عصمت چغتائی: ٹیڑھی لکیر

ehsanullah Khanاردو کی تاریخ ساز افسانہ نگار عصمت چغتائی سماج کی باغی تھیں انہوں نے ہر سطح پر بغاوت کی۔ وہ زندگی بھر حقوق نسواں کے لیے جدو جہد کرتی رہیں اور اپنی تحریروں کے شعلے کو تیز سے تیز تر کیا۔ لیکن تنازعات بھی مسلسل ان کا تعاقب کرتے رہے، جس سے وہ کبھی پیچھا نہیں چھڑا سکیں۔
عصمت کی پیدائش 15اگست سنہ 1911ء کو اتر پردیش کے مردم خیز علاقہ بدایوں میں ہوئی تھی، جہاں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں تعینات تھے۔ ان کا آبائی وطن جودھ پور تھا اور وہیں عصمت کا بچپن بھی گزرا۔ ان کے چھ بھائی اور چار بہنیں تھیں۔ ان میں عصمت نویں نمبر پر تھیں۔
عصمت کے بڑے بھائی عظیم بیگ چغتائی اپنے دور کے مقبول ادیب تھے۔ عصمت نے کالج کے زمانے میں ہی ایک کہانی ’’ فسادی‘‘ لکھی جو ساقی میں شائع ہوئی۔ سنہ 1941 میں علی گڑھ میں دوران تعلیم ان کی شاہد لطیف سے دوستی ہوئی جو بعد میں شادی میں تبدیل ہو گئی۔ لیکن’لحاف‘کی اشاعت کے ساتھ ساتھ خاندان میں ایسا بھونچال آیا کہ یہ شادی ٹوٹتے ٹوٹتے بچی۔ ’لحاف‘ شادی سے صرف دو ماہ قبل شائع ہوئی تھی اور یہ عصمت کی سب سے بد نام کہانی ہے۔ عصمت نے تین سو سے زائد کہانیاں لکھیں جو پانچ افسانوی مجموعوں کی شکل میں شائع ہوئیں ان میں کلیاں،10ndmpSIBAL-2_G_10_1328435g چوٹیں، چھوئی موئی، ایک بات، دو ہاتھ شامل ہیں۔ ان کے ناولوں کے نام ہیں: ٹیڑھی لکیر، ضدی، اک قطرہ خون، دل کی دنیا، معصومہ اور بہروپ نگر۔
اس کے علاوہ عصمت نے اپنے فلم ساز شوہر شاہد لطیف کی فلموں کے لیے بارہ کہانیاں لکھی تھیں۔ جن میں سے پانچ فلمیں انہوں نے خود بنائیں۔ ان کی سر گزشت’ کاغذی ہے پیرہن‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ عصمت نے شیام بینگل کی فلم ’’جنون‘‘ کے نہ صرف مکالمے لکھے تھے بلکہ اس میں ایک کردار بھی ادا کیا تھا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عصمت اپنے افسانے ’لحاف‘ کی وجہ سے کافی بدنام ہوئیں اور اس افسانے پر عدالت میں مقدمہ بھی چلا۔ اتفاق سے منٹو کے افسانہ ’بو‘ اور عصمت کے افسانہ پر ساتھ ساتھ مقدمہ چلا تھا۔ ان کے گھر جب پولس وارنٹ لے کر پہنچی تو گھر میں ایک عجیب کیفیت پیدا ہو گئی، جس کا ismat3ذکر عصمت نے ’کاغذی ہے پیرہن‘ میں کیا ہے۔ لوگ انہیں کہتے تھے کہ معافی مانگ لو تو مقدمہ خود بخود ختم ہو جائے گا لیکن منٹو نے ان کے باغیانہ شعلوں کو ہوا دی انہوں نے کہا
’ ارے ایک ہی تو معرکے کی چیزلکھی ہے آپ نے۔ اماں !شاہد تم بھی کیا آدمی ہو، یار تم بھی چلنا، تم نے جاڑوں کا لاہور نہیں دیکھا۔ خدا کی قسم ہم تمہیں اپنا لاہور دکھائیں گے۔ کیا تیکھی سردی پڑتی ہے، تلی ہوئی مچھلی آہا ہا۔ وہسکی کے ساتھ آتشدان میں دہکتی ہوئی آگ جیسے عاشقوں کے دل جل رہے ہوں اور بلڈ ریڈ مالٹے آہاہا جیسے معشوق کے بوسے۔ ‘
کاغذی ہے پیرہن۔ صفحہ 40
عصمت، منٹو، اور شاہد احمد دہلوی کے ساتھ مقدمے کی پیشی کے سلسلے میں لاہور گئیں۔ اس کا ذکر وہ آپ بیتی میں یوں کرتی ہیں:
’شاہد صاحب کے ساتھ میں میں بھی ایم اسلم کے یہاں ٹھہر گئی، سلام و دعا بھی ٹھیک سے نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے مجھے جھاڑنا شروع کیا تھا میری عریاں نگاری پر برسنے لگے۔ مجھ پر بھی بھوت سوار ہو گیا، شاہد صاحب نے بہت روکا مگر میں الجھ پڑی۔
’اور آپ نے جو ’’گناہ کی راتیں‘‘ میں اتنے گندے گندے جملے لکھے ہیں، باقاعدہ سیکس ایکٹ کی تفصیل بتائی ہے صرف چٹخارے کے لیے۔‘
’میری اور بات ہے، میں مرد ہوں۔‘
’تو اس میں میرا کیا قصور؟‘
’کیا مطلب؟‘ و ہ غصے سے سرخ ہو گئے۔
’مطلب یہ کہ آپ کو خد انے مرد بنایا، اس میں میرا کوئی دخل نہیں او رمجھے عورت بنایا اس میں آپ کا کوئی دخل نہیں۔ مجھ سے آپIsmat-Chughtai_cmbuh7 جو چاہتے ہیں وہ سب لکھنے کا حق آپ نے نہیں مانگا۔ نہ میں آزادی سے لکھنے کا حق آپ سے مانگنے کی ضرورت سمجھتی ہوں۔‘
’آپ ایک شریف مسلمان خاندان کی تعلیم یافتہ لڑکی ہیں۔‘
’اور آپ بھی تعلیم یافتہ ہیں اور شریف مسلمان خاندان سے ہیں۔‘
’آپ مردوں کی برابری کرنا چاہتی ہیں؟‘
’ہرگز نہیں کلاس میں زیادہ سے زیادہ نمبر پانے کی کوشش کرتی تھی اور اکثر لڑکوں سے زیادہ نمبر لے جاتی تھی۔‘
میں جانتی تھی کہ میں اپنی خاندانی کچ بحثی پر اتر آئی ہوں مگر اسلم صاحب کا چہرہ تمتما اٹھا اور مجھے ڈر ہوا یا تو وہ میرے تھپڑ مار دیں گے یا ان کے دماغ کی شہ رگ پھٹ جائے گی۔ شاہد صاحب کی روح فنا ہو رہی تھی۔ وہ بس رونے ہی والے تھے کہ میں نے بڑی نرم آواز میں انکساری سے کہا:
’اصل میں اسلم صاحب مجھے کبھی کسی نے نہیں بتایا کہ ’لحاف‘والے موضوع پر لکھنا گناہ ہے۔ نہ میں نے کسی کتاب میں پڑھا کہ اس مرض یا لت کے بارے میں نہیں لکھنا چاہیئے۔ شاید میرا دماغ عبد الرحمٰن چغتائی کا برش نہیں ایک سستا سا کیمرہ ہے جو کچھ دیکھتا ہے کھٹ سے بٹن دب جاتا ہے اور میرا قلم میرے ہاتھ میں بے بس ہو تا ہے۔ میرا دماغ اسے ورغلا دیتا ہے، دماغ اور قلم کے قصے میں دخل اندازی نہیں ہو پاتی۔ ‘ ’کاغذی ہے پیرہن‘۔ صفحہ 44,45
عدالت میں کافی بحث و مباحثے کے بعد جج جو کہ خود ادب دوست تھے وہ مقدمہ ختم کر دیا۔ اس کے بارے میں لکھتی ہیں:
’ وہ صاحب اداس ہو گئے، کیوں کہ ہمیں سزا نہیں ملی، جج صاحب نے مجھے کورٹ کے پیچھے ایک کمرے میں طلب کیا اور بڑے تپاک سے بولے۔ ’میں نے آپ کی اکثر کہانیاں پڑھی ہیں اور وہ فحش نہیں، اور نہ ’لحاف‘ فحش ہے مگر منٹو کی تحریروں میں بڑی غلاظت بھری ہو تی ہے۔‘
’دنیا میں بھی غلاظت بھری ہے،‘ میں منحنی آواز میں بولی۔
’تو کیا ضروری ہے کہ اسے اچھالا جائے؟‘
’اچھالنے سے وہ نظر آجاتی ہے اور صفائی کی طرف دھیان جا سکتا ہے۔‘
جج صاحب ہنس دیے‘‘۔ (کاغذی ہے پیرہن صفحہ۔51)
مقدمہ ختم ہو گیا، فیصلہ عصمت چغتائی کے حق میں ہوا لیکن ’ لحاف‘ کا لیبل ان پر ساری زندگی چپکا رہا۔ وہ خود ہی کہتی ہیں:
’’لحاف کا لیبل اب بھی ہماری ہستی پر چپکا ہوا ہے اور جسے لوگ شہرت کہتے ہیں وہ بدنامی کی صورت میں اس افسانے پر اتنی ملی کہ الٹی آنے لگی۔ ’’لحاف‘‘ میری چڑ بن گیا تھا، میں کچھ بھی لکھوں ’’لحاف‘‘ کی تہوں میں دب جاتا تھا۔ جب میں نے’ٹیڑھی لکیر‘ لکھی اور شاہد احمد دہلوی کو بھیجی تو انہوں نے محمد حسن عسکری کو پڑھنے کو دی۔ انہوں نے مجھے رائے دی کہ میں اپنے ناول کی ہیروئن کو ’لحاف‘ زدہ بنا دوں۔
عسمت چغتائی کا 24اکتوبر 1991ء کو انتقال ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *