بول ٹی وی کے کارکنوں کی داستان ....

ghulam abbas shah18مئی کو ساڑھے تین ماہ سے زائد ہوچکے مگر اس دوران رمضان آیا، عید آئی، آزادی کا جشن اور ستمبر کا یوم دفاع مگر مشکلات کم نہ ہوئیں.... جبر کی رات ہے کہ کٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی.... بہت سے مواقع آئے جب ’انشا  جی اٹھو اب کوچ کرو‘ دل میں اترتا محسوس ہوامگر ناصر بیگ چغتائی کی مشکل حالات میں چہرے کی مسکراہٹ اور سینئرز کی ثابت قدمی نے ہمیں بھی ڈٹ جانے کی تلقین کی۔
نئے کپڑوں کے بغیر عید، کسی خاص اہتمام کے بغیر سحر و افطار، گھر کو جھنڈوں سے سجانے کے بچوں کے ارمان اور یوم دفاع پر فوج کا یونیفارم اگلے برس خرید کر دینے کے دلاسے اور اب عید قرباں پر بچوں کی خواہشات کی قربانی.... یہ سب چار مہینے کی مختصر کہانی ہے ،کئی راتیں بھوکے سونا۔ مالک مکان کی طرف سے گھر خالی کرنے کا نوٹس اور بجلی کے بل کی عدم ادائیگی پر کنکشن کی معطلی۔یہ تو اب ’بول‘ سے وابستہ کارکن صحافیوں کے لئے نارمل سی بات ہے۔ گذشتہ ایک سال سے بے روزگاری کی زندگی بسر کرنے والا آفتاب (عالم) دہشت گردوں کے ہاتھوں غروب ہوگیا ۔ چوبیس گھنٹوں میں دو صحافتی کارکن شہید ہوئے۔جناب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے رنج و غم کا اظہار کیا۔ صحافیوں سے متعلق حوصلہ افزا کلمات ادا کئے مگر محترم وزیراعظم صاحب ایک نظر ادھر بھی ہوجائے ۔ جی ہاں، ان ڈھائی ہزار صحافیوں کے خاندانوں پر جن کے چولہے 18مئی کو نیویارک ٹائمز کی اس خبر کے بعد سے بند ہیں، وہی ’ایگزیکٹ اسکینڈ ل‘جس پر 24مئی کو آ پ ہی کے وزیر داخلہ جناب چودھری نثار علی خان نے دوران پریس کانفرنس کہا تھا کہ سات روز میں تحقیقات مکمل کر لیں جائیں گی۔ جناب وزیراعظم، آج چار مہینے ہونے کو ہیں نہ تو وفاقی تحقیقاتی ادارہ اپنی تحقیقات کے بعد ابھی تک مکمل چالان عدالت میں جمع کروا سکا ہے اور نہ ہی عدالت میں تاحال الزامات ثابت ہو سکے ہیں ۔
فحش ویب سائٹس اور منی لانڈرنگ کا الزام عدالت میں پیش ہی نہیں کیا گیا۔ وہ افسران خود عدالت میں یہ جواب دیتے دیکھائی دئیے کہ ہمیں ’ایگزیکٹ‘ کے مین سرور سے فحش ویب سائٹس کا کوئی ڈیٹا نہیں ملا جن کے نام سے ملک بھر کے میڈیا میں خبریں چلتی رہیں۔ جعلی ڈگری کے ایک یونٹ کے بارے میں تحقیقات کو جواز بنا کر ایگزیکٹ کے باقی 9یونٹس کو بھی بند کردیا گیا جن کا اس کاروبار سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بغیر کسی عدالتی حکم کے تمام اکاونٹس منجمد کئے گئے۔ عدالتی حکم کے باوجود ’ایگزیکٹ‘ کے دیگر 9 یونٹس کو تاحال بحال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی نہ ہی ایف آئی اے کا قبضہ ختم کیا گیا۔ ایگزیکٹ کو بہانہ بناتے ہوئے بول ٹی وی کو نشانہ بنایا گیا۔ کارکن صحافیوں کا معاشی قتل شروع ہوا۔
میاں صاحب .... ذرا اپنے وزیرداخلہ کو یہ حکم تو دیں کہ ایگزیکٹ کی وہ تحقیقات جو سات روز میں مکمل ہونے والی تھیں، انہیں عوام کے سامنے تو لایا جائے ۔
اگر ہم قصور وار ہیں تو سزا دی جائے ورنہ ’بول‘ کے ڈھائی ہزار اور ایگزیکٹ کے سات ہزار ملازمین کا معاشی قتل بند کیا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سفید پوشی کابھرم ٹوٹ جائے اور پھر آپ کو ایک بار پھر ایک تعزیتی بیان جاری کرنا پڑے ۔ مگر یقین مانیے، اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *