پڑھنا منع ہے

Zafar ullah khanبچپن میں ہم ایک کہانی نویس کالم نگار سے بہت متاثر تھے۔ مقام صدشکر ہے کہ بچپن گزر جاتا ہے۔ ویسے بچپن میں ہم ایک کرخت نویس کالم نگارسے بھی بہت متاثر تھے لیکن کرختگی کے انگاروں پر لوٹ پوٹ کر اندازہ ہوا کہ
دام دانے میں نہاں تھا، مجھے معلوم نہ تھا
تو میں بتا رہا تھا کہ بچپن میں میں ایک کہانی نویس کالم نگار سے بہت متاثر تھا۔ ایک بار انہوں نے کہیں لکھا تھا کہ وہ 'بڑے آدمی کیسے بنے' ان کی لفظی ہنگامہ آرائی اتنی گستاخانہ تو نہ تھی پراپنی کج ذوقی کی بدولت مفہوم ایسا ہی سمجھ آیا۔لکھا تھا ان کو جہاں کوئی کتاب ملی پڑھ ڈالی،جہاں کوئی اخبار کا ٹکڑا ملا انہوں نے پڑھ ڈالا۔ سو ارادہ کر لیا کہ
محشر کا خیر کچھ بھی نتیجہ ہو اے عدم
پر اخبار کا کوئی بھی ٹکڑا ملے لازم ہے کہ ہم بھی پڑھیں گے۔ بس پھر کیا تھا جو جو ملا، جہاں جہاں ملا، پڑھ ڈالا۔ لیکن وائے ری قسمت انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ صرف پڑھنا ہے۔
قوم کی قسمت دیکھیں کہ اپنے یہاں استاد استعارہ نہیں، مستعارہ ہے۔ تاریخ محققانہ نہیں معاشرتی علومانہ ہے۔ چھوڑیں جی! احمد جاویدی انگڑائی تھی، گزر گئی۔ آگے چلیں۔
ہم کو لگ گئی لت مڈ ویک میگزین کی۔ ہر ہفتہ دوسرے صفحے پر ایک خوبصورت خاتون ہم سی آنکھ مٹکا کرتی۔ ان کی خوبصورتی دیکھ کرسب سے پہلے’ تبت وائٹ سنو‘ کریم پر اپنی جمع پونجی وار دی لیکن تین ماہ میں گورے تو کیا گندمی بھی نہ ہو سکے۔
کف افسوس!
قریب قریب گورے پن کی طرف مائلِ پرواز تھے کہ ایک ٹرک کے پیچھے جلی حروف میں تحریر پڑھی ’قسمت اپنا اپنا نصیب اپنا اپنا‘۔
بات سنو! اب اردو کے تذکیر و تانیث کی بحث میں نہ پڑ جانا۔ٹرک پٹھان کا تھا اور قسمت پشتو میں مذکر ہے۔ ہاں نہیں تو۔اگلے ہفتہ کے شمارے کے سر ورق پر فیض کی تصویر کے ساتھ لکھا تھا۔
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
ہم نے نصیب اپنا اپنا اور مقام فیض کو آپس میں لڑا کر دیکھا تو بیچارہ فیض غدار نظر آیا اور نصیب اپنا اپنا ضیا الحقی محسوس ہوئی۔ سوری جذباتی شدم۔ یہ بات آپ نے پڑھی نہیں، میں نے لکھی نہیں۔ شکریہ راحیل شریف۔
تو کوئے تبت سنو سے نکل کر سوئے فیئر اینڈ لولی چلے۔ مگر نتیجہ وہی ’’کچی آبادی کے لکھ پتی کتے‘‘ جیسا ہی نکل آیا۔ ارے یار حکم آیا ہے کہ اردو بولنی ہے تو’’سلم ڈاگ ملینئر‘‘ کا اور کیا ترجمہ کروں؟ خیر سے اردو کا حکم تو امریکی سرکار سب سے پہلے مان گئی۔ سفارت خانے نے اردو ویب سائٹ لانچ بھی کر دی۔ ہاں! اب اس کو پاک امریکہ دوستی سمجھ کر ہتھے سے نہ اکھڑ جانا، بارڈر کے حالات چنگے نہیں ہیں اور ابھی تک تو وہ ساتواں بحری بیڑہ بھی نہیں پہنچا رے۔
گورے پن کا تو کریا کرم کردیا ہم نے۔ اب باری تھی صحت وصفائی کی۔ہاتھ دن میں چار مرتبہ صابن سے دھونا تھا اور جراثیم سے دور رہنا تھا۔ اہل مروت کی محفل ہے اور جھوٹے کا منہ کالا، سچ بتائیں تو
پاس دیں، کفر میں رہا ملحوظ
ہم کافر تو نہیں تھے لیکن اسی میگزین میں پڑھا تھا کہ ’’لکس‘‘ میں سور کی چربی ہے اس لئے ہاتھ اک سرخ سے صابن میں پھنسا بیٹھے تھے۔ اس زمانے میں بابا اشفاق احمد کو پڑھا ہوتا تو سرخ صابن کی معرفت سے آگاہ رہتے مگر وہ نہال سخن شناس اپنی سمجھدانی میں اب بھی نہیں آتا تب کے کیا آتا۔ ہاں مگر یوسفی صاحب کو اس وقت پڑھا ہوتا کہ ’ مسلمان سور ہو تو سکتا ہے، کھا نہیں سکتا‘ تو ضرور اپنے ہاتھ بھی ریما کی طرح لکس سے دھل کر ملائم ہوتے۔ویسے کسی کی یوسفی صاحب سے یاد اللہ ہو تو ان کو ازراہ کرم بتا دیجیے کہ مسلمان سور ہو تو سکتا ہے، بیچ بھی سکتا ہے حتی کی بے خبری میں کھا بھی سکتا ہے۔
اب باری تھی جراثیم سے دور رہنے کی مگر کیسے رہتے؟ سکول کے واش روم میں ٹوائلٹ پیپر تھا نہیں، مٹی کے ڈھیلے منع تھے، شاور ابھی تک یا مسلمان نہیں ہوا تھا یا پھر مسلم شاور ابھی تک وہاں پہنچا نہیں تھا، ایک ڈرم اور ایک لوٹا۔ بتاؤ بھلا جراثیم سے کیسے دور رہتے؟ ہم نے بستے میں ابا کے واش روم سے ایک ٹشو رول چرا کر رکھ لیا۔ لیکن سکول کے واش روم کے دروازے کا ہینڈل کا لا سیاہ ہو چکا تھا اس لئے اس کو بھی ٹشو پیپر سے پکڑنا پڑتا تھا۔ پھر پڑھا کہ کثافت سے بھی بیماری لگتی ہے تو دادی اماں کا دمہ کام آیا اور ان کا ایک ماسک چرا کر بستہ زن کر لیا۔ اب یوں تھا کہ باتھ روم جاتے ہوئے ہاتھ پرٹشو کے دستانے، منہ پر ماسک، جیب میں لال صابن مگر کچرا رانی نے پھر بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا۔
ماسٹر نیاز پڑھاتے کچھ نہیں تھے۔ میتھ کی کلاس میں آکر کہتے سب بچے سو بار درود شریف پڑھ لیں۔ ہم کو درود پر لگا کر خود ناک میں انگل کرنے بیٹھ جاتے اور ہاتھ میں پکڑے مولا بخش پر انگلیاں پھیرتے رہتے۔ اسی مولا بخش سے کئی بار بغیر دستانوں کے ہمارے ہاتھوں کو ’اپنے داغوں سے باغ باغ کیا ‘۔
یہاں پر ’کیا‘ کے بعد ایک عدد فل کالن: اور بریکٹ بند ) سے بننے ولا سمائلی(جو سیڈ ہوتا ہے) ڈال کر پڑھ لیجیے۔
اس جراثیم عضبی کے چکر نے ہماری دوستی بھی خراب کر ڈالی۔ باتھ روم سے جو دوست نکلتا ہم ہاتھ ملانے سے کتراتے۔ لسی اور مکھن سے محروم کر دیا اور تائی کی ناراضی الگ سے مول لی۔ تائی چاٹی میں ہاتھ دال کر مکھن نکالتی اور مکھن کا پیڑا تھالی میں پھینکنے کے بعد ہاتھ پر لگا مکھن میل سمیت تھالی کے کنارے پر پھیر دیتی۔ ہم نے لسی پینی چھوڑ دی، مکھن سے محروم ہوئے، تائی الگ سے ناراض ہوئی اور تایا کے دوتھپڑ بھی کھا لئے۔جو لوگ مسجد اپنی جائے نماز لے کر آتے تھے وہ ہمیں’بندۂ کمینہ ہمسایۂ خدا ہے‘ کے مصداق نظر آتے لیکن جراثیم کی جملہ آفادیات سے خبرناک ہونے کے بعد مسجد کے قالینوں سے بزرگوں کی جرابوں کی سوندھی سوندھی باس قبولی۔ اس علم نارسا کے چکر میں ہم نے’ کیا کیا تیرے کوچے میں تماشا نہ کیا‘۔
چاکلیٹ کھانا چھوڑ دیا کہ حرام کی چربی ملی ہوئی تھی۔ نیسلے پینا چھوڑ دیا کہ کسی سرچوی ریسرچوی تصنیف میں پڑھا کہ اس میں ایڈز کا پاوڈر ملا ہے۔ پیر صاحب نے مدینے میں جو خواب دیکھا تھا اس کی پانچ سو کاپیاں بار بار نکال کر لوگوں میں تقسیم کیں لیکن سات دن تو کیا سات برس تک نہ پیر صاحب ملے نہ خوش خبری نہ ملی۔ ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا کہ مائی اناری جب مری تھی تو اسے قبر میں رکھتے ہی ایک کالے ناگ نے اس کی آنکھوں پر پلٹ کر جھپٹ کر، چھپٹ کر پلٹ کر، بلکہ لپٹ لپٹ کر اس کی آنکھوں میں زہر بھرا۔ سالا ٹھرکی۔ مطلب لپٹنے کی کیا تک ہے بھئی؟
کوک اور فانٹا چھوڑ دی کہ یہودی تھے کافر کہیں کے لیکن مکہ کولا پھر بھی نہ چل سکا۔ شیزان بھی چھوڑ دیا کہ قادیانی تھا مگر اب سنا ہے مسلمان ہو گیا ہے جانے ختنے کس نے کئے ہوں گے کیونکہ شیزان چھوٹی بوتل میں آنے لگی ہے۔ میکڈونلڈ کی مرغیاں حلال نہیں ہوتی تھیں اس لئے گلبہار کے گریس میں بنے برگر کھا لئے۔ پرفیوم لگانا چھوڑ دیا کہ اس میں الکوحل تھی اور شدید گرمی میں خود سے مچھلی منڈی کی بساند یا بھیگی مج کی سڑاند آنے لگی ۔ اور تو اور نامعلوم نمبر بھی اٹھانا چھوڑ دیا کہ کہیں کانوں سے خون نہ بہنے لگے۔
سپستان، گاؤزبان، شہد، لیموں، ادرک، ملٹی، ہلدی، اجوائن، الائچی اور سارے زبیدہ آپائی ٹوٹکے بھی آزما لئے لیکن وزن کم نہیں ہوا۔ آپ کے سارے بزرگانہ میسیج بھی دس دس لوگوں کو فارورڈ کئے لیکن کوئی نوید نہ ملی۔ آئن لائن استخارہ پڑھا لیا۔ مدنی سرمہ لگا لیا۔سنا تھا کہ
یہ بزم مئے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
مگر۔۔۔
جو بڑھ کر خود اٹھا لیا ہاتھ میں وہ جام 'خالی' نکلا۔۔۔
خیر تسی وی تو قیامت کی نگاہ رکھتے ہو۔ تین عورتیں تین کہانیاں سے جو عشق ہنگامہ بداماں کو جو جرات پرواز ملی وہ کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔ سر دست بس اتنا سن لیں کہ وہ آفت جاں، دلربا،مخمور نگاہ،راز آشنا،دست حنا، رند وفا، سخن سرا، رخ زیبا، شیریں ادا، رنگیں ردا، حشر ساماں، بسمل رقصاں، زلف درازاں، عشوہ طرزاں، عنبریں گیسو ، اشک افشاں اور محبوب جاں، وہ جس کے بارے میں میر نے کہا تھا کہ
فلک نے خاک کو یک عمر چھانا
تب اس محبوب نے جلوہ گری کی
اس کا تصور جب من آتا ہے۔ وہ جب خیال کے من مندر میں جل تھل ٹھہرتی ہے۔ وہ جب دل ناداں کے درپن پر جلوہ نمائی کرتی ہے۔ تو خیال آتا ہے کہ اس کا ایک معدہ بھی ہے۔ اس کی انتڑیاں بھی ہیں۔ وہ کھاتی بھی ہے، اس کو ڈکار بھی آتا ہے۔ اس کو پسینہ بھی آتا ہے۔
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *