خواہشات کے ہزاروں رنگ

Anjum Niazنواز شریف صاحب آئے، اُنھوں نے دیکھا.... اور وہ واپس سدھارے جبکہ اس دوران امریکی میڈیا نے اُنہیں کوئی خاص توجہ نہ دی اور وہ حسبِ معمول امریکہ میں ہونے والے زندگی کے معمولات اور جرائم کی خبریں دیتا رہا۔ ان خبروں میں قتل کی لرزہ خیز وارداتیں بھی تھیں، جیسا کہ ایک چودہ سالہ طالب علم کے ہاتھوں اپنے چوبیس سالہ ریاضی کے استاد کا قتل۔ بہرحال سی این این نے نواز شریف اور اوباما کے درمیان ہونے والی ملاقات جس کو پاکستانی میڈیا عظیم کامیابی سے تعبیر کرتا ہے، کو مختصر انداز میں پیش کیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف ہیں۔
اب کچھ روز مرّہ کے معاملات کی بات کرلیتے ہیں جو امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس وقت امریکہ میں زندگی بے کیف اور بے رنگ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جہاں آپ دل لگ جائے، وہی آپ کا گھر ہے۔ اس لیے ہم رہتے تو امریکہ میں ہیں لیکن ہمارا دل یہاں سے ہزاروں میل دور اس سرزمین میں اٹکا ہوا ہے جہاں ہمارے رشتے داراور دوست ہیں اور جس سرزمین میں ہماری جڑیں ہیں۔ میں نے امریکہ کے مختلف علاقوں میں وقت کی تفاوت کو استعمال کرتے ہوئے کئی عیدیں منائی ہیں اور شدید برفانی علاقوں سے نکل کر تپتے ہوئے گرم علاقوں کا سفر کیا ہے۔
گزشتہ سال میں اسلامک سنٹر میں گئی تھی۔ یہ سنٹر نیوجرسی، جہاں میں رہتی ہوں، سے دو قصبے دور ہے۔ میں نے وہاں نماز ادا کی اور وہاں موجود مسکراتے ہوئے خوش باش لوگوں سے ملی اور پھر گھر چلی آئی۔ جس چیز نے مجھے بہت خوش کیا وہ عیدکی خوشگوار صبح تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ الہامی حسن کے دریچے وا ہورہے ہیں۔ اس دن میں عیدکے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرتی ہوں جبکہ ہم ایک دوسر ے کے ہاتھوں پر مہندی لگاتے تھے۔ محاورۃً مہندی ہاتھوں پر لگائی جاتی ہے لیکن عملاً کلائیوں اور کہنیوں، بلکہ اس سے آگے تک’’ do more‘‘ کی جھلک دیکھی جاسکتی تھی۔ بعض اوقات پاؤں میں بھی مہندی لگائی جاتی اور اس کاروائی کے نتیجے میں ’’مثاثرہ شخص ‘‘ کچھ عرصہ کے لیے چلنے پھرنے سے معذور ہوجاتا۔ چاند رات کو طارق روڈ پر ضرور جانا ہوتا تھا۔ اُس وقت میں بڑے مزے سے ڈرگ روڈ پر گاڑی چلاتی رہتی یہاں تک کہ کوئی پارکنگ کے لیے جگہ مل جاتی۔ اُس ٹریفک کے رش اور اس سے اٹھنے والے دھوئیں اور گرد و غبار سے طبیعت مکدر نہیں ہوتی تھی کیونکہ ہمارا یک نکاتی ’’ایجنڈہ ‘‘ کچھ ہلہ گلہ اور تفریح ہوتا تھا۔
جب یومِ عید طلوع ہوتا تو چہل پہل شروع ہوجاتی۔ہمسایوں کے گھروں سے بھی تیاریوں کا شور سنائی دینے لگتا۔ اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ کسی کو جلدی میں شیشہ نہیں مل رہاتو کسی کا گوٹے کناری والا ڈوپٹہ غائب ہوچکا ہے جبکہ کوئی کنگھی(جو غالباً اُس نے ہاتھ میں پکڑی ہوتی تھی) کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ ہر گھر میں تقریباً یہی کہانی دہرائی جاتی تھی۔ اُس وقت ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا ہوتا تھا ۔ لڑکے اور لڑکیاں خوشی سے سرشار ہوتے تھے... شادی شدہ آدمی تک خوش دکھائی دیتے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ عید پر ہمارے اندر کے اچھے انسان بیدار ہوگئے ہیں جوخوش ہونا جانتے ہیں۔ اس وقت دل اتنا خوش ہوتا تھا کہ لوگ اپنے باس تک کو فون کرکے مبارک باد دے لیا کرتے تھے ۔ صبح عیدکی عبادت یا قربانی سے فراغت پا کر گھومنے پھرنے چلے جاتے تھے۔
میں نے کچھ عیدیں اسلام آباد میں بھی گزاری ہیں ۔ یہاں گزاری ہوئی عیدیں بے کیف اور اکتادینے والی ہوتی تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عید پر تمام لوگ تعطیلات پر ہوتے ہیں، چناچہ دارلحکومت ایک آسیب زدہ جگہ لگتی تھی۔ وہاں ادھر اُدھر بے مقصد ڈرائیونگ کرنے کے سوا کرنے کو کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اس دوران جب کسی شناسا کا گھر دکھائی دیتا تو گاڑی روک کر بیل بجاتے۔ ہو ہمیں دیکھ کر حیران ہوتے لیکن عیدمبارک کہتے اور گھر آنے کا کہتے ، لیکن انداز ایسا ہوتا کہ جلدی سے روانہ ہو لیں۔
آج جب اُس وقت کو یاد کریں تو ایسا لگتا ہے کہ...’’تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ‘‘۔ آج ہر کوئی اتنا مصروف اور افراتفری کے عالم میں ہوتا ہے کہ ہم خوش ہونا بھول گئے ہیں۔ ہرکی ہرکامی(Haruki Murakami) اپنی کتاب ’’Kafka on the Shore‘‘ میں کہتا ہے کہ ہم ہر روز بہت سے چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ہم نت نئی چیزوں کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ ہم نیا اسٹائل اپناتے ہیں۔ نئی معلومات،نئی ٹیکنالوجی اور نئی اصلاحات ہمارے ذہن میں نیا تاثر چھوڑ جاتی ہیں۔ لیکن جتنا بھی وقت گزرجائے، جو بھی تبدیلیاں برپا ہوجائیں، کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن پر فراموشی کی گرد نہیں پڑتی ہے۔ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جن کے نقوش لافانیت کی طرح اٹل ہوتے ہیں۔‘‘تاہم آج یادوں کے سمند ر میں غوطہ لگانے کا رواج نہیں ہے۔ گونا ں گوں مصروفیات نے ہمیں ان روپہلے جزیروں سے محروم کردیا ہے۔
اس وقت امریکی ، بلکہ دنیا بھر کے باشندے ، کئی ایک مسائل کا شکار ہیں۔ گزشتہ چند ماہ سے ایک برطانوی مصنف کا لکھا ہوا ناول ’’Fifty Shades of Grey‘‘ نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر لسٹ میں رہا ہے۔ یہ ناول تین حصوں میں شائع ہوا ہے اور اس کی چالیس ملین کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں اور ابھی تک اس کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے۔ تیس سے زائد ممالک نے اس کی اشاعت کے حقوق خریدے ہیں۔ اسے دنیا میں تیزترین فروخت ہونے والے ناول کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ تیز فروخت نے اس نے ’’ہیری پورٹر‘‘ کو بھی مات دے دی ہے۔ اس کی مصنفہ Erika Leonard شادی شدہ عورت ہے اور اس کے دو جوان بیٹے ہیں۔ وہ E.L James کے قلمی نام سے لکھتی ہے۔ جب اُس نے یہ ناول لکھا تو اُس توقع تھی کہ پبلشر اُسے شائع کرنے سے انکار کردیں گے، چناچہ اُس نے اس کو نیٹ پر ڈال دیا۔ جلد ہی نامور پبلشرز کی توجہ اس کی طرف مبذول ہوگئی اور اس کی اشاعت کے حقوق حاصل کرنے کے تگ و دو شروع ہوگئی۔ مصنفہ کا کہنا ہے کہ وہ اس ناول کا کتابی صورت میں دیکھنا چاہتی تھی لیکن اُسے یہ توقع نہ تھی کہ اسے اتنی مقبولیت حاصل ہوگی۔ اس کا کہنا ہے کہ اُس نے اس ٹرالوجی کے ذریعے اپنی زندگی کو افسانوی انداز میں پیش کیا ہے۔ بہرحال امریکہ کے بہت سے کتب خانوں نے اسے فحش قرار دے کر اس پر پابندی لگادی ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسی کتاب خرید کر گھر نہیں لے جاسکتے۔ تاہم ایک دوست خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اس کتاب کو پڑھنا چاہتی ہے، تاہم اس کو کتابی صورت میں اپنے پاس رکھنے کے تصور سے وہ بھی کچھ شرمندہ ہے۔
ٹائمز میگزین نے E.L James کو گزشتہ سال کے سو انتہا ئی بااثر افراد کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب دنیا یادداشت سے زیادہ افسانوی اور رومانوی تخیلات کو پسند کرتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں ھاورڈ میں پڑھتی تو میرے ٹیچر نے کہا تھا ...’’اگر تم اپنی یادداشتیں لکھنا چاہتے تو اس میں ہرگز افسانوی رنگ شامل نہ کرنا۔ اس میں صداقت کے سوا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ ‘‘تاہم مکمل صداقت کو سائنس فکشن میں بھی نہیں ہوتی تو پھر انسان اپنی یاداشت کو افسانوی رنگ دینے سے کیسے بچ سکتا ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *