جب پولیس افسر فرض شناس ہوں

hafeeez bozdar’’آپ کو اس جوڑے کی ہر صورت جان بچانی ہے چاہے اس کے لئے آپ کو کچھ بھی کرنا پڑے‘‘۔یہ الفاظ DPO شیخوپورہ سہیل ظفر چٹھہ کے تھے جو اپنے ساتھی آفیسرز ایس پی جواد اور اے ایس پی زبیر سے بات کر رہے تھے۔ یہ واقعہ اس برس تین جولائی کو شیخوپورہ میں پیش آیا۔ اصل واقعہ کیا تھا ؟ کیسے ہوا؟ چٹھہ صاحب کے اپنے الفاظ میں پڑھیے جو انہوں نے سوشل میڈیا کی ایک ویب سائٹ پر لکھے۔
"آج شیخو پورہ پولیس نے بر وقت کارروائی کرکے ایک بہت بڑے انسانی سانحے کو رونما ہونے سے روک لیا۔ ایک غریب اور ان پڑھ مسیحی جوڑے نے ایک ایڈورٹائزنگ بورڈ کو جس پر مختلف کالجز اور یونیورسٹیز کے لوگو بنے ہوئے تھے سونے کی غرض سے بطور قالین بچھا لیا۔ علاقہ کے لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا کہ بورڈ پر قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں اور یہ بات پورے علاقے میں پھیل گئی۔مسیحی جوڑے کو گھسیٹ کر باہر لایا گیااور ان پر بد ترین تشدد کیا گیا۔جبکہ ان کو معلوم تک نہ تھا کہ انہیں کس بات کی سزا دی جارہی ہے۔ایس پی جواد اور اے ایس پی زبیر مجھ سے پہلے اس جگہ پر پہنچ چکے تھے۔میری ان کو واضح ہدایات تھیں کہ ہر صورت مسیحی جوڑے کو بچایا جائے چاہے اس کے لئے آپ کو ہجوم پر فائر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ان دونوں مسیحی افراد کومعجزانہ طور پر بچا لیا گیا اور فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔جس مولوی نے لوگوں کو اکسایا اور یہ تمام ڈرامہ تشکیل دیااُسے گرفتار کر لیا گیا۔ ہم پر اس مسیحی جوڑے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا لیکن ہم نے صاف انکار کر دیا۔بعد ازاں مسیحی جوڑے کو لاہور کی ایک کرسچین تنظیم کے حوالے کر دیا گیا"۔
چٹھہ صاحب کے اس اقدام نے نہ صرف مسیحی جوڑے کی جان بچائی بلکہ انسانی حقوق کے لیے مثال بھی قائم کی ۔ اس واقعے سے درج ذیل نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں۔
سب سے پہلے تو ہم عصر پولیس افسران اور مجموعی طور پر پولیس ڈیپارٹمنٹ کے فرض شناس لوگوں کے لئے بہت بڑا سبق ہے کہ اگر افسر جرأت مند ہو تو بڑا ہجوم بھی کسی کی جان نہیں لے سکتا۔
دوسرا سبق یہ کہ اگرمشتعل ہجوم ہی زندگی موت کے فیصلے کرنے لگے تو پھر پولیس سٹیشن اور عدالتیں کس کام کی، پھر ملزم سے مجرم تک کا تعین کیونکر ہو گا۔پھر تو بہت آسانی سے کوئی بھی بااثرشخص یا گروہ نام نہاد مولویوں کے ذریعہ تو ہین مذہب کے نام پر اپنے مخالفین کو ہجوم کے ہاتھوں مروادے۔
تیسرا سبق یہ کہ وہ تمام حضرات جو توہین مذہب کے قانون کو اپنے ذاتی مقصد کے لئے بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں ان کے لئے پیغام یہ ہے کہ وہ ایسا قدم اٹھانے سے پہلے کئی بار سوچیں۔
اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس اقدام سے اقلیتوں کو بہت حوصلہ ملے گا۔ یقیناًجس ضلع میں ایسے آفیسرز ہوں وہاں نہ صرف اقلیتیں خود کو محفوظ سمجھیں گی بلکہ اس بات کا احساس پیدا ہو گا کہ وہ بھی اس ملک میں برابر کے شہری ہیں۔
اور جب ہندوستان کی اخبار Times of India نے چٹھہ صاحب کی خبر چھاپی اور ان کی بہادری کوسراہا تو ایک طرح سے یہ ہمارے ملک کے کچھ پولیس افسران کو خراج تحسین تھا۔
کیا وہ وقت نہیں آگیا کہ ہم بادامی باغ کے سانحہ کو مندرجہ بالا تناظر میں دیکھیں جہاں سینکڑوں گھر توہین مذہب کے الزام کی آڑمیں جلا دئے گئے اور بعد میں معلوم ہوا اصل جھگڑا تو پراپرٹی کا تھا۔اسی طرح گوجرانوالہ میں ایک شخص کو جلا دیا گیا بعد میں معلوم ہوا وہ تو جماعت اسلامی کا بہت سینئر کارکن تھا اور مقامی امام مسجد کی اشتعال انگیزی کا شکار ہوا۔
ایک نہیں درجنوں ایسے واقعات ہیں جب مشتعل ہجوم نے بغیر تحقیق بغیر تصدیق انسانوں کو زندہ جلا دیا، گھروں کو نذر آتش کر دیا اور بعد میں معلوم ہوا اصل حقائق کچھ اور تھے۔ ایک لمحہ کے لئے سوچئے کیا اس طرح کے واقعات سے دوسرے ممالک کے لوگ ہمیں انتہا پسند سمجھنے میں حق بجانب نہیں؟کیاپھر بھی وہ ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کرنے آئیں گے؟
میرا ان تمام لوگوں سے ایک سوال ہے جن کی آنکھوں کے سامنے شمع بی بی ، اس کے پیٹ میں معصوم بچے اور اس کے شوہر کو بھٹے میں زندہ جلا دیا گیا۔ جو لوگ تماشائی بن کر دیکھتے رہے اور بعد میں معلوم ہوا اصل تنازعہ توہین مذہب کا نہیں بلکہ لین دین کا تھا۔ اس واقعہ کے چشم دید لوگ کیا خود کو اس انسانیت سوز قبیح فعل میں برابر کا شریک نہیں سمجھتے؟کیا ان میں سے کسی نے اس نام نہاد مولوی کے اعلان کی تصدیق کی؟ کیا کسی نے آگے بڑھ کر زندہ انسانوں کو جلانے والوں کو روکنے کی کوشش کی؟یہ کون سا اسلام ہے ؟
اگر ایمان داری سے دیکھا جائے تو توہین مذہب کے حوالے سے امام مسجد کی طرف سے اعلان ہی سارے اشتعال، ساری گڑبڑ کا محور ہوتا ہے۔ وہ اعلان دراصل اطلاع نہیں، اعلانِ جنگ ہوتا ہے ملزم کے خلاف، شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنے والوں کے خلاف اس چیز کا تعین تو پولیس کرے گی ، عدالت کرے گی کہ توہین مذہب کا کیس بنتا بھی ہے کہ نہیں۔اگر ملزم کے جرم کی نوعیت کا تعین بھی مشتعل ہجوم کرے، سزا اور جزا کا فیصلہ اور نفاذ بھی ہجوم کرے تو پھر ریاست کے ادارے ، پولیس سٹیشن، عدالتیں اور جج یہ سب تو بے معنی ٹھہرے۔
اگر مساجد کے امام اس طرح کی صورت حال میں اعلان کرنے کی بجائے پولیس کو مطلع کریں کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہوں تو پھر اس طرح کے معاملات کافیصلہ عدالتیں کریں گی نہ کہ ہجوم۔مساجد کے ایسے امام جو اس حوالے سے مثبت کردار ادا کریں ان کو نہ صرف پولیس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سراہا جائے بلکہ میڈیا بھی اس مثبت کردار کی تحسین کرے تاکہ اچھی مثالیں قائم ہوں۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو متعلقہ امام مسجد اس اعلان کی بدولت پولیس کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ کیونکہ اس اعلان کی بدولت جب ہجوم مشتعل ہو جاتا ہے تو پولیس ملزمان کو بچانے کے لئے اگر وہ ہجوم کی زد سے بچ گئے ہوں نہ صرف تحویل میں لے لیتی ہے بلکہ عوامی دباؤمیںآکر ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر دیتی ہے ۔ اورجب ایک بار توہین مذہب کی ایف آئی آر درج ہو جائے تو آپ بھلے سو فیصد بے گناہ ہوں آپ کی زندگی عذاب بن جائے گی۔ بقول ڈاکٹر مہدی حسن اس نوعیت کے اب تک دو ہزار سے زائد مقدمات درج ہو چکے ہیں جن میں اکثریت مسلمانوں کے ایک فرقے نے دوسرے کے خلاف کرائے۔ اگر اعلان نہ کیا جائے اور پولیس کو اطلاع کی جائے تو پولیس کے لئے بہت آسان ہو جائے اس بات کا تعین کرنا کہ ایف آئی آر الزام لگانے والے کے خلاف درج ہونی چاہئے یا کہ الزام لگنے والے کے خلاف ۔ اس طرح نہ صرف ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ امام مسجد صاحب مشتعل ہجوم کی وساطت سے پولیس پر اثر انداز بھی نہیں ہو سکیں گے۔
سہیل ظفر چٹھہ، ایس پی جواد، اے ایس پی زبیر اور وہ تمام پولیس اہلکار جنہوں اس آپریشن میں حصہ لیا اور مسیحی جوڑے کی جان بچائی ان کی فرض شناسی کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ایسے لوگ اپنے ڈیپارٹمنٹ یا اپنے خاندان کے لئے ہی نہیں بلکہ قوم کے لئے باعث فخر ہیں۔ان کا یہ عمل اس آیت کی عملی تفسیر ہے جس میں کہا گیا"جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی ".
اگر پولیس اما م مساجد سے ’اعلان نہیں اطلاع‘ کی پالیسی پر کسی طور عمل کرا لیتی ہے تو آپ یقین کیجئے یہ ایک نئے عہد کا آغاز ہوگا جس میں پھر کوئی کوٹ رادھاکشن جیسا ،کوئی گوجرہ جیسا ،بادامی باغ جیسا سانحہ نہیں ہوگا۔جس میں پھر کوئی شمع سرعام آگ میں نہیں جلے گی۔ جس میں پھر فیصلے ہجوم نہیں عدالتیں کریں گی اور آنے والی نسلیں ایسے پولیس آفیسرز کو ’انسانیت کے رکھوالے‘ کے نام سے یاد کریں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *