مر کے بھی چین نہ پایا تو کہاں جائیں گے

Intizarجسے عرب اسپرنگ کہہ کر اس کا خیر مقدم کیا جا رہا تھا اس کی بہار سب سے بڑھ چڑھ کر مصر میں آئی تھی۔ اور وہاں کتنی جلدی انقلاب کی فصل پک گئی۔ حسنی مبارک کا کتنی جلدی تختہ الٹ گیا۔ کتنی جلدی الیکشن ہوئے اور جمہوری حکومت قائم ہو گئی۔ مگر پھر ہوا کیا  ع

کہ عشق آساں نمود اول ولے افتاد مشکلہا

اور مشکل سی مشکل۔ مصری ایسے پھنسے ہیں کہ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔ لیکن وہاں کے ایک ناشر نے اس صورت حال سے نکلنے کا رستہ نکال لیا ہے۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ میں انقلاب کو بھر پایا۔ بہت ہو گئی۔ سرزمین مصر کو سلام۔ میں یہاں سے نکلنے لگا ہوں۔

اچھا فیصلہ ہے۔ مگر اس پر ہمیں ایک شعر یاد آیا۔ وہ سن لیجیے؎

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کہاں جائیں گے

اچھا یہ تو سن لیجیے کہ یہ ناشر ہے کون۔ یہ قاہرہ کا ایک روشن خیال ناشر محمد ہاشم ہے۔ اسے کتنے ادیبوں نے فون کیے اور لعنت ملامت کی کہ تم بہت بزدل ہو۔ میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہو مگر محمد ہاشم نے ضد پکڑی ہے کہ اس بھمبھل بھوسے میں پھنس کر رہ جائوں‘ یہ نہیں ہو سکتا۔ معاف کیجیے یہ ایک پنجابی کا لفظ ہے جو ہم نے اپنے دوستوں سے سنا اور گرہ میں باندھ لیا کیونکہ جس صورت حال کا یہاں ذکر ہے اور جس کا ہمیں بھی اچھا خاصا تجربہ ہے اس کے بیان کے لیے اس سے بہتر لفظ کم از کم اردو میں تو نہیں ہے۔ ہاں تو محمد ہاشم کا استدلال مختصراً یوں سمجھئے کہ دو ملائوں میں مرغی حرام کا مضمون ہے۔ ایک طرف جرنیل کرنیل ہیں‘ دوسری طرف مذہب کے ٹھیکیدار ہیں۔ میں مر جائوں گا۔ مگر ان دونوں میں سے کسی ہاتھ پہ بیعت نہیں کروں گا۔ ان دو سے ہٹ کر تیسرا مجھے کوئی نظر نہیں آ رہا۔ تو میں اس بھمبھل بھوسے میں کب تک پھنسا رہوں۔ سو یارو میں چلا۔

مگر برادر تم جائو گے کہاں۔ اسلامی دنیا کا نقشہ تو یہ ہے کہ ہر طرف بم پھٹ رہے ہیں۔ خود کش حملے ہو رہے ہیں۔ لیجیے پھر ہمیں اس پر دو ڈھائی شعر یاد آ گئے۔ ایک وقت میں دلی پر بھی کچھ اسی قسم کی افتاد پڑی تھی۔ کوئی تن جلا سوداؔ سے مخاطب ہو کر پوچھتا ہے۔ فرمائیے حضرت ع

آرام سے کٹنے کی طرح کوئی بھی یاں ہے

سوداؔ نے جو کچھ ہو رہا تھا اس وقت اسے بیان کیا اور آخر میں نتیجہ یہ نکالا؎

آرام سے کٹنے کا سنا تو نے کچھ احوال

جمعیت خاطر کوئی صورت ہو کہاں ہے

دنیا میں تو آسودگی رکھتی ہے فقط نام

عقبیٰ میں یہ کہتا تھا کوئی اس کا نشاں ہے

سو اس پہ تیقن کسی کے دل کو نہیں ہے

یہ بات بھی گویندہ ہی کا محض گماں ہے

یاں فکر معیشت ہے تو واں دغدغۂ حشر

آسودگی حرفسیت نہ یاں ہے نہ وہاں ہے

اور دلی کا یہ حال کن کے ہاتھوں ہوا۔ پہلے نادر شاہ نے یہاں آ کر سروں کی فصل کاٹی اور شہر کو خون میں نہلایا اور ساری دولت سمیٹ کر چلتا بنا۔ پھر احمد شاہ ابدالی نے ادھر کا رخ کیا۔ اس سے دلی کے مسلمان خیر کی توقع کر رہے تھے۔ مگر اس نے بھی نادر شاہ والا ہی کام کیا۔ تب میرؔ نے لکھا؎

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

دل ہمارا گویا دلی شہر ہے

ایسے میں دلی خالی ہونے لگی۔ جس کے جدھر سینگ سمائے ادھر نکل گیا۔ کہتے ہیں کہ شاعروں میں ایک خواجہ میر دردؔ تھے مرد درویش کہ اپنے ٹھئے پر جما بیٹھا رہا۔ باقی ہر شاعر لکھنئو کی طرف دوڑا چلا جا رہا تھا۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ قاہرہ سے نکل کر کہاں جائیں گے۔ دمشق یا بغداد یا کابل یا کراچی۔ دنیائے اسلام کے یہ جانے مانے شہر ہیں اور ان کا نقشہ ہمارے سامنے ہے۔ لیجیے ہمیں اس پر جان ایلیا کی ایک غزل یاد آ گئی۔ جانے کس عالم میں اس نے یہ غزل کہی تھی؎

اک جنوں تھا کہ آباد ہو شہر جاں

اور آباد جب شہر جاں ہو گیا

ہیں یہ سرگوشیاں در بہ در‘ کوبہ کو‘

تم کہاں جائو گے ہم کہاں جائیں گے

ایسے عالم میں اس عزیز کو میرؔ کا دلی سے نکلنا یاد آ گیا۔ تب اس نے ٹکڑا لگایا ع

میرؔ دلی سے نکلے گئے لکھنو‘

تم کہاں جائوگے ہم کہاں جائیں گے

مگر محمد ہاشم نے اپنا لکھنئو ڈھونڈ نکالا ہے۔ دمشق کو‘ بغداد کو دور سے سلام۔ میں امریکا چلا جائوں گا۔ وہاں سے تو مجھے لٹریری ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔

امریکا۔ ارے وہ تو ہمارا بھی مرجع ہے۔ اس پر مت جائیے کہ ہم پاکستانی لوگ اس سے کتنی نفرت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اٹھتے بیٹھتے اس پر تھو تھو کرتے ہیں۔ مگر اسی کافر پہ ہم فریفتہ بھی ہیں۔ جسے امریکا کا ویزا مل گیا اسے دونوں جہان کی دولت مل گئی۔ امریکا سے ہماری بیزاری اور امریکا جانے کے لیے ہماری بیقراری‘ دونوں دیدنی ہیں۔ محبت کے کھیل میں یہی ہوا کرتا ہے۔ سو قاہرہ سے بھاگ نکلنے کی جو سوچے گا وہ بھی امریکا ہی کا رخ کرے گا اور جو پاکستان سے نکلنے کی سوچے گا وہ بھی امریکا ہی جانے کے لیے تڑپے اور بھڑکے گا۔

محمد ہاشم کا مشاہدہ کیا بتاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو فوجی جرنیل عبدالفتح السیسی کو دیوتا بنانے پہ تلے ہیں۔ پھر وہ لوگ ہیں جو مورسی کو بانس پہ چڑھا رہے ہیں اور ایک وہ ہیں جو کبھی حسنی مبارک کا دم بھرتے تھے۔ ان لوگوں کے بیچ میں کہاں جائوں۔ برادر اور کہاں جانا ہے۔ امریکا ہمارا ایل ڈریڈو ہے۔ ہم ہوئے‘ تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے سب کا خواب امریکا ہے۔

ہاں یاد آیا۔ فرنگی راج کے زمانے میں ہمارا خواب لندن تھا۔ ہم اسے ولایت کہتے تھے۔ بس کوئی کوئی قسمت کا دھنی ولایت کی سیر کر پاتا تھا۔ جب واپس آتا تھا تو اپنے نام کے ساتھ لکھتا تھا لندن ریٹرنڈ۔ یعنی ولایت پلٹ۔ بس اسے سرخاب کا پر لگ جاتا تھا۔

کلکتہ کا یعنی لندن کا جو ذکر کیا تونے ہم نشیں

اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

کوہ قاف کی پریاں کوہ قاف سے نکل کر اس عروس البلاد میں آن بسی تھیں۔ اب واشنگٹن اور نیو یارک میں اپنی چھب تو اب یار امریکا کا خواب دیکھتے ہیں۔ وقت وقت کی بات ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *