وزیر اعلیٰ تو وزیر اعلیٰ ہوتا ہے ۔۔۔ اصلی ہو یا ۔۔۔؟

WISI BABAسرفراز بگٹی نے ایک پریس کانفرنس میں ڈاکٹر اللہ نزر کے مارے جانے کا اعلان کیا اسی سانس میں بتایا کہ یہ غیر تصدیق شدہ خبر ہے۔ صحافی حضرات اپنے ڈھڈ پر ہاتھے پھیرتے یہی سوچتے رہے کہ اگر خبر غیر تصدیق شدہ ہے تو اس کو چلانے کی ضرورت کیا ہے۔
سرکار کی رمزیں سرکار ہی جانے۔ شدت پسندوں کی رمزیں جاننے والے ہمارے بے خبر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اللہ نزر کے مارے جانے کی خبریں پہلے بھی زیادہ پھیل گئیں تھی تو انہوں نے یعنی اللہ نزر نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دے مارا۔ اسی ٹیلی فونک بات چیت کو پکڑ کر اک سست الوجود گولے یا میزائل سے انکا تعاقب کیا گیا۔
جب سے وہ میزائل پاٹا ہے ڈاکٹر صاحب کی آواز سنائی نہیں دی۔ سیکیورٹی حلقوں سے پوچھا جائے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ ہم نہ اس خبر کی تصدیق کرتے ہیں نہ تردید۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اب ہر قسم عسکریت پسند ہمیں اپنے مگرے (پیچھے) ہی پائے گا ذرا ہل جل کرکے تو دیکھے۔۔۔
بلوچستان کی مخلوط حکومت ایک معاہدے کے تحت وجود میں آئی ہے نومبر یا دسمبر میں نئے وزیراعلی کا انتخاب ہونا ہے جس کا تعلق مسلم لیگ نون سے ہو گا۔ سردار ثنا اللہ زہری ن لیگ کے صوبائی صدر ہیں اور چیف آف جھل آوان یعنی آدھی قلات ریاست کے روایتی سربراہ ہیں اور مضبوط قبائلی شخصیت اور اہمیت رکھتے ہیں وہ اب وزارت اعلی کے لئے ٹیک آف کر چکے ہیں۔
سرفراز بگٹی بھی وزارت اعلی کے امیدوار تھے اور ان کے پاس نمائندے تھے لیکن اب ان کا دل نہیں کر رہا اس عہدے کے لئے۔ ہوا یہ کہ سردار زہری نے جو اپنی وزارت اعلی کی کمپین کو نواب جنگیز کے ہاتھوں خوار ہوتا دیکھ رہے تھے اوپر سے بلوچستان میں سیاسی جوڑ توڑ کے سب سے بڑے کھلاڑی نواب مگسی کوئٹہ آ کر بیٹھ گئے ہیں اور دے مار ملاقاتیں کئے جا رہے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر نواب زہری نے وزارت اعلی کے امیدواروں میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا۔
سرفراز بگٹی کو ایک دن گھر بلایا اور پھر بہت پیار سے اتنے پیار سے اور نرم آواز میں آہستہ سے سمجھایا کہ گھر کے باہر پھرنے والوں کو بھی سنائی دے گیا کہ سیشن چل رہا ہے۔ سرفراز بگٹی جو پہلے ہی ڈیرہ بگٹی میں اپنے کزن اور قریبی ساتھیوں کے شاہزین اور براہمداگ بگٹی کے ساتھ جا ملنے پر ملول تھے، دل ہی چھوڑ گئے ہیں۔
اب نواب زہری کے مقابلے میں رہ گئے ہیں دو نواب ایک اپنی پارٹی کا اور دوسرا آزاد طبعیت۔ نواب صاھب نے امیدوار تو ایک کم کر لیا ہے لیکن ان کے پارٹی لیڈر کو شرارتی لوگوں نے گرم سرد پھونکیں مارنی شروع کر دی ہیں کہ کبھی جنگ کے دوران بھی گھوڑا بدلا جاتا ہے ۔۔۔ہیں جی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *