پاکستان اور امریکہ کے درمیان مایوسی اور امیدکے پہلو

Najam Sethiوزیراعظم نوازشریف اور صدر اوباما کو ایک جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن چونکہ ان کے اسٹرٹیجک معاملات ایک دوسرے سے اشتراک نہیں رکھتے ہیں اس لئے وہ ایک جیسی حکمت ِ عملی اپناتے دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ دونوں رہنما دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ مسٹر اوباما کا کہنا ہے کہ وہ فاٹا میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے ٹھکانوں پر ڈورن حملے کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں جبکہ مسٹر شریف یہ سمجھتے ہیں کہ ڈرون حملوں میں عام بے گناہ شہری ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس سے طالبان کو فائدہ پہنچتا ہے۔ صدر اوباما لشکر ِ طیبہ، جس پر ممبئی حملوں کا الزام ہے، کے خلاف سخت ایکشن چاہتے ہیں جبکہ مسٹر شریف کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ دکھائی نہیں دیتا ہے یا پھر وہ ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لینا چاہتے ہیں۔
نوازشریف افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے درمیان فرق کرتے ہیں، اس لئے وہ ان کے لئے مختلف پالیسوں کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ افغان طالبان کے لئے افغانستان کے سیاسی ڈھانچے میں جگہ پیدا کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ پاکستانی طالبان کو مذاکرات کے ذریعے پرامن کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کی پہلی شرط یہ کہ ڈرون حملے بند کئے جائیں۔ دوسری طرف امریکی صدر کا خیال ہے کہ تمام طالبان القاعدہ کے حامی اور امریکہ کے دشمن ہیں چنانچہ انہیں قوت کے استعمال سے ختم کر دینا ہی بہتر ہے۔ اسی طرح نواز شریف شکیل آفریدی کو ایک ایسا مجرم سمجھتے ہیں جس کے سی آئی اے کے ساتھ روابط تھے چنانچہ اُسے پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کی پاداش میں سزا ملنی چاہئے۔ دوسری طرف امریکی صدر اُسے ایک ایسا ہیرو سمجھتے ہیں جس نے اُنہیں انتہائی مطلوب دہشت گرد کو گرفتار کرنے میں مدد دی۔ نواز شریف چاہتے ہیں کہ شکیل آفریدی پاکستانی جیلوں میں ہی سزا بھگتے جبکہ صدر اُوباما اُس کا امریکی سرزمین پر ایک ہیرو کی طرح استقبال کرنا چاہتے ہیں۔
مسٹر شریف کے نزدیک ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک ایسی بہادر پاکستانی شہری ہے جس پر دہشت گردی کا بے بنیاد الزام عائد کر کے امریکہ میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ وہ اُسے پاکستان واپس لاکر عزت و تکریم کے ساتھ استقبال کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکی صدر اُسے ایک القاعدہ کی ایسی ایجنٹ قرار دیتے ہیں جس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا، اس لئے وہ سزا کی بجا طور پر مستحق ہے۔ بہرحال جو بھی ہو، ان دونوں قیدیوں کا تبادلہ اُس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا کوئی قانون طے نہیں پا جاتا۔
نوازشریف چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل کی مصنوعات کو امریکی مارکیٹوں تک رسائی دی جائے لیکن مسٹر اوباما اپنے جنوبی علاقوں میں رہنے والوں شہریوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے کیونکہ امریکہ کی موجودہ تجارتی پالیسوں کا اُنہیں فائدہ ہو رہا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم چاہتے ہیں کہ امریکہ بھارت پر دبائو ڈالے تاکہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل پر آمادگی ظاہر کرے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول کی سطح پر لائے لیکن امریکہ جنوبی ایشیا کے ان حریف ممالک کے درمیان ثالث کا کردار نہیں ادا کرنا چاہتا۔ اسی طرح پاکستانی وزیراعظم چاہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں قیام ِ امن اور استحکام کے لئے پاکستان کی ضرورت اور اہمیت کو تسلیم کرے جبکہ امریکی صدر کی طرف سے ایسے اشارے آرہے ہیں کہ اگلے سال نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا کے بعد وہ بھارت، نہ کہ پاکستان، کو اہم کردار سونپنا چاہتے ہیں۔ پاکستان توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایران سے گیس حاصل کرنے کے لئے پائپ لائن بچھانا چاہتا ہے لیکن مسٹر اوباما ایران کو تیل اور گیس برآمد کرنے کی اجازت اُس وقت نہیں دیں گے اور نہ ہی کسی ملک کو اُس سے تجارتی تعاون کرنے دیں گے جب تک وہ اپنا ایٹمی پروگرام ترک نہیں کر دیتا۔
اصل مسئلۂ یہ ہے کہ پاکستان کی نیشنل سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا امریکہ مخالف جذبات کو ہوا دیتے ہیں جبکہ امریکہ کی نیشنل سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ ( پنٹاگون اور سی آئی اے ) اور امریکی میڈیا پاکستان کے مخالف بن چکے ہیں۔ اس دوران دونوں ممالک کے سیاسی رہنما ان طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔ 1989 میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد سے دونوں ممالک کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے پر شک اور عدم اعتماد کرتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے نے ان دونوں کے درمیان شراکت داری، جس کی بنیاد اشتراکی نظام کی مخالفت تھی، کی بنیادی وجہ ختم ہو چکی ہے چنانچہ اب امریکہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ تنازعات، جیسا کہ کشمیر ایشو، کو خاطر میں نہیں لاتا کیونکہ اُس کے پیشِ نظر بھارت کے ساتھ تجارتی تعاون اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مفادات ہیں۔ ان تبدیل شدہ معروضات کے باوجود، پاکستان اور امریکہ میں کسی نہ کسی سطح پر شراکت داری پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مختصر مدت کیلئے مفاد جبکہ طویل مدت کے لئے تشویش رکھتا ہے۔ اس وقت امریکہ کو پاکستان سے یہ تعاون درکار ہے کہ وہ افغانستان سے افواج کے انخلا میں اس کی مدد کرے۔ اس تعاون کی دو جہتیں ہیں: پہلی یہ کہ پاکستان اپنی سرزمین سے نیٹو کا دفاعی ساز و سامان گزرنے دے اور طالبان کو راضی کرے کہ وہ امریکہ سے مذاکرات کرتے ہوئے افغانستان میں امن کو یقینی بنائیں۔ دوسری جہت طویل المدتی ہے۔ امریکہ پاکستان سے چاہتا ہے کہ وہ اس خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے انتہا پسند تنظیموں پر دبائو ڈالے۔ امریکہ کو یہ بھی خدشہ ہے کہ دہشت گردی کے نتیجے میں پاکستان کے جوہری ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اور اس سے بھارت کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کیلئے طویل المدتی تعاون کے ساتھ ساتھ فوری تعاون بھی کرے اور اس کی دفاعی امداد بھی جاری رکھے۔
اگرچہ ان دونوں پارٹنر ممالک ، امریکہ اور پاکستان ، کے سامنے چیلنج بہت گمبھیر ہیں لیکن امکانات بہت دھندلے نہیں ہیں۔ ان دونوں کے درمیان تعاون کی فضا سازگار ہوسکتی ہے۔ اس سے دونوں کو فائدہ ہو گا لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ قومی سلامتی کے التباسات سے جان چھڑائی جائے اور دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹ سیاسی قیادت کو کام کرنے دے۔ یہ بات بھی قابل ِ ذکر ہے کہ پرانے کھلاڑی، جیسا کہ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف، اشفاق پرویز کیانی، شجاع پاشا جبکہ امریکہ میں جارج بش، جنرل ڈیوڈ پیٹریاس، ایڈمرل مائیک مولن اپنے فرائض سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔ اس سے نئی قیادت کے پاس موقع ہے کہ وہ امکانات کا ازسرنو جائزہ لے۔ اس موقع پر پاکستان میں نواز شریف صاحب کا حکومت سنبھالنا سب سے اہم پیشرفت ہے کیونکہ وہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں مرتکز نہیں رہنے دینا چاہتے۔ ان کی عملی سوچ خطے میں امن کے لئے ایک نیک فال ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *