سندھ میں 167 مذہبی مدارس سر بمہر کر دیے گئے

madrassaسندھ میں مختلف الزامات کے تحت 167 مدارس کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ کراچی اور حیدر آباد میں واقع 21 مشکوک مدارس کی چھان بین کی جاری ہے۔ آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس میں آگاہ کیا کہ کچھ مشکوک مدارس سے نفرت انگیز مواد بھی برآمد ہوا ہے جن کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ اس اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے تشکیل دیے گئے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ صوبائی سیکریٹری داخلہ مختیار سومرو نے اجلاس کو بتایا کہ ساڑھے 9 ہزار سے زائد مدارس میں سے ساڑھے 6 ہزار مدارس کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ تین ہزار مدارس کی رجسٹریشن ابھی ہونا باقی ہے۔صوبائی محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ مدارس کی جیو ٹیگنگ کی ابتدا ہو چکی ہے اور فی الوقت کراچی کے 2122 اور حیدرآباد کے ساڑھے 15 سو کے قریب مدارس کی جیو ٹیگنگ مکمل ہو چکی ہے جس سے ان کے درست محل وقوع کے بارے میں معلوم ہو سکے گا۔ صوبے میں 61 کالعدم مذہبی تنظیموں کی نشاندہی ہو چکی ہے، ستمبر 2013 سے ستمبر 2015 تک القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے 16 کارندوں سمیت 1155 دہشت گرد ہلاک اور 879 کو گرفتار کیا گیا ہے۔
افغان مہاجرین کی شناخت اور ان کی وطن واپسی کے حوالے سے سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ سندھ میں اس وقت 9 لاکھ 26 ہزار سے زائد افغان باشندے رجسٹرڈ ہیں جبکہ 35 ہزار سے زائد افراد کو واپس بھیج دیا گیا ہے اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف 720 مقدمات درج کیے گئے جس کے تحت 2100 افراد کی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔ آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے سندھ پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کیا ہے اور مزید جدید اسلحہ و آلات سے لیس کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔
وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے ٹارگیٹڈ آپریشن سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور اس حوالے سے اگر وہ پولیس سٹیشنز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھاتے ہیں تو یہ بہت ہی اچھا ہوگا۔ جمعرات کو اسلام آباد میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا، جس میں وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ سمیت چاروں وزرا اعلیٰ کارکردگی رپورٹ پیش کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *