ہماری تاریخ اور جنگ ستمبر

sibte Hasanشاید ہی کسی قوم یا خطے کی تاریخ اتنی متنوع اور اُلجھی ہوئی ہو گی جتنی ہمارے برصغیر کی تاریخ ہے۔ یہ تاریخ کبھی عام آدمی کے نقطہ نظریا معروضی حالات کے مطابق نہیں لکھی گئی۔عام طور پر یہ حکمرانوں کے نقطہ نظر سے مرتب کی گئی ہے یا پھر مذہبی اور گروہی زاویے سے رقم ہوئی ہے۔ جب ہم حکمرانوں کے نقطہ نظروالی تاریخ پڑ ھتے ہیں تو نام نہاد زنجیر عدل دکھتی ہے۔ دودھ شہد کی نہروں کے کنارے عوام مزے سے زندگی گزارتے دکھتے ہیں۔ اور جب مذہبی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں تو بیرونی حملہ آور ہمارے ہیرو دکھائے جاتے ہیں۔ ان کی شان میں قصیدے اوربے بنیاد کارناموں پر مبالغہ آرائی کے پہاڑ کھڑے نظر آتے ہیں۔ مثلاً سومنات کے مندر پر ایسی ایسی داستان طرازی کی گی ہے کہ ہمارا بچہ بچہ اس سے واقف ہے۔ لطف یہ ہے کہ یہ سرے سے ایک بے بنیاد واقعہ ہے۔ پورے برصغیر میں سومنات کا وہ عالی شان مندر یا اس کے آثار ہمیں کہیں نہیں دکھتے جس کی بنیادوں پر ہندو اور مسلم نام نہاد مورخین نے اپنی اپنی داستانیں تراشیں۔ایک بیرونی حملہ آور محمود غزنوی کو مسلمانوں کا قومی ہیرو منوانے کے لیے اسے سومنات کا عظیم بت شکن قرار دیا گیا۔اور لکھا گیا کہ اس نے ہندوستان میں اسلام کا پرچم لہرانے کے لیے سترہ مسلسل حملے کیے۔ حالانکہ اس عظیم ’ مسلم مجاہد بادشاہ ‘نے مکے اور مدینے کا کوئی ایک بھی سفر حج اور عمرے کی خاطر اختیار نہیں کیا۔ ہمارے مورخین لکھتے ہیں وہ سومنات کے مندر سے سینکڑوں اونٹ سونے چاندی اور زروجواہر سے لدے ہوے لے کر گیا تھا۔ راقم ایک دیہاتی کسان ہے۔ اونٹ گھوڑے اور جانور پالنا جن کا پیشہ ہوتا ہے۔ایک مرے سے مرا اونٹ بھی دس من وزن آسانی سے اٹھا سکتا ہے۔چلیں اس کوبھی چھوڑیں وہ پانچ من وزن اُٹھا کر تو طویل سے طویل سفر بھی آسانی سے طے کر سکتا ہے۔ اب پانچ من فی اونٹ کے حساب سے سو اونٹوں کا وزن پانچ سو من بنتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت پورے بر صغیر کے مجموعی خزانوں میں پانچ سو من سونا اور زرو جواہر موجود تھے؟مسلمان اسے اپنے ہیرو کا کارنامہ سمجھتے رہے اور ہندو ہندووں کو بتاتے رہے دیکھو اس وقت ہندوستان کتنا خوشحال تھا جسے بیرونی ڈاکو لوٹتے نوچتے رہے۔ اور سچ ان داستانوں تلے دبا ہوا کراہتا رہا۔لیکن ہم آج بھی کہاں بدلے ہیں؟ ہمارے طور طریقے آج بھی وہی ہیں جو صدیوں پہلے تھے۔
بھارت میں جب سے نریندر مودی وزیر اعظم بنا ہے۔مذہبی انتہا پسندی کو پھر سے عروج ملا ہے۔ مودی صاحب چائے کے ٹھیلے سے اٹھ کر ریاست کے سب سے اونچے منصب پر تو فائز ہوگئے۔ لیکن ان کے اندر جو مذہبی تعصب بھرا ہوا ہے اس کی سطح سے وہ ایک انچ بھی اوپر نہیں اٹھ سکے۔ صوبے کی وزارت اعلیٰ سے مرکز کی وزارت عظمیٰ تک کا سفر تو ہمیں یہی بتاتا ہے ۔ امسال انہوں نے ستمبر 65کی جنگ کی یاد منانے کے لیے غریب عوام کے ٹیکس سے ساڑھے تین سوملین روپے خرچ کر ڈالے۔ اب ہم کہاں پیچھے رہ سکتے تھے۔ ہم نے بھی دل کھول کر خرچ کیا۔جنگ ستمبر کے ہیرو بلا شبہ ہمارے ہیرو ہیں۔ لیکن ان ہیروزکو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بھی ہم اپنے مذہبی تعصب سے باز نہیں آئے۔جنرل اختر ملک جیسے عظیم فوجی جس کی صلاحیتوں سے امریکہ اور بھارت دونوں خوف زدہ تھے۔ اور ایر فورس کے عظیم سپوت سیسل چوہدری ۔ اگلی صف کے ان عظیم بہادروں کو پچھلی صفوں میں اس لیے دھکیلا گیا کیونکہ ان کا مذہبی عقیدہ ہمارے حسب منشا نہیں تھا۔ستمبر1965کی جنگ کے وقت ملک کا جمہوری مستقبل اندھیروں میں دھکیلنے والے جنرل ایوب کی حکومت تھی۔ اس وقت بھی کارگل طرز کا ایک منصوبہ بنایا گیا تھا۔جس کے مطابق پہلے مرحلے میں تربیت یافتہ جنگجو مجاہدین کو مقبوضہ کشمیر میں داخل کیا گیا۔ یہ فرض کر کے کہ وہاں کے مسلمان ان مجاہدین کے ساتھ شامل ہوکر ہندوستان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے۔اور جب ہندوستانی افواج ان کے ہاتھوں زخم خوردہ ہوں گی تو دوسرے مرحلے میں پاکستانی افواج براہ راست حملہ کر کے ہندوستانی افواج کو جو کہ دونوں طرف سے گھیرے میں آچکی ہوں گی، پیچھے دھکیل کر کشمیر کو آزاد کروا لیں گی۔ لیکن ہوا اس کے اُلٹ ۔ جیسا کہ ہونا ہی تھا۔ وہاں کے مسلمانوں نے مجاہدین کا کوئی ساتھ نہ دیا اُلٹا کچھ لوگوں نے ان کی مخبری کر دی۔ جس پر بھارتی فورسز نے انہیں گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان حالات بہت خراب ہو گئے۔ ہندوستان پاکستان پر مداخلت کا الزام عائد کرتا رہا اور پاکستان اس سے انکار کرتا رہا۔
اب حالات کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس منصوبے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا جاتا ۔لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوا نہیں۔ پاکستانی افواج نے دوسرے مرحلے کے مطابق تیزی سے دریاے توی کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ جس پر ہندوستان نے مزاحمت کی اور یہ پیش قدمی رُک گئی۔اب بھارتی جان گئے تھے کہ مزید وقت ضائع کیا گیا تو پاکستان جموں سری نگر کے راستوں پر قابض ہوکر ہندوستانی افواج کو گھیرے میں لے لے گا۔ چنانچہ انہوں نے سیالکوٹ اور لاہور کے محازوں پر بھر پور حملہ کر دیا۔ جس سے گھمسان کی لڑائی چھڑ گئی۔ جس میں بلا شبہ پاکستانی افواج نے جرات و بہادری کی وہ لازوال تاریخ رقم کی جو دنیا بھر کی جنگوں کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔اس جنگ میں براہ راست شریک سابق ایر مارشل اصغر خان اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں ۔ جو ریکارڈ پر ہے۔ اور خاصا دل شکن ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کی تخلیق اور بعد کی ایسی جنگوں میں لاکھوں انسانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔کس مقصد کی خاطر؟ کیا وہ مقصد ہمارے پیش نظر ہے؟ کیا ہم اس عظیم مقصد کے مطابق ایک مضبوط، محفوظ، پرامن اور خوشحال پاکستان قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ اور کیا وہ مقاصد جنگی جنون پیدا کر کے حاصل کیے جا سکتے ہیں؟ یا اس کے لیے کوئی اورمعقول راستہ اختیار کرنا ہو گا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *