ملکہ برطانیہ پاکستان میں قالین کی قیمت پر بھاؤ تاؤ کرتے ہوئے

179783849

یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ 1997ء میں پاکستان کی آزادی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر برطانوی ملکہ الزبتھ دوم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ لیکن یہ بات کسی کو نہیں معلوم کہ اس دورے کے دوران ملکہ نے ایک قالین کی خریداری کے لیے بھاؤ تاؤ بھی کیا تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پنجاب کے سابق گورنر شاہد حامد نے میزبان کو بتایا کہ اس دورے کے دوران ملکہ نے قالین خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ شاہد حامد نے ملک کے دو سب سے بڑے قالین سازوں کو بلایا اور ان سے پندرہ بیس بہترین قالین منگوا کر انتخاب کے لیے ملکہ کو پیش کیے۔ ’’وہ قالینوں کو دیکھ رہی تھیں، یہ یہ بڑی حیران کن بات تھی کہ انہوں نے اپنے جوتے اتارے اور قالینوں پر ننگے پاؤں چلنے لگیں۔ میں بڑا حیران ہوا تو ملکہ نے وضاحت کی کہ قالینوں کی کوالٹی جانچنے کے لیے یہی بہترین طریقہ ہے۔ اس کے بعد انہیں ایک قالین پسند آ گیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس کی قیمت پوچھی جائے۔ میں نے اس کی قیمت معلوم کر کے برطانوی کرنسی میں ملکہ کو بتائی۔قیمت سن کر ملکہ نے میری جانب دیکھا اور کہنے لگیں ’گورنر، کیا ہم اس قیمت پر بھاؤ تاؤ کر سکتے ہیں؟‘‘‘ شاہد حامد کہتے ہیں کہ مجھے آج بھی اپنا جواب یاد ہے۔ میں نے ملکہ سے کہا ’’مادام، میں آپ کو شاہی رعایت لے دوں گا۔‘‘ اس موقع پر سابق گورنر کی اہلیہ ثروت حامد نے بھی اس دورے کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ملکہ جان محفل بننے کی حیران کن صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے میرے خاندان،میری زندگی ، میرے ارد گرد کے ماحول اور ہماری سیاست تک میں دل چسپی دِکھائی، اگرچہ ہم میاں بیوی سیاست دان نہیں ہیں۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *