رینجرز کے پاس احتساب کرنے کا کوئی مینڈیٹ نہیں، وزیر داخلہ

nisarوفاقی وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ رینجرز کو احتساب کی دعوت دینا نہ تو قانون کے دائرے میں آتا ہے اور نہ کراچی یا کسی دوسری جگہ ان کے پاس ایسا کوئی مینڈیٹ ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے رینجرز کو خیبر پختونخوا میں احتساب کرنے کی دعوت دیتے ہوئے زور دیا تھا کہ پنجاب میں بھی سندھ کی طرح کرپشن ختم کرنے کیلئے آپریشن کی ضرورت ہے۔اپنے بیان میں وزیرِداخلہ نے کہا کہ ہر ایک کو اظہارِ رائے کی کھلی آزادی ہے مگر یہ آزادی آئین اور قانون کی حدود میں رہ کر ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ’فوج کی کارکردگی اور قربانیوں کا سب کو اعتراف ہے مگر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج جنرل راحیل شریف اور پاک فوج کی ہر سطح پراس لئے دادِ تحسین ہے کہ وہ ا س فرض کو بخوبی نبھا رہے ہیں جو آئین اور قانون نے ان کو تفویض کیا ہے‘۔وزیرِداخلہ نے کہا کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی خاطر فوج یا رینجرز سے ایسے مطالبے کرنا نہ صرف ان اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش کے مترادف ہے بلکہ یہ کراچی آپریشن کو بھی اس کے اصل مقصد سے ہٹانے کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ریاستی اداروں میں رخنہ اندازی کی کوششیں کرنا جمہوری نظام کی بقا اور مضبوطی کے منافی ہے۔ ’میں حیران ہوں کہ ایک سیاسی پارٹی کے رہنما نے ایسا مطالبہ کس طرح کیا ہے‘۔وزیرِ داخلہ نے کہا کہ یہ امر قابل ِ تشویش ہے کہ سیاسی بیان بازی میں رینجرز اور فوج کے کردار کو بار بار زیرِبحث لا کر اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی خاطر بلا وجہ سکیورٹی اداروں کے کردار اور کارکردگی کو موضوع بنا کر ان کوسیاسی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افواجِ پاکستان اور رینجرز کے کردار اور کارکردگی کو اس انداز سے اپنے سیاسی بیانات کا حصہ بنانا ناقابلِ فہم اور غیر مناسب ہے اور غیر ضروری اور غیر متعلقہ امور میں سکیورٹی اداروں کو ملوث ہونے کی دعوت دینا غیر دانشمندانہ فعل ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *