قائداعظم کا پاکستان یا لیاقت علی خان کا پاکستان ؟

asim jan15جون 2014ء کو فوج نے شمالی وزیرستان آپریشن شروع کیا اور دس لاکھ پاکستانیوں کو، جن میں بوڑھے،عورتیں اور بچے شریک تھے، اپنے گھروں سے بندوق کی زور نکال باہر کر بنوں شہر کے باہر بیابان میں خیموں میں دھکیل دیا۔ اسی برس 16دسمبرکو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان نے حملہ کرکے بے گناہ بچوں کو مار دیا۔ اس کے بعد سے سول سوسائٹی، اخباروں اور میڈیا میں ڈیبیٹ پھر سے گرم ہوگئی کہ پاکستان ان حالات تک کیسے پہنچا ، اور اس سے نکلا کیسے جائے؟
وسعت اللہ خان اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ مسئلے کی بنیادوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، ’’آپ کا غصہ بجا مگر آپ کب یہ بات سمجھیں گے کہ ہر بار محض ایکشن کا ری ایکشن کوئی حکمتِ عملی نہیں ہوتی۔ کیا کسی درخت کے پتے جھاڑنے سے اس کا وزن ہلکاہوا ہے جب تک جڑ پر ہاتھ نہ ڈالیں۔‘‘
مگر اپنی تحریر کا اختتام لبرلز میں مقبول مگر گھسے پٹے جملے سے کرتے ہیں کہ ’’پاکستان موجودہ دگرگوں صورت حال تک اس لیے پہنچا کہ ہم 1948ء کے بعد قائد اعظم /مسلم لیگ کے ویژن سے ہٹ گئے۔ وہ لکھتے ہیں۔۔۔آپ کو بالآخر تعمیر کیا کرناہے؟ 11 اگست 1947کا محمد علی جناح کا پاکستان یا بعد از جناح کا قراردادِ مقاصدوالا پاکستان؟ کوئی ایک راہ چن لیں‘‘
میرے خیال میں وسعت اللہ خان مسئلے کی جڑ تک اب بھی نہیں پہنچے۔ اس کے لئے 11 اگست 1947ء کی قائد اعظم والی تقریر سے بھی پیچھے متحدہ ہندوستان میں مسلم اشرافیہ کی تحریک میں جانا پڑے گا۔ لیاقت علی خان کی پاس کردہ 1949ء کی قرار دادِ مقاصد اور اس کے بعد سے آج تک جو کچھ ہو رہا ہے وہ قبل از تقسیم ہندوستان کی مسلم اشرافیہ کی مسلم لیگ جھنڈے تلے ’’مسلم علیحدگی پسندی کی تحریک‘‘ کا منطقی انجام تھا، نہ کہ کوئی اچانک حادثہ۔
1937ء کے الیکشن میں مسلم لیگ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے ووٹوں میں سے محض 6.4 فیصد ووٹ لے سکی۔ مسلم اکثریتی صوبوں سرحد، پنجاب اور سندھ میں بھی مسلم لیگ حکومت نہ بناسکی اور وہاں عوام کی بڑی تعداد نے مسلم لیگ کے بجائے دوسری پارٹیوں کو ووٹ دیا۔ مگر نو سال بعد جب 1946ء کے الیکشن ہوئے تو اس نے45لاکھ ووٹ حاصل کیئے جو کل مسلم ووٹوں کا 70فیصد تھے۔ اور یوں اس نے کْل 335صوبائی اور مرکزی سیٹوں میں سے 63نشستیں جیتیں۔
سوال یہ ہے کہنو سال کے مختصر عرصے میں مسلم لیگ نے اپنی مقبولیت میں اتنی بڑی تبدیلی کیسے حاصل کی۔اس کا سبب تھا اسلامی نعروں و علامتوں کا سیاسی استعمال اور مستقبل کے پاکستان میں شرعی قوانین بنانے کے وعدے :
اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلم لیگ نے مقبولیت حاصل کرنے کے لیے اپنی حمایت کو مذہب سے ملا دیا۔ قائد اعظم نے مسلم لیگ کی مخالفت کرنے والے کسی بھی شخص کو مسلمانوں کا غدار کہا۔ چند مرکزی رہنماؤں، جیسے فضل الحق نے تو یہاں تک کہا کہ جس نے مسلم لیگ کی مخالفت کی اس نے خود اسلام کے مقاصد کو دغا دی۔ اپنے آپ کواسلامی پارٹی دکھانے اور دوسرے مسلمان جماعتوں کو غیر اسلامی دکھانے کے لیے مسلم لیگ نے پیروں اور علماء کو مسلم لیگ میں شامل کیا۔ سرحد میں خدائی خدمت گار تحریک اپنی عوامی خدمات اور انگریز کے ظلم کے خلاف مزاحمت کرنے کی وجہ سے عوام میں مقبول تھے۔ ادھر مسلم لیگ محض چند بڑے زمینداروں پر مشتمل تھی جو عوام میں مقبول نہیں تھے۔ وہاں مسلم لیگ کو لانے کے لیے پیر آف مانکی شریف کی خدمات لیں۔ بدلے میں قائدآعظم نے انہیں اپنے نومبر 1945کے خط میں یقین دلایا:
" اس بات پر زوردینے کی ضرورت نہیں کہ وہ آئینی اسمبلی جس میں اکثریت مسلمانوں کی ہوگی وہ ایسے قوانین بنا سکے گی جو شریعت کے مخالف نہیں ہوں گے اور مسلمان اب مزید غیر اسلامی قوانین پر چلنے پر مجبور نہ ہوں گے ۔"
مسلم لیگ کے جلسوں میں، خاص طور پر جو مسلم اکثریتی علاقوں میں منعقد ہوتے، وہاں قائدآعظم کی تقریروں میں اسلام، اسکے نعروں اور علامتوں کا استعمال بہت نمایاں ہوگیا۔ سرحد میں پٹھانوں کے سامنے تقریر کرنے ہوئے وہ بولے:’’ آپ کو پاکستان چاہیے کہ نہیں ؟[اللہ اکبر کے نعرے] اگر چاہیے تو مسلم لیگ کے نمائندوں کو ووٹ دو۔ اگر آج ہم نے اپنی ڈیوٹی پوری نہ کی تو آپ شودر بن کر رہ جاؤ گے اور ہندوستان سے اسلام ختم ہوجائے گا۔ میں کبھی بھی مسلمانوں کو ہندوؤں کا غلام بننے نہیں دوں گا۔‘‘
ایک مشائخ کمیٹی 1946 میں بنائی گئی جس میں نامور پیر اور مشائخ نامزد کیے گئے۔ اس میں مذہبی رہنماء جیسے پیر آف مانکی شریف، پیر جماعت علی شاہ، خوجہ ناظم الدین آف تونسہ شریف، مخدوم رضا شاہ آف ملتان، وغیرہ تھے۔ مگر اس کمیٹی میں نارمل سیاسی لیڈران کو بھی پیر بنا کر دکھایا گیا۔ مثلاخان افتخار حسین خان آف ممدوٹ کو 'پیر ممدوٹ شریف' لکھا گیا، سردار شوکت حیات خان کو 'سجادہ نشین واہ شریف'، ملک فیروز خان نون کو دربار سرگودھا شریف اور نواب محمدحیات قریشی کو سجادہ نشین سرگودھا شریف۔۔۔ یعنی ان زمیندارسیاسی لیڈران کوعوام کے سامنے پیر بنا کر پیش کیا گیا تاکہ الیکشن میں مذہب کے نام پر ووٹ لیے جاسکیں۔
ساتھ ہی علماء کو بھی مسلم لیگ کی تشہیری مہم کا حصہ بنایا گیا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے مسلم لیگ کی الیکشن مہم میں دل و جان سے شرکت کی۔ انہوں نے اپنی خطبات میں کہا کہ مسلمانوں کو مسلم لیگ کو ووٹ دینا چاہیے کیونکہ وہ ایک مسلم ریاست کے قیام کے لیے کوشاں تھی جس میں اسلامی قوانین اور روایات کی بنیاد پر حکومت بن سکے گی۔ انہوں نے مسلم لیگ کے مخالفین کو اسلام اورمسلمانوں کے مفادات کے دشمن کہا :
’’جس شخص نے مسلم لیگ کے مخالفین کو ووٹ دیا تو اسے اپنے اس عمل کو اپنی قوم کے مفادات پرپڑنے وا لے حتمی نتائج کا خیال رکھنا چاہِیئے۔ اور آخرت میں اس شخص سے اپنے اس عمل کا جو جواب لیاجائے گا،اس کا ضرور سوچنا چاہیے۔ ‘‘
اپنی بات کو مذہب سے ثابت کرنے کے لیے مولانا عثمانی نے ہندوستان کے مسلمانوں کے بیسویں صدی کے اس سیاسی مسئلہ کو اسلام کی شروعات سے جوڑ دیا اورپاکستان کو مدینہ سے تشبیہ دی۔ جب یہ اعتراض کیا گیا کہ اگر جدا ملک بنا تو بہت سارے مسلمان ہندوستان میں رہ جائے گے تو عثمانی صاحب نے کہا کہ مسلمانوں نے اسلامی ریاست بنانے کے لیے مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور اس دوران بیماروں اور بزرگوں کو مکہ میں ہی چھوڑ دیا۔ تو اسی طرح ہندوستان میں رہ جانے والے 3کروڑ مسلمانوں کو 7 کروڑ مسلمانوں کی خوشی اور بہتری کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
لیاقت علی خان نے خود مولانا ظفر احمد عثمانی کو ایک خط میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے الیکشن اور خاص طور پر ان کی اپنے حلقہ میں مدد پر علماء کے عظیم کردار کا اعتراف کیا۔
مولانا ظفراحمد عثمانی کے مطابق قائدآعظم نے خود علماء کو مسلم لیگ کی اس کیمپین میں مدد کی درخواست کی۔ مولانا ظفر احمد عثمانی کو آسام کے ضلع سلہٹ بھیجا گیا۔ اور مولاناشبیر احمد عثمانی کو سرحد کے ریفرینڈم کے لیے مختص کیاگیا۔ سلہٹ اور سرحد، دونوں کے ریفرنڈم میں سب سے فیصلہ کن رول مذہب کا رہا۔ لوگوں کو کہا گیا کہ جو سلہٹ کو آسام میں رہنے کا ووٹ دے گا وہ 'کافر' ہے۔ اسی طرح سرحد کے ریفرنڈم میں پیر آف مانکی شریف، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا عبدالستار نیازی کے رول کے بغیر مسلم لیگ کا ریفرنڈم جیتنا ناممکن تھا۔ ان مقرّروں نے اپنی تقریروں میں جو منطق استعمال کی وہ مولاناعبداستار نیازی کی اس تقریر سے واضح ہوتی ہے:
’’ہمارے سامنے دو متبادل ہیں۔ یا تو ہندوستان میں شامل ہوں جس کے معنی ہندو بنیے کی غلامی مان لینا۔ یا پھر مسلم امّہ، یعنی مسلم صوبوں کی فیڈریشن میں شامل ہوں۔ ہر پٹھان ہندو راج کے سامنے سجدہ ریز ہونا اپنی توہین سمجھتا ہے اور وہ خوشی سے اپنے اسلامی بھائیوں کے ساتھ پاکستان کی اسمبلی میں بیٹھنا پسند کرے گا۔ ایک پٹھان اوّل اور آخر مسلمان ہوتا ہے۔‘‘
قائداعظم شروع میں سیاست میں مذہب کے استعمال کے خلاف تھے۔ 1918-1921 کی خلافت تحریک سے اسی لیے بالکل لاتعلق رہے۔ یہاں تک کہ 1938 تک بھی ان کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس موقف پر قائم تھے جسے انہوں نے فخر سے کہا " میں نے اس طبقہ کے ڈر اور منفی رسوخ کو نہیں آنے دیا جو مولانا اور مولوی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔"
قائدآعظم سمیت مسلم لیگ کی تمام بالائی لیڈرشپ سکیولر تعلیم پڑھے ہوئے تھے۔ ان میں انگلستان سے پڑھے ہوئے وکیل بھی تھے۔ مسلم لیگ کی مسلم علیحدگی پیسندی تحریک کے پر جوش حامیوں میں انگریز کی سول بیوروکریسی میں ملازمت کرنے والی مسلم اشرفیہ کے ممبر بھی تھے جو سیکولر مزاج رکھتے تھے۔ مسلم لیگ تحریک کے لیے لیگ ورک علی گڑھ کے نوجوان طالب علموں نے کیا۔ یہ سب بھی سیکولر تعلیم پڑھ رہے تھے۔ لیکن ان سب نے ایک سیکولر سیاسی تحریک کے لیے بڑھ چڑھ کر مذہب کا استعمال کیا اور نئے بننے والے ملک کو ایک 'اسلامی جنت' کے طور پر عام عوام کے سامنے مارکیٹ کیا۔ علماء اور پیروں کا پاکستان تحریک میں کوئی خودمختار کردار نہیں تھا، بلکہ مسلم لیگ کی سیکولر لیڈرشپ نے حسب ضرورت ان کو استعمال کیا، لیکن تحریک کی لیڈرشپ ہمیشہ اپنے ہی پاس رکھی۔
پاکستان بننے کے بعد یہی سلسلہ جاری رہا۔ لیاقت علی خان کی 1949والی قرار داد مقاصد، 1956ء کے آئین میں پاکستان کا نام 'اسلامی جمہوریہ' قرار دینا، 1969ء میں یحییٰ خان کے مشیر جنرل شیر علی خاں کا ’نظریہ پاکستان‘ کو 'اسلامی نظریہ' میں تبدیل کرنا، جنرل ضیا الحق کے دور میں مارشل لاء آرڈننس کے ذریعہ متعصبانہ مذہبی قوانین کا نفاذ اور پھر سے علما و مشائخ اور جماعت اسلامی جیسی جماعتوں کااستعمال، وغیرہ، وغیرہ۔ سب سیاست دان،جرنیل، بیوروکریٹ جو 1947ء سے آج تک پاکستان کے سیاہ و سفید کے حاکم رہے ان میں سے اکثریت مغربی یونیورسٹیوں سے پڑھے ہوئے تھے مگر یہ سیاسی مقاصد کے لیے اور اپنی حکمرانی کا جواز پیدا کرنے کے لیے کبھی مذہب کے استعمال سے نہیں چوکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *