ جنگ کے دوران چاند پینٹ کرنا یعنی چہ؟ شاکر علی نے کہا، ’چاند پاکستان میں بھی چمکتا ہے اور ہندوستان میں بھی‘۔ بھائی ، میں ایک معمولی صحافی ہوں اور اپنے قلم سے چاند پینٹ کرنا چاہتا ہوں جو راوی پر بھی چمکے اور پشین کے پہاڑوں پر بھی۔ جس کی کرنیں عمر کوٹ کے گھروں پر بھی روشنی بکھیریں اور بالا حصار کی گھاٹیوں میں بھی راستے روشن ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *