کیا کبھی پنجاب میں بھی احتساب ہوگا ؟

karimullahچند برس قبل کی بات ہے ۔ وزیر آباد میں ایک سکول ٹیچر نے چند روز میں پیسے ڈبل کرنے کا دھندہ شروع کیا، شروع شروع میں اس نے لوگوں سے ادھار لیا اور پندرہ بیس دن بعد ان کو اصل زرسے دگنی رقم دی۔ جب لوگوں نے پوچھا کہ ڈبل رقم کیوں دے رہے ہوں تو اس نے کہا میں ایک کاروبار کرتا ہوں جس سے مجھے اس سے بھی زیادہ منافع ہوتا ہے۔ لہٰذا میں لوگوں کو اس منافع سے حصہ دیتا ہوں۔ بہت کم عرصہ میں اس کی شہرت پورے وزیر آباد میں پھیل گئی اور لوگ دھڑا دھڑ اس کے خفیہ کاروبار سے ’ فیض یاب‘ ہونے لگے۔ اس ٹیچر کا نام ڈبل شاہ پڑ گیا۔ جب بنک خالی ہونے لگے تو نیب اور دیگر اداروں کو بھی ہوش آ گیا۔ پولیس نے ڈبل شاہ کو گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کی خبر ملتے ہی نیب بھی پہنچ گئی اور شاہ صاحب کو اپنی تحویل میں لے لیا اورکئی سال تک اس سے پلی بارگینگ کرتی رہی اور کچھ دے دلا کر شاہ جی اب آزاد ہیں۔ ان کے کافی متاثرین اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں، کچھ پاگل بھی ہو گئے ہیں۔ دنیا میں منشیات، اسلحہ اور دیگر ناجائز دھندوں کے علاوہ کوئی ایسا جائز کام نہیں جس سے اتنی جلدی رقم ڈبل ہوجائے تاہم ہمارے ملک میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے کاروبار نے ڈبل شاہ سے زیادہ ترقی کی ہے۔ وہ لوگ حکومت میں ہوتے ہیں یا حکومتی شخصیات کے دلال ہوتے ہیں۔
ایک دور تھا کہ پیپلزپارٹی میں کرپشن نام کی چیز موجود نہیں تھی۔ پروفیسر غفور نے ا یک مرتبہ کہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو پر اور بہت سے الزام لگ سکتے ہیں لیکن کرپشن کا الزام نہیں لگ سکتا۔ بی بی بے نظیر پر بھی پہلی حکومت میں ایسا کوئی الزام نہیں لگا تھا۔ تاہم دوسرے اور تیسرے دور حکومت میں پیپلزپارٹی کے بعض لیڈروں نے بہتی گنگا میں غوطے لگائے اورجی بھر کر پیاس بجھائی۔ بی بی کی شہادت اور زرداری صاحب کی صدارت کے بعد تو پیپلزپارٹی کرپشن کے حوالے سے سب سے زیادہ بدنام ہوئی ہے۔ کارکن بھی قیادت پر انگلیاں اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ کچھ جیالے کرپشن کے حوالے سے قیادت پر لگنے والے الزامات پر منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ احتساب کے خلاف اگر زرداری صاحب تحریک کی کال دیتے ہیں تو یہ بری طرح ناکام ہوگی ،کارکن باہر نہیں نکلیں گے۔ زرداری صاحب نظریاتی نہیں، زریاتی آدمی ہیں۔ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے زر کو بچانے کیلئے کوئی غریب کارکن کیوں قربانی دے۔ نظریاتی طورپر پارٹی دیوالیہ ہو چکی ہے۔ ضیا کے ساتھی اس پر قابض ہو چکے ہیں۔ پرانے کارکن کھڈے لائن لگا دیئے گئے ہیں۔ موجودہ پیپلزپارٹی اور بھٹو کی پارٹی میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔
؂ کراچی آپریشن شرو ع ہوتو ایم کیو ایم ناراض ہوگئی۔ پیپلزپارٹی کو بھی خدشات لاحق ہوئے لیکن وہ تیل کی دھار دیکھتی رہی، جب گرم تیل کی دھار پیپلزپارٹی پر پڑی تو وہ چلا اٹھی۔ ابھی تھوڑے لوگ گرفتار ہوئے ہیں۔ مقدمات زیادہ کے خلاف کھل چکے ہیں۔حکومت نے زرداری کے بیان کے بعد سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی گرفتاری روک دی اور گیلانی صاحب نے کئی مقدمات میں ضمانتیں کرا لی ہیں۔ سنیئر لیڈر امین فہیم کافی زیادہ بیمار ہیں۔ ان کی گرفتاری مشکل ہی نظر آتی ہے۔ تاہم کئی اہم گرفتاریاں متوقع ہیں لیکن پیپلزپارٹی کا میڈیا ٹرائل خوب ہورہا ہے۔
یہ بھی حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں احتساب بھی سب سے زیادہ پیپلزپارٹی کا ہوا۔ قربانیاں اور جیلیں بھی پیپلزپارٹی کے حصے میں آئیں۔ اس میں بہت سے بے قصور بھی جیلوں میں گلتے سڑتے رہے۔ آج دوبارہ بھی پیپلزپارٹی کو ہی رگڑا لگ رہا ہے۔اس سارے آپریشن میں کچھ حلقے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ چھوٹے صوبوں سے احتساب کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ یہ کب پنجاب تک پہنچے گا، کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ ستمبر میں پنجاب اور مسلم لیگ پر ہاتھ پڑنے والا ہے۔ لیکن یہ ہاتھ کون ڈالے گا۔ نیب تو اتنا خود مختار ادارہ بھی نہیں کہ وہ حکومتی پارٹی کے ارکان کو گرفتار کر سکے۔ یہ پیپلزپارٹی نہیں جو خاموشی سے دووزرائے اعظم کو گھر بھیج دے۔ یہ مسلم لیگ ن ہے جو صدر کو بھی لے جاتی ہے وہ تو شاید کوئی وزیر بھی گھر نہ بھیجے۔ جس طرح احتساب ہو رہا ہے، اس سے چھوٹے صوبوں خاص طور پر سندھ میں احساس محرومی ضرور بڑھ رہا ہو گا۔ سندھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ کراچی، فاٹا اور پنجاب میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں تھیں، فاٹا میںآپریشن ضرب عضب کیا جارہا ہے ، بلوچستان میں بلوچوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ سندھ میں رینجرز آپریشن کررہے ہیں۔ پنجاب میں کیا ہو رہا ہے، طالبان اور القاعدہ کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کا گڑھ پنجاب ہے، اس کی قیادت کو تو ایک جھٹکے میں مار دیا گیا ہے لیکن کیا ان کا نیٹ توڑ دیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق ان کے کئی گروپ پنجاب میں کام کر رہے ہیں۔ سیکورٹی ادارے ان کی کھوج میں ہیں۔ لیکن کیا ان کے سیاسی سرپرستوں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے؟ آصف زرداری کے مطابق فیصل آباد میں میاں برادران کے قریبی عزیز چودھری شیر علی نے پریس کانفرنس میں صوبائی وزیر رانا ثنا اللہ پر ٹارگٹ کلرز کی سرپرستی کا الزام لگایا تھا۔ اس الزام کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟ ایک اور صوبائی وزیر رانا مشہود ایک ہیومن سمگلر سے اپنے لیڈروں کے نام پر پیسے لیتا پایا گیا، اس کی وڈیو سوشل میڈیا پر آج بھی پڑی ہے۔ اس کی تحقیقات کا کیا بنا؟ وہ ابھی تک اپنی وزارت پر قائم ہیں۔ ماڈل ٹاون میں سولہ افراد کو پولیس نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ اس کی تحقیقات سے اہل اقتدار صاف بچ گئے اور بے گناہوں کا خون خاک ہوا۔ وفاقی وزیر اسحاق ڈار منی لانڈرنگ کااعتراف کر چکے ہیں۔ ان کے خلاف قانون خاموش ہے۔ سندھ، بلوچستان میں پنجاب کو پہلے ہی گالی پڑتی ہے اب اور زیادہ پڑے گی۔ میرے جیسے عام آدمی کا اس کرپشن اور دہشت گردوں کی سرپرستی میں کوئی حصہ نہیں، پھر مجھے کیوں گالی دی جا رہی ہے۔ جن لوگوں نے کالا دھن کمایا ہے اور جو دہشت گردوں کے سرپرست ہیں، ان کا خواہ کسی بھی صوبہ سے تعلق ہو، ان پر ایک طرح کا ہی ہاتھ ڈالاجانا چاہئے۔ صوبوں کے لئے الگ الگ قانون اور رویے نفرتوں کو فروغ دیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *