آج 11 ستمبر ہے

wm-blogآج 11 ستمبر ہے، قائد اعظم کا یوم وفات۔ قوم کے بانی نے سرسٹھ برس پہلے آج کے دن وفات پائی تھی۔ اہل پاکستان پر آج بھی سوگ کا عالم طاری ہے ۔ اخبارات نے خصوصی ایڈیشن شائع نہیں کئے۔ کیوں؟ اس لئے کہ آج سوگ کا دن ہے ۔ خاموشی مناسب ہے۔بانی پاکستان کی وفات کا دن اس قابل نہیں کہ قوم کے نونہالوںکو بمبئی کے اس بیرسٹر کی یاد دلائی جائے جس نے انگریز اور ہندو سے پاکستان حاصل کر لیا لیکن اسے جاگیرداروں ، ملاﺅں اور ان اولوالعزم ہستیوں سے نہ بچا سکا جو بیٹھے بٹھائے فیلڈ مارشل ہو جاتی ہیں۔
اے پی این ایس نے ایک خصوصی اجلاس میں قائداعظم کے یوم وفات پر اخبارات میں تعطیل نہ کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے کیونکہ منتخب اخباری نمائندوں کے مطابق قائداعظم نے اسلام کے نام پر پاکستان حاصل کیا تھا ۔ اخبارات میں عیدین اور دیگر مذہبی تہواروں کے موقع پر تعطیلات برقرار ہیں ۔ امت مسلمہ سے یکجہتی اور نظریہ پاکستان کی سربلندی کے لیے یہ کافی ہیں۔
ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی، بحریہ ٹاﺅن اور فضائیہ ٹاﺅن کے پورے پورے صفحے کے اشتہارات آج شائع نہیں ہوئے۔ کیوں کہ قائد اعظم سے عقیدت کا اشتہار دینا مناسب نہیں۔ نیز یہ کہ جائیدادوں کی خریدوفروخت کا کام کرنے والے محسنان قوم نے ایک مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ قائداعظم کے لیے یہی اعزاز کافی ہے کہ ان کے مزار کو چائنا کٹنگ سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے ۔
quiadپرائیویٹ ٹیلی ویژن چینلز پر گھنٹوں طویل پروگرام نشر نہیں کئے گئے۔ ترانوں کی گونج سنائی نہیں دے رہی۔پاکستان براڈ کاسٹنگ اتھارٹی نے ایک خصوصی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ کیبل آپریٹروں نے 11ستمبر کے حوالے سے کوئی خصوصی ہدایات جاری نہیں کیں لہٰذا قائداعظم کے بارے میں نشریات کی عدم موجودگی سے اشتہارات پر منفی اثرات کا کوئی اندیشہ نہیں ۔
علمائے کرام نے بیانات جاری نہیں کئے ۔ حتیٰ کہ دفاع پاکستان کونسل اور علماءاتحاد کونسل نے بھی قائداعظم کے یوم وفات پر کسی تقریب کا انعقاد مناسب نہیں سمجھا کیونکہ آخری اطلاعات آنے تک قائداعظم کی مسلکی شناخت پر علماءمیں اختلاف برقرار تھا۔
پاکستان بنانے والوں کی اولاد کے قائد الطاف حسین نے 11 ستمبر پر خصوصی خطاب کی ضرورت محسوس نہیں کی کیونکہ ایم کیو ایم کے کارکن اس فوجی کارروائی کے استبداد کا شکار ہیں جس کا مطالبہ الطاف حسین نے کئی برس تک اپنی دھواں دھار تقریروں میں کیا تھا۔
جمہور کی حکمرانی کی دعویدار پیپلز پارٹی نے بھی قائداعظم کی وفات کا دن منانا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ سیاسی طور پر پیپلز پارٹی 5جنوری  4اپریل ، 21 جون ، 30 نومبر اور 27 دسمبر منانے میں یقین رکھتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لندن سے عمران ٹائیگرز کو پیغام بھیجا ہے کہ قائداعظم کا یوم وفات، لودھراں ضمنی انتخاب کے نتائج، این اے 122 میں کامیابی، چوتھی وکٹ اور نیا پاکستان بننے تک ملتوی قرار دیا جاتا ہے۔
قائداعظم کی اپنی جماعت مسلم لیگ نے قائداعظم کی وفات کے روز سیاسی تقریبات منعقد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ قائداعظم کے مسلم لیگی سرفروشوں کی آدھی تعداد ’کراچی جیسا آپریشن‘ روکنے کی کوشش میں مصروف‘ ہے اور باقی آدھے کارکن لاہور میں کراچی جیسے آپریشن‘ کا خیر مقدم کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ قائداعظم کی وفات کا دن مسلم لیگ کی مجلس قائمہ کی صوابدید پر آئندہ کسی برس منایا جائے گا۔
ڈاکٹر صفدر محمود کی علمی بصیرت اور سیاسی دیانت داری اور روحانی مرتبے کو سلام ہے کہ انہوں نے قائداعظم کے یوم وفات پر ’قائداعظم اور اردو زبان ‘کے عنوان سے کالم لکھا ہے ۔ اقتباس ملاحظہ کریں۔
” قدرت کو لالے کی حنا بندی مقصود ہوتی ہے تو قدرت خود اس کا سازوسامان کرتی ہے۔ قیام پاکستان امر الٰہی اور تحفہ ربی ہے۔ امرالٰہی کی تکمیل کے لئے قائداعظم محمد علی جناح قدرت کا انتخاب ٹھہرے کہ ان کے علاوہ پورے ہندوستان میں کوئی ایسا مسلمان لیڈر موجود نہیں تھا جو قدرت کے اس عظیم منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتا۔ انہیں حیات مستعار بھی بس اتنی ہی ملی کہ امر الٰہی کی تکمیل کی اور قیام پاکستان کے تقریباً تیرہ ماہ بعد اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ مذہب سے بیزار یا ماورا حضرات کو تاریخ کے کارناموں میں قدرت کا ہاتھ نظر نہیں آتا کیونکہ وہ ہر واقعے کو مادیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ ہم جیسے طالب علموں کو نظریہ پاکستان، تصور پاکستان اور قیام پاکستان کی جڑیں تاریخ میں صدیوں تک پھیلی نظر آتی ہیں۔“
قائداعظم کی سیاسی جدوجہد اور قیام پاکستان کی مذہبی تشریح اور الوہی مقام کے بارے میں تو ایک ہی دلیل کافی ہے کہ 1947 ءمیں مفتی منیب بھی موجود نہیں تھے اور مولانا پوپلزئی بھی عدم سے کتم وجود میں نہیں آئے تھے ۔ اس کے باوجود پاکستان 27رمضان المبارک کو قائم ہوا اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس برس 14 اگست کو بھی رمضان المبارک کی 27 تاریخ تھی اور 15 اگست کو بھی رمضان المبارک کی 27 تاریخ تھی۔لاہور میں بھی پاکستان اسی دن قائم ہوا جس دن پشاور میں قیام پاکستان کا اعلان کیا گیا۔ کراچی اور دوسری جگہوں پر مقامی وقت کے مطابق ریڈیو اور ٹیلی ویژن اسٹیشن بعد میں قائم ہوئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *