نیٹو سپلائی سے انفرا اسٹرکچر کے نقصان کی وصولی کا فیصلہ

natoپاکستان نے امریکی اور نیٹو افواج کی افغانستان میں آمد اور انخلاء تک ملکی شاہراہوں اور انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کی امریکا اور نیٹو ممالک سے وصولی کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت خزانہ، داخلہ اور مواصلات کے اعلیٰ حکام اور غیر ملکی ماہرین پر مشتمل اعلیٰ سطح کی کمیٹی آئندہ سال کے آخر تک ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا کر حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی۔ ذمے دار حکومتی ذرائع کے مطابق افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی آمد کے بعد سے اب تک پاکستانی شاہراہوں اور انفرااسٹرکچر کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ آئندہ سال امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کی وجہ سے افغانستان میں موجود تمام فوجی اور دیگر سازوسامان لے کر5 لاکھ سے زائدکنٹینرز پاکستان بھرکے اندر سے ہوتے ہوئے کراچی بندرگاہ تک پہنچیں گے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے حالیہ دورہ امریکا کے دوران بھی اعلیٰ امریکی حکام سے یہ معاملہ اٹھا کر ان پر واضح کر دیا گیا تھا کہ پاکستان کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا ازالہ کرنا ہو گا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے اور ایبٹ آپریشن کے بعد جب پاکستان نے نیٹو سپلائی بند کر دی تھی تو امریکا نے وسط ایشیائی ممالک کا روٹ استعمال کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس پر پاکستان کے مقابلے میں کئی گناہ زیادہ اخراجات ہونے کی وجہ سے امریکا کو باامر مجبوری پاکستان سے ہی دوبارہ معاملات طے کرنا پڑے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *