پاکستان عالمی تنہائی کے راستے پر۔۔۔

khadim hussainیہ ستم ظریفی نہیں تو کیا ہے کہ ایک جانب دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں ایک آزاد اور خود مختار پاکستان کا راگ الاپتی ہیں جبکہ دوسری جانب سماجی و ثقافتی آثار کے حوالے سے پاکستان باقی ماندہ دنیا سے سٹریٹیجک (تزویراتی)، سیاسی اور تہذیبی تنہائی کی ایک افسوسناک تصویر پیش کر رہا ہے۔

سماجی اور ثقافتی پیمانوں پر ناپیں تو علاقائی اور بین الاقوامی ریاستوں کے مقابلے میں ہماری تعلیم، صحت، انسانی حقوق اور تحفظ وسلامتی کے اعتبار سے پاکستان مسلمہ تہذیبی اقدار سے کوسوں دور کھڑا نظر آتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے یونیسکو نے پاکستان کو دنیا میں شرح خواندگی لے لحاظ سے ایک سو اسی واں نمبر دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق ان پڑھے لکھے لوگوں میں بھاری اکثریت کسی قدر بوڑھے نسل کے لوگوں کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں خواندگی کی شرح آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہزاریے کے ترقیاتی اہداف کے تناظر میں یہ اعداد وشمار تاریخی تناقض کی تصویرکشی کرتے ہیں۔
مختلف قومی اور بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں پولیو کے مریضوں کی تعداد میں چوبیس فی صد اضافہ ہوا ہے جبکہ باقی ماندہ دنیا سے ہر قسم کے پولیو کا تقریبا خاتمہ ہو چکا ہے۔ کچھ ہی عرصہ پہلے یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ صرف فاٹا میں تقریباً سینتالیس ہزار والدین نے اپنے بچوں کو کئی وجوہات کی بنا پر پولیو ویکسین پلانے سے انکار کر دیاہے۔ ان وجوہات میں سب سے اہم وجہ عسکری تنظیموں کی طرف سے دی جانے والی دھمکیاں ہیں۔
خواتین کے حقوق بنیادی انسانی حقوق کا ایک حصہ ہیں۔ روزنامہ ڈان میں انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن آئی اے رحمان اپنے ایک حالیہ مضمون میں کہتے ہیں کہ:
’’ایک غیر سرکاری ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال صرف پنجاب میں 5151 خواتین تشدد کا شکار بنیں جن میں 774 خواتین کو قتل کیا گیا، دو سو سترہ خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، ایک ہزار پانچ سو انہتر خواتین کو اغوا کیا گیا، سات سو چھ خواتین کو عصمت دری یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور چار سو ستائیس خواتین کو خود کشی پر مجبور کیا گیا۔‘‘ جب صرف ایک ہی صوبے میں خواتین کے حقوق کے شعبے کا یہ حال ہے تو پاکستان میں انسانی حقوق کی مجموعی صورت حال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
عالمی خطرات کے تجزیات کرنے والی "میپل کرافٹ" نامی ایک تنظیم نے "ہیومن رائٹس رسک اٹلس 2014" کے عنوان سے 4 دسمبرکو ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ جہاں تک انسانی تحفظ کی بات ہے تو یہ رپورٹ پاکستان کو ’’انتہائی خطرے‘‘ والے ممالک کی فہرست میں رکھتی ہے۔ پاکستان ’’انتہائی خطرناک‘‘ ممالک والی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے جبکہ افغانستان کا نمبر چھٹا اور برما کا نمبر آٹھواں ہے۔
دورحاضر میں آزادی اورخود مختاری کے معنی اور مضمرات اضافی تصور کئے جاتے ہیں۔ ریاستیں اب جانتی ہیں کہ کس طرح ایک دوسروں کے ساتھ امداد باہمی کے ساتھ ساتھ ایک پر خطر اور نازک صورت حال کے دوران اپنی خود مختاری، سٹریٹجک، اقتصادی اور سیاسی تحفظ میں توازن رکھا جائے۔ ماضی قریب میں ایسی ریاستوں کی مثالیں موجود ہیں جو مسلسل سیاسی اور اقتصادی فائدوں اور نقصانات کی قیمت پر کبھی خود مختاری کی ایک انتہا پر چلی جاتی ہیں تو کبھی دوسری انتہا پر۔
جن ریاستوں نے تہذیبی ارتقا کے خلاف سفر کیا اور یا بین الاقوامی سیاسی دھارے اور مسلمہ اقتصادی ماڈل کے مطلق خلاف چلیں توانہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے آپ کو بین الاقوامی برادری میں تنہائی کے خطرے سے دوچار کیا بلکہ اپنے شہریوں کو بھی سماجی اور اقتصادی بد حالی کی طرف دھکیل دیا۔ کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ خود مختاری بذات خود غیر متعلقہ ہے بلکہ زندگی کے تقریبا تمام شعبوں میں ناگزیرعلاقائی اور عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دینا ہے۔
تنہائی عام طور پر خارجہ پالیسی کے خد و خال سے شروع ہوتی ہے اور تہذیبی تناقض تک جا پہنچتی ہے۔ موجودہ دور میں اگر ایک ملک علاقائی اور بین الاقوامی تنہائی کی طرف گامزن ہو تو اس کو تین ساختیاتی اور تزویراتی ناکامیوں کا سامنا ھو سکتا ھے۔ اول یہ کہ یہ شدید اقتصادی مشکلات میں الجھ سکتا ھے۔ دوم یہ کہ اسے تزویراتی فوائد سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے جو کہ سیاسی اثر و رسوخ قائم کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہیں ۔ اور تیسری بات یہ کہ یہ تنہائی ایک ملک کو تاریخی اور تہذیبی تناقض کی طرف لے جا سکتی ہے۔
اگرایک طرف مرکزیت پسند، اشرافی اور مطلق العنان ذہنیت کی بھول بھلیوں نے پاکستان کو جمہوری تکثریت (Pluralism ) کی نفی کی طرف مائل کیا تو دوسری طرف خارجہ پالیسی پر غیر منتخب طاقتوں کی اجارہ داری کی طرف دھکیلا ۔ مذہبی جنونیت اور جذباتی قومیت ان طاقتور اداروں اور حکمران ٹولے کی اس اجارہ داری قرار دینے کے لئے بڑی مفید ثابت ہوئی۔
بلوچستان کی سیاسی محرومی، فاٹا کے فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کا اندھا کنواں، اور غیر منتخب حکومتوں کا وقفے وقفے سے منتخب حکومتوں کے تختے الٹانا اور کچھ نہیں بلکہ اندرونی سوراخوں کی چند مثالیں ہیں۔
خارجہ پالیسی کے مقاصد کے حصول کی غرض سے جہاد کا استعمال اور نجی لشکروں کی پشت پناہی ، مغربی اور مشرقی ہمسایہ ممالک میں غیر سرکاری بندوق بردار جتھوں کو امداد کی فراہمی، وسطی ایشیائی ممالک، مشرق بعید کے ممالک، خلیجی ممالک، یورپ اور شمالی امریکی ممالک کے ساتھ تجارت کی خاطر مشترکہ مفادات کی تلاش کے لئے بصیرت کی کمی نے بیرونی طور پر پاکستان کو پوری دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔
اندرونی خلاؤں اور بیرونی تنہائی کے اس شیطانی چکر کو اب توڑنے کی ضرورت ہے اور اس کی خاطر پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ اندرونی خلاؤں اور بیرونی تنہائی کا ایک ساتھ حل ڈھونڈا جاسکے۔ اس شیطانی چکر کو توڑنے کے لئے ابھرتا ہوا میڈیا، سول سوسائٹی کی تنظیموں، تھنک ٹینکوں اوردانشوروں کو حکومت اور سیاسی قیادت کی پالیسی سازی میں بھر پور مدد کرنے کی ضرورت ہے۔
آنے والے سال کے دوران خطے میں پیش آنے والی غیر معمولی تبدیلیوں کومد نظررکھتے ہوئے پاکستان انتہائی مشکل صورت حال میں پھنس سکتا ہے۔ پاکستان کے طاقتور اداروں، حکمران ریاستی اور غیر ریاستی ٹولے کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ شاید تاریخ خود کو ہر بارنہ دہرائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *