Site icon DUNYA PAKISTAN

’بال ٹیمپرنگ پکڑنی ہے تو خود پکڑیں‘

Share

کسی بھی ایونٹ کی کامیابی کا دارومدار اس امر پر ہوتا ہے کہ وہ کتنی تیزی سے سماجی بیانیے کا حصہ بنتا ہے۔ پاکستان سپر لیگ فائیو کی خوبی یہ رہی ہے کہ ابھی افتتاحی تقریب کا آغاز ہی ہوا تھا کہ یہ سماجی بیانیے کا حصہ بن گئی۔

افتتاحی تقریب میں بد انتظامی نے منتظمین کی صلاحیتوں پر کئی بنیادی سوال اٹھائے ہیں۔ یہ سوالات زیادہ اہم اس لیے بھی ہیں کہ پاکستان سپورٹس بورڈ اس بار خود پورا ٹورنامنٹ براڈکاسٹ کر رہا ہے اور کئی خامیاں جو پہلے کبھی سامنے نہیں آئیں، اس بار کھل کر ظاہر ہو گئیں۔

گو یہ بات چنداں باعثِ فخر نہ تھی مگر عمر اکمل پر پابندی کی ٹائمنگ بھی اس کی اچھی خاصی تشہیر کا باعث بنی، اگرچہ تشہیر منفی ہی سہی۔

یہ تو تھے ضمنی عوامل۔ اصل موضوعِ سخن جسے رواج پانا تھا وہ تھی کرکٹ کوالٹی۔

رواں پی ایس ایل میں کرکٹ کوالٹی اس لیے بھی توجہ کا مرکز بننا تھی کہ ذرا دیکھیے طویل عرصے بعد اتنے بڑے ٹورنامنٹ کا بوجھ اٹھاتے پاکستانی وکٹیں کیا رنگ لائیں گی۔

کراچی کی وکٹ ابھی تک ٹی ٹونٹی کرکٹ کے لیے نہایت شاندار رہی ہے اور ہوم سائیڈ نے بہترین مجموعے تشکیل دیے۔ دوسری جانب لاہور کی وکٹ پہلے میچ میں تو اپنی گھاس کے باوجود سب کے لیے ہی نظر کا دھوکہ ثابت ہوئی مگر دوسرے میچ میں اچھی سپورٹنگ وکٹ دیکھنے کو ملی اور اسلام آباد نے نہایت سنسنی خیز مقابلے کے بعد فتح حاصل کی۔

عمر اکمل پر پابندی کی ٹائمنگ بھی پی ایس ایل کی اچھی خاصی تشہیر کا باعث بنی، گرچہ منفی ہی سہی

مگر حالیہ پی ایس ایل سیزن کی بہترین کرکٹ ہمیں ملتان کی وکٹ پر دیکھنے کو ملی ہے۔

بدھ کی شب ٹاس کے وقت شان مسعود نے پہلے بولنگ کا فیصلہ محض اسی بنا پر کیا تھا کہ وہ ملتان کی وکٹ کو جانچنا چاہتے تھے اور دیکھنا چاہتے تھے کہ یہاں اچھا ہدف کیا ہو گا۔

ملتان پاکستان کے تمام تر سٹیڈیمز میں سے جدید ترین ہے اور یہاں کی وکٹ عموماً بلے بازوں کے لیے سہاگہ ثابت ہوتی ہے۔ اسی وکٹ پر کوئی دو عشرے پہلے تندولکر اور سہواگ نے پیٹ پیٹ کر پاکستانی بولنگ کا حشر نشر کر دیا تھا۔

مگر کل شب جو وکٹ ہمیں دیکھنے کو ملی، اس سے یکبارگی لگا کہ میچ ملتان میں نہیں، شاید میلبرن میں ہو رہا ہے۔ اس وکٹ میں غیر متوقع باؤنس بھی تھا، گیند کو گرفت بھی ملی اور اچھی سیم موومنٹ بھی دیکھنے کو ملی۔

ٹی ٹوئنٹی میں رنز کی برسات تو معمول کی بات ہے۔ لیکن جب ٹی ٹوئنٹی میں رنز رکتے ہیں تو مقابلہ دلچسپ صورت حال اختیار کر جاتا ہے۔ ڈیرن سیمی کی طویل ’ٹیسٹ اننگز‘ اس بات کی عکاس تھی کہ پی ایس ایل میں کرکٹ کی کوالٹی کس نہج تک پہنچ چکی ہے۔

ملتان پاکستان کے تمام تر سٹیڈیمز میں سے جدید ترین ہے اور یہاں کی وکٹ عموماً بلے بازوں کے لیے سہاگہ ثابت ہوتی ہے

حوصلہ افزا بات یہ رہی کہ دبئی کے برعکس ملتان میں رنز کم بننے کی وجہ وکٹ کی سستی نہیں تھی جیسا عموماً بنگلہ دیش پریمئیر لیگ میں ہوتا ہے۔ بلکہ یہاں ٹوٹل کم بننے کی وجہ وکٹ کی روٹین سے زیادہ تیزی تھی۔

کرکٹ لیگز کی تشہیر میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ اگرچہ پاکستانیوں کی اکثریت کو بگ بیش لیگ سے کوئی سروکار نہیں مگر اس سیزن میں حارث رؤف کی پرفارمنس اس طرح سے خبریں بنا رہی تھی کہ بادلِ نخواستہ بھی کئی لوگوں کو متوجہ ہونا ہی پڑا۔

اسی طرح سے رواں پی ایس ایل میں بھی ایسی کئی پرفارمنسز ہو چکی ہیں اور کئی ابھی آنے کو ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ایمرجنگ پلیئرز کو ہوم کراؤڈ کے سامنے پرفارمنس کا موقع مل رہا ہے اور ایسے میں حیدر علی یا محمد الیاس جیسے ٹیلنٹ کے لیے انٹرنیشنل لیول تک پہنچنے کا راستہ طویل نہیں رہتا۔

تنازعات بھی ایسے ٹورنامنٹس کا حصہ بن چکے ہیں۔ سرفراز احمد نے پشاور زلمی پر بال ٹیمپرنگ کا الزام لگا کر دراصل کوئی نئی پٹاری نہیں کھولی بلکہ اندر کی بات کو ہی ذرا باہر کی ہوا لگوا دی ہے۔

بال ٹیمپرنگ وہ مسئلہ ہے کہ مختلف مواقع پر کئی پی ایس ایل پلیئرز ڈھکے چھپے، کونوں کھدروں میں اس پر تحفظات کا اظہار کرتے پائے گئے ہیں۔

سرفراز احمد نے پشاور زلمی پر بال ٹیمپرنگ کا الزام لگا کر دراصل کوئی نئی پٹاری نہیں کھولی بلکہ اندر کی بات کو ہی ذرا باہر کی ہوا لگوا دی ہے

مگر خوفِ فسادِ خلق ہے یا کچھ اور کہ کوئی بھی یہ بات سرِ عام نہیں کہتا۔ سرفراز نے پہلی بار اس کا بیڑا اٹھایا مگر ان کا بیڑا محض پریس کانفرنس میں چھوڑے گئے شوشے کے سوا کچھ ثابت نہ ہوا کیونکہ الزامات کو ’پبلک‘ کرنے کے بعد ایک معینہ وقت کے اندر متعلقہ پارٹی کا پی سی بی سے رسمی شکایت درج کروانا بھی ضروری ہوتا ہے۔

اس پیرائے میں کوئٹہ کی جانب سے کوئی سرگرم ردِعمل دیکھنے کو نہیں ملا اور پی سی بی نے معاملہ برخاست کر دیا ہے۔

لیکن چونکہ پی سی بی اس بار پورے ٹورنامنٹ کی پروڈکشن اور براڈکاسٹنگ خود کر رہا ہے تو کوئی حرج نہیں اگر بال ٹیمپرنگ پر خود ہی کڑی نظر رکھ لی جائے۔ بالآخر کیپ ٹاؤن کا بدنامِ زمانہ سینڈ پیپر گیٹ بھی کسی کھلاڑی کی رپورٹ پر سامنے نہیں آیا تھا بلکہ ہوم براڈکاسٹر سُپر سپورٹس کی ذاتی کاوش سے ہی سامنے آیا تھا۔

سو اگر کھیل کی شفافیت کو برقرار رکھنا ہے تو پی سی بی کو خود بال ٹیمپرنگ پر نظر رکھنا ہوگی نہ کہ رسمی شکایات کے اندراج کا انتظار کرتے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا رہے۔

Exit mobile version