طالبان یا پارلیمان؟

hafeezچند دن پہلے کسی ٹی وی چینل پر انصار عباسی صاحب فرما رہے تھے کہ ہمارے ملک میں ملٹری اکیڈمی، سول سروس اکیڈمی اور پرائم منسٹر ہاو¿س میں لوگوں کو کانٹے چمچ کی مدد سے الٹے ہاتھ سے کھانا کھانا سکھایا جاتا ہے تاکہ یہ لوگ غیر ملکی مہمانوں کے سامنے ان لوگوں کی طرح سے کھا سکیں۔ ان کا زور اس بات پر تھا کہ چونکہ مذہب میں سیدھے ہاتھ سے کھانے کا حکم ہے۔بجائے خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے ہم اغیار کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔انہوں نے سپریم کورٹ کے اردو زبان کے نفاذ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ سپریم کورٹ اس قسم کے فیصلے تو دے رہی ہے لیکن یہ ایک مسلمان ملک ہے اور یہاں پر سود کا کاروبار عام ہورہا ہے جو کہ مذہبی تعلیمات کے خلاف ہے۔ لیکن اس پر عدالت کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔اور یہ ایک مایوس کن صورت حال ہے۔
ہمیں آج یہ سمجھ نہیں آیا کہ آخر یہ لوگ اس قوم سے چاہتے کیا ہیں؟ وہ کون سا ملک ہے جو کہ سود سے پاک ہے؟اور کیا امریکہ ، برطانیہ اور یورپی یونین کی معاشی خوشحالی کا انحصار سو د پر نہیں ہے؟ان لوگوں پر خدا کا کوئی عذاب کیوں نہیں آتا؟یا علامہ اقبال کے مصرعہ کے مطابق ’برق گرتی ہے توبیچارے مسلمانوں پر ‘ والا معاملہ ہے۔انصار عباسی صاحب جس بھی چینل پر بیٹھ جائیں یوں معلو م پڑتا ہے کہ وہ لوگوں کو پارلیمان، عدالت اور انتظامیہ کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر رہے ہیں یا پھر ان کی ساکھ خراب کررہے ہیں۔وہ بار بار نظام کو کوستے ہیں اور اس کو مذہبی تعلیمات کی رو سے غلط ثابت کرتے ہیں۔اس کے بعد وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ مذہبی قوانین کو اپنایا جائے۔ جبکہ ان مذہبی قوانین کا نفاذ یہاں پر موجود مختلف طبقہ ہائے فکر اور مسالک پر ایک طرح سے ممکن نہیں۔ یہ کون طے کرے گا کہ اس ملک میں کس مسلک کے ماننے والوں کی قوانین کو نافذ کیا جائے۔ کیونکہ ہرمسلک اپنی تعلیمات کو درست اور دوسرے مسلک کے فرد کو کافر قراردیتا ہے۔اس ملک میں منیر انکوائری کمیٹی کے سامنے مختلف مسالک کے جید علمائے کرام مسلمان کی متفقہ تعریف تو لانے میں ناکام رہے۔ ایسے میں یہ لوگ ایسا مذہبی نظام کیسے لے آئیں گے جو کہ سب کے لئے قابل قبول ہو۔
علماءاور مدارس کے اسی گول مول کردار کو ٹھیک کرنے کے لئے آج کل مدارس کے حوالے سے ریفارمز ہورہی ہیں۔اور ان کے کھاتوں کا حساب کتاب رکھنے کی بات کی جارہی ہے۔ جس پر علماءکافی سیخ پا ہیں۔ یہ لوگ اپنے پیسوں کے آڈٹ سے جو اتنا ڈر رہے ہیں یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ماضی میں کچھ مدارس جہاد افغانستان کے لئے استعمال ہوئے ہیں اور حالیہ دہشت گردی کے پیچھے کچھ مدارس کے لوگ ہیں۔ اور اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جن مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے ان کو لگا م دی جائے گی۔ ہم حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے یہ امید کرتے ہیں کہ مدارس کے خلاف قانو ن کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور جو مدارس ٹھیک ہیں ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی جبکہ ان مدارس سے سختی سے نمٹاجائے گا جو دہشت گردی میں ملوث ہیں۔یہ کوئی گنا ہ کی بات نہیں کہ مدارس کے خلاف یا ان کے مشکوک کردار کے حوالے سے بات کی جائے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں میڈیا کافی حد تک آزاد ہے۔ اگر کسی فریق نے اپنا کیس لوگوں کے سامنے پیش کرنا ہے تو وہ اس کاسہارا لے۔اور لوگ یقیناً اچھے لوگوں کا ساتھ دیں گے۔اس کے علاوہ یہاں پر عدالتیں کام کررہی ہیں۔ اگر کسی کو شبہ ہو کہ ہماری ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو وہ ان عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائے۔ لیکن جو لوگ مذہب کا سہارا لے کر حکومت کو بلیک میل کرنا چا ہتے ہیں اورنظام کو کفر قرار دیتے ہیں ان سے بھی پہلی فرصت میں نمٹنا چاہیے۔
دوسری طرف انصارعباسی اور ہمنوا پارٹی کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ بے وقت کی راگنی چھیڑنا بندکردیں اور ملک میں ایک ایسے نظام کی تشکیل کےلئے اپنا کردار اداکریں کہ جس میں لوگوں کو جان ومال کا تحفظ مل سکے۔ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو۔ لوگ دربدر نہ ہوں اور نہ ہی دنیا بھر میں اہل شام اور عراق کی طرح خوار ہوتے رہیں۔ کیونکہ وہاں بھی مذہبی سیاست کے نام پر لوگوں کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیاگیا ہے۔ آج کے اس دور میں ہمیں بہت محتاط ہوکر چلنا ہوگا۔ کسی بھی قسم کی شدت پسندانہ سوچ اس ملک کی کرم خوردہ عمارت کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اب جبکہ اس ملک میں پارلیمان کا ادارہ مضبوط ہورہا ہے تو ضروری ہے کہ مسائل کے حل کے لئے اسی کو استعمال کیا جائے اور ہرقسم کے مذہبی تعصب کو بلائے طاق رکھ کر فرد کو اپنی آزادی کے مطابق زندگی گذارنے دی جائے۔نہ کہ صبح وشام فتوے دے کراسے شدت پسندی کے لئے ابھارا جائے۔
یہ انصار عباسی اور اوریا مقبول جان جیسے ہی لوگ ہیں جو کہ مذہبی شدت پسندی کو ہوا دیتے ہیں اور بعد میں جب معاملات خراب ہوجاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمارے کہنے کا مقصد تو یہ نہیں تھا۔ حالانکہ جو کچھ طالبان کررہے ہیں وہ تو ان احباب کے نظریے کو فروغ دینے کی ایک ادنیٰ ٰ سی کوشش ہی تو تھی جس کی وجہ سے خیبر سے لے کر کراچی تک لاشوں کے ڈھیرلگ گئے اور تقریباً پچاس ہزار لوگ اس جنگ میں جان سے گئے۔ کیا یہ کافی نہیں؟ مذہب کے نام پر اور کتنا خون بہانا ہے۔ کتنے لوگوں کے خون سے ان لوگوں کا کلیجہ ٹھنڈا ہوگا؟کیا اے پی ایس کے معصوم بچوں کا خون اور ہزاروں گھرانوں کے افراد کا خون ناحق ان کو لوگوں کو خوش کرنے کے لئے کافی نہیں یا پھر یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگوں کی حالت بھی شامیوں جیسی ہوجائے جن کاملک ان پر تنگ کردیا گیا ہے۔ جن کے بچے ،بوڑھے ، عورتیں سمندر برد ہورہے ہیں؟کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں کے چوکوں چوراہوں پر وحشت اور دہشت کا ننگا کھیل کھیلا جائے اور لوگوں کی گردنیں اتاریں جائیں یا پھر ان کو زندہ آگ کے اوپر بھونا جائے کہ جیسا داعش والے وہاں کررہے ہیں۔یہ سب دیکھ چکنے کے بعد اب ہم لوگوں نے سوچنا ہے کہ تبدیلی پارلیمان کے ذریعی اچھی ہے یا طالبان کے ذریعے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *