ماماقدیر کانام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

mama qadeerسندھ ہائی کورٹ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماؤں ماما قدیر بلوچ اور فرزانہ مجید کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آزاد پاکستانی کی حیثیت سے دنیا میں کہیں بھی جاسکتے ہیں۔

جسٹس احمد علی شیخ اور جسٹس فاروق علی شاہ پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے بلوچ قوم پرست رہنما ماما عبدالقدیر اور فرزانہ مجید کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ماما قدیر اور فرزانہ مجید لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ریاست مخالف ہیں۔ وہ پرامن شہری اور پاکستان کی حدود کا احترام کرتے رہے ہیں۔ انھیں رواں سال جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آف لوڈ کیا گیا لیکن وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔

سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی نے موقف اختیار کیا کہ ماما قدیر نوجوانوں کو مسلح افواج اور وفاق پاکستان کے خلاف بھڑکاتے رہے ہیں، جس پر ماما قدیر کے وکیل نے کہا کہ اگر ان کے موکل پاکستان کی حدود کے اندر اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ پاکستانی افواج کے خلاف بغاوت کررہے ہیں۔

عدالت عالیہ نے ڈپٹی اٹارنی سے سوال کیا کہ کیا ماما قدیر کے خلاف کوئی مقدمہ ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اس پر خاموشی اختیار کی۔ جس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ وہ پرامن اور آزاد شہری ہیں ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ماما قدیر اور فرزانہ مجید کو امریکا جانے سے روک دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزرات داخلہ اور ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ ماما قدیر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اس لیے انھیں بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *