پاکستانی بس ڈرائیور کا بیٹا اور لندن کا میئر

majid siddiquiآج کی خبر ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک برطانوی شہری صادق خان کو، جو کہ برطانیہ میں ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں، لیبر پارٹی نے میئر آف لندن کے لئے اپنا امیدوارمنتخب کیا ہے۔ صادق خان تین بار مسلسل ایم پی منتخب ہوچکے ہیں۔ان کے والد انیس سو ساٹھ کی دہائی میں پاکستان سے ہجرت کرکے برطانیہ چلے گئے تھے، جہاں انہوں نے بس ڈرائیور کی ملازمت اختیار کرلی تھی۔صادق خان نے اپنی پارٹی کے تین سیاہ فام امیدواروں کو ہراکر میئر آف لندن کی پوزیشن کے لئے لیبر پارٹی کے امیدوار بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ امکان یہ ہے کہ ان کے سامنے عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان کے بھائی زیک گولڈ سمتھ مقابلہ کریں گے۔ اگر صادق خان انتخاب جیت گئے تو وہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے پہلے میئر آف لندن ہوں گے۔ صادق خان کو اپنے والد بزرگوار کی قدم بوسی کرنی چاہئے، جس نے عقل استعمال کرتے ہوئے اس ملک کو خیر باد کہا اور دیار غیر میں جابسے۔مگر اس دیار غیر نے اسے اپنوں سے بھی زیادہ اپنائیت دی اور ان کے کوچ کرنے کے فیصلے کی وجہ سے آج ان کا بیٹا ترقی کی کئی منازل طے کررہا ہے۔ایک بس ڈرائیور کے بیٹے کا میئر آف لندن کے لئے امیدوار مقرر ہونا برطانوی سماج کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس قسم کی کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہمارے سماج کو صدیوں کی مسافت طے کرنا ابھی باقی ہے۔صادق خان کے والد اگر برطانیہ جانے کا فیصلہ نہ کرتے تو نجانے صادق خان یہاں کونسی خاک چھان رہے ہوتے۔ویسے ہمارے پڑوسی ملک، جس سے ہم کئی طرح کے مقابلے کرتے نہیں تھکتے ، وہاں پر بھی ایک چائے کے ڈھابے پر کام کرنے والا آج ان کا وزیراعظم ہے۔
اب دل اداس کردینے والی دو خبریں بھی سن لیں۔گذشتہ قریب ایک مہینے سے سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این پر دو خبریں متواتر دکھائی جار ہی ہیں۔ ایک خبر ان تین چھوٹی بچیوں کی ہے، جو گذشتہ کافی عرصے سے گلے کی ایک بیماری میں مبتلا ہیں۔ میڈیکل کی زبان میں اسے تھائی راڈ گلینڈس ڈس آرڈر کہتے ہیں۔تین بچیوں کا قصور یہ ہے کہ وہ ایک غریب باپ کی اولاد ہیں۔ جس کے پاس اپنی تینوں بیمار بچیوں کا علاج کروانے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی اپنی خالی جیب ہے۔ سندھی ٹی وی چینل کی ٹی این کی کوشش قابل ستائش ہے، جس نے مسلسل اس خبر کو اپنی ٹرانسمیشن کا حصہ بنائے رکھاہے۔ ایک مہینے سے زائد وقت تک اس خبر کو نشر کرنے کے بعد کل بہرحال یہ خبر سننے کو ملی ہے کہ سندہ سرکار نے اپنے شہریوں پر رحم کرتے ہوئے ان تین میں سے فی الحال ایک بچی کا آپریشن کیا ہے، جو کامیاب رہا ہے۔ اچھی بات ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ باقی دوبچیوں کا علاج بھی جلد ممکن ہوجائے گا۔ٹی وی فوٹیج میں دکھائی جانی والی ان تین چھوٹی معصوم بچیوں کی اداس شکلیں دیکھتے ہوئے ہر بار میں نے یہ سوچا یہ ملک آخر کن لوگوں کے لئے بنایا گیا تھا۔
چینل اس سے ملتی جلتی ایک اور خبر کو بھی گذشتہ تقریباً ایک ماہ سے بار بار آن ایئر کررہا ہے۔ یہ خبر ان چار بچوں کی ہے، جو جلد کے کینسر میں مبتلا ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کا پورا جسم سیاہ ہوچکا ہے اور آھستہ آھستہ ان کی بینائی بھی جاررہی ہے۔ ان کا غریب باپ اپنی تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کا علاج کرانے سے قاصر ہے۔ وجہ ظاہر ہے خالی جیب ہی ہے۔ چینل مسلسل سرکار اور طرح طرح کی فضولیات میں پیسہ ضایع کرنے والے امیر افراد سے آگے بڑہ کر مدد کی استدعا کررہا ہے مگر تاحال دکھوں کا مداوا نہ سرکار بن سکی ہے، نہ کوئی فلاحی تنظیم اور نہ ہی کوئی ایسا شخص سامنے آسکا ہے، جو ان پریشان حال زندگیوں کے لئے آسانی کا باعث بن سکے۔ چینل کے رپورٹر کے ایک سوال کے جواب میں ان بچوں نے بتایا کہ بیماری کے باعث وہ دنیا سے کٹ کر رہ گئے ہیں اور اب ان کے دوست بھی ان سے ملنے نہیں آتے۔ یہ بات کہتے ہوئے بچی کے چہرے پر بے انتہا کرب کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے ایک ہی جملے نے ایٹمی ریاست کی اپنے شہریوں کے مسائل سے دلچسپی کی قلعی کھول دی تھی اوراسی ایک جملے میں مذہب کے نام پر قائم مملکت کی ناکامی کی داستان بالکل عیاں تھی۔جسے نہ پڑھ سکنے والے اصل میں اپنی بینائی کھوچکے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری سرکار کو اگر بلاول بھٹو زرداری کے جلسے منعقد کرانے ہوتے تو شاید ایک ہی حکم سے کروڑوں روپے خرچ کردیئے جاتے مگر ان نادار انسانوں میں سے ایک کا بھی تعلق آصف زرداری یاکسی اور طرم خان سے نہیں ہے۔ اس لئے ان کی مالی امداد شاید سرکاری خزانے پر بڑا بوجھ ڈال دے، اور پھر ہمارے حکمرانوں کے پاس بھلا اس قسم کی فضول باتوں پر کان دھرنے کے لئے وقت ہی کہاں ہے، وہ توآجکل اس بات پر پریشان ہیں کہ ان کے کچھ ہمنوا جو جیل کی ہوا کھانے پہنچ چکے ہیں، ان کو وہاں پر اچھا کمرا، بستر، اے سی، فرج اور زندگی کی دوسری سہولیات ملی ہیں کہ نہیں اور اگر عدالت نے ایسا حکم جاری نہیں کیا تو وہ اپنی صوابدید استعمال کرتے ہوئے ان تمام سہولیات کی فراہمی کا حکم صادر کردیتے ہیں، یہ وہ کام اتنی مستعدی سے کرتے ہیں کہ جیسے یہ قوم کی پہلی ترجیح ہو۔ جناب قائم علی شاہ جو شایدگذشتہ ساڑھے سات سالوں میں ایک بار بھی جیلوں کی حالت جانچنے کے لئے آفس سے نہیں اٹھے تھے، اچانک بمع خورشید شاہ اور ہوم منسٹر وہاں پہنچ گئے اور کئی ایک احکامات کے ساتھ ساتھ جیل کا کھانا بھی چکھ آئے۔( اخبا ر میں چھپی ہوئی تصویر میں وہ قورمہ چکھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں،جویقیناًجیل کے عام قیدیوں تک پہنچتے پہنچتے پانی والی دال میں دوبارہ تبدیل ہوچکا ہوگا۔)
صادق خان، امید کی جاتی ہے کہ آپ انتخاب جیت کر پاکستان سے تعلق رکھنے والے پہلے میئر آف لندن بن جائیں گے۔ مگرہر حال میں اپنے والد بزرگوار کی قدم بوسی ضرور کیجئے گا۔ کیونکہ اگر وہ انسانوں کی بستی میں جانے کا فیصلہ نہ کرتے تو آپ بھی کروڑوں لوگوں کی طرح زندگی کے دن ہی گن رہے ہوتے۔ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ آپ بے انتہا غریب رہ جاتے، آپ کی جیبیں بھی خالی ہوتیں اور آ پ کی اولاد بھی تھائی راڈ گلینڈ اور چمڑی کے کینسر میں مبتلا ہوتی اور کوئی ٹی وی چینل ان کی خبر ایک ماہ تک بار بار نشر کررہا ہوتا اور نہ کوئی سرکار ،نہ کوئی سماج کی بھلائی پر مامور تنظیم اور نہ کوئی انسان آپ کی مدد کو آتا۔ آپ بھی پھر اپنی اولاد کو ہرلحظہ مرتے دیکھتے اور خود بھی مرنے سے پہلے ہر لحظہ مرتے رہتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *